ناروے میں امریکی سفارت خانے کے باہر دھماکہ
اوسلو پولیس کل رات اوسلو میں واقع امریکی سفارت خانے کے باہر ہونے والے دھماکے کے الزام میں ابھی تک کسی شخص کر گرفتار نہیں کرسکی۔ اس سلسلہ میں کوئی مشتبہ بھی نہیں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لے رہی ہے۔
کل رات ایک بجے کے قریب مغربی اوسلو میں واقع امریکی سفارت خانے کو جانے والے ایک راستے پر ایک دھماکہ ہؤا۔ قیاس ہے کہ یہ دھماکہ بارودی مواد پھینکنے سے ہؤا ہے تاہم ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کیا یہ گرنیڈ قسم کی کوئی چیز تھی یا کوئی یہ خود ساختہ بم تھا۔ پولیس نے دہشت گردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے اور اس کا ہر پہلو سے اس پر غور کیا جارہاہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگی صورت حال میں دہشت گردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن ابھی تک ملنے والے شواہد سے اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ ناروے کی انٹیلی جنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے ناروے میں حملوں کے اندیشوں کی سطح میں اضافہ نہیں ہؤا تاہم خفیہ پولیس بھی اوسلو پولیس کے ساتھ مل کر اس معاملہ کا جائزہ لے رہی ہے۔
مقامی اخبار دے گے نے اطلاع دی ہے کہ جس وقت یہ دھماکہ ہؤا، عین اسی وقت گوگل میپس پر ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں ایران کے مرحوم رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خانہ ای کو دکھایا گیا ہے۔ پولیس نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے لیکن اس کا سفارت خانہ کے باہر ہونے والے دھماکے سے تعلق کی تصدیق نہیں کی گئی۔