سعودی عرب کی طرف سے ایرانی حملوں کے خلاف ضروری اقدامات کا اعلان

  • سوموار 09 / مارچ / 2026

سعودی عرب نے ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے جو نہ صرف سعودی عرب بلکہ خلیجی تعاون کونسل کے متعدد عرب، اسلامی اور دوست ممالک کے بھی خلاف ہیں۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول یا قابلِ جواز نہیں ہیں۔ سعودی عرب نے ایران پر واضح کیا کہ اسے اپنی سلامتی، خودمختاری، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا پورا حق حاصل ہے، تاکہ جارحیت کو روکا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں اور تیل کی سہولیات کو نشانہ بنانا صرف سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

ایران کے صدر کے اس بیان کے حوالے سے کہ پڑوسی ممالک پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں، سعودی عرب نے کہا کہ ’ایران نے اس دعوے کو عملی طور پر ثابت نہیں کیا اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر حملے جاری رکھے، جن میں یہ جھوٹا دعویٰ بھی شامل ہے کہ سعودی عرب سے لڑاکا طیارے اور ایندھن بردار جہاز جنگ میں شریک ہوئے۔ حالانکہ وضاحت کی گئی تھی کہ ان کا مقصد صرف فضائی نگرانی اور خلیجی ممالک کو ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے بچانا تھا۔

سعودی عرب نے زور دیا کہ ایران کے مسلسل حملے مزید کشیدگی کو جنم دے رہے ہیں، جس کے دو طرفہ تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ سعودی عرب نے کہا کہ ایران کے موجودہ اقدامات کشیدگی کم کرنے کی کوئی سنجیدہ خواہش ظاہر نہیں کرتے اور اس بڑھتی ہوئی کشیدگی میں سب سے بڑا نقصان ایران کو ہی ہوگا۔