مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب: ایران پر انتہا پسند قیادت کی گرفت
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 09 / مارچ / 2026
ایران کی مجلس خبرگان رہبری کے 88 ارکان نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو رہبر اعلیٰ مقرر کرکے درحقیقت جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ انتخاب ایرانی نظام حکومت میں انتہا پسند عناصر کی فتح ہے اور پاسداران انقلاب کو مزید طاقت عطا کرے گا۔ امریکی صدر دو روز پہلے مجتبیٰ کو ’ناقابل قبول‘ قرار دے چکے تھے، اس لیے یہ انتخاب تہران کی طرف سے یہ اعلان بھی ہے کہ امریکی خواہشات پوری نہیں کی جائیں گی۔
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو کسی سرکاری عہدے پر کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کبھی کسی پبلک پلیٹ فارم پر نمودار ہوئے ہیں۔ البتہ انہیں اپنے والد علیٰ خامنہ ای کی قربت حاصل تھی اور وہ ان کی زندگی میں ان کے معتمد ترین نائبین میں شامل تھے۔ بلکہ بعض ذرائع تو یہ بھی کہتے ہیں کہ علی خامنہ تک رسائی مجتبیٰ کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ ایران کے رہبر اعلیٰ کو ہلاک کرنے کے لیے 28 فروری کو ہونے والے حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کے والدین کے علاوہ ان کی اہلیہ بھی جاں بحق ہوئی تھیں۔ اس لیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جس شخص نے امریکی و اسرائیلی حملوں میں ماں باپ اور بیوی کو کھو دیا ہے، وہ دشمن کے مقابلے میں کسی نرمی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
یہ انتخاب ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب اسرائیلی فوج کسی بھی نئے ایرانی لیڈر کو ہلاک کرنے بلکہ ان تمام لوگوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کرچکی تھی جو اس انتخاب میں حصہ لیں گے۔ چند روز پہلے قم میں اسرائیلی طیاروں نے اس عمارت کو نشانہ بھی بنایا تھا جہاں مجلس خبرگان رہبری کا اجلاس ہونے والا تھا۔ اسی لیے نئے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتے ہوئے 88 رکنی مجلس کا اجلاس منعقد نہیں ہؤا بلکہ مجلس کے سیکریٹریٹ نے ارکان سے رابطہ کرکے ان سے امیدواروں پر اتفاق رائے حاصل کیا اور بعد میں اس کا اعلان کردیا گیا۔ نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب کے بارے میں مجلس کے بیان میں کہاگیا ہے کہ ’شدید جنگی حالات، اس عوامی ادارے کے خلاف دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں اور اس کے باوجود کہ سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں عملے اور سکیورٹی ٹیم کے کئی ارکان شہید ہوئے، اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں ہوئی‘۔ بیان پڑھنے کے بعد ٹی وی اینکر نے ’اللہ اکبر، اللہ اکبر، خامنہ ای رہبر ہیں‘ کا نعرہ بھی لگایا۔
تاہم ایران کے معتدل مزاج رہنما اس عجلت سے مطمئن نہیں ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ہوجانے کے باوجود اس کا اعلان ہونے میں تاخیر کا سبب بھی یہی تھا کہ مجلس کے متعدد ارکان کا کہنا تھا کہ رہبر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے جلدی نہ کی جائے اور اس کے لیے مجلس کا باقاعدہ اجلاس منعقد ہونا ضروری ہے۔ تاہم انہیں باور کرایا گیا کہ موجودہ جنگی حالات میں تاخیر کی بجائے فوری طور سے قائد کا انتخاب اہم ہے تاکہ دشمن کا مقابلہ کیا جاسکے اور قومی پالیسی کسی تعطل اور کمزوری کا شکار نہ ہو۔ اس کے برعکس نظام ہی کا حصہ بعض لیڈروں کا کہنا تھا کہ جنگی حالات کی وجہ سے عبوری سربراہی کونسل معاملات دیکھ رہی تھی اور اس انتخاب میں جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یوں بھی آیت اللہ علی خامنہ ای اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کو نیا لیڈر بنانے کے خیال کو مسترد کرچکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلابی حکومت میں موروثیت نہیں ہونی چاہے۔ 1979 میں برپا ہونے والا ایرانی انقلاب درحقیقت شاہی موروثیت ہی کے خلاف تھا۔ البتہ کسی نہ کسی عذر کی بنا پر مرحوم لیڈر کے بیٹے کو نیا لیڈر بنا کر اسلامی انقلابی حکومت نے خود موروثیت کی بنیاد رکھ دی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای دینی تعلیم کے لحاظ سے بھی اس رتبے پر فائز نہیں ہیں جو اس اعلیٰ دینی عہدے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ دینی تعلیم کے لحاظ سے انہیں ’حجت الاسلام‘ کا رتبہ حاصل ہے جو آیت اللہ کے رتبے سے کم تر ہے۔ تاہم ایران میں میڈیا اور سرکاری ذرائع نے نیا رہبر مقرر ہونے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو آیت اللہ کہہ کر پکارنا شروع کردیا ہے۔ اس لیے قیاس کیا جارہا ہے کہ انہیں بھی اپنے والد کی طرح رہبر اعلیٰ بننے کے بعد آیت اللہ بنا دیاجائے گا یا مان لیا جائے گا۔ ان کے والد علیٰ خامنہ ای بھی 1989 میں رہبر اعلیٰ بننے سے پہلے آیت اللہ نہیں تھے لیکن ایران میں اعلیٰ ترین عہدہ ملنے کے بعد انہیں آیت اللہ بنا دیا گیا تھا۔
نیا رہبر اعلیٰ مقرر ہونے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے کوئی حکم یا بیان جاری نہیں کیاجس سے ان کے لائحہ عمل یا پالیسی کا اندازہ ہوسکے۔ البتہ پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ’احترام، عقیدت اور اطاعت‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی آر سی ان کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی کامیابی کی بنیاد بھی درحقیقت پاسداران انقلاب کے ساتھ ان کا گہرا ربط و ضبط ہے۔ اسی فورس کو ایرانی سیاست و معیشت میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد بھی پاسداران انقلاب کے بہت قریب تھے۔ مجتبیٰ نے بھی اسکول کے فوری بعد سے پاسداران کے ساتھ خدمات انجام دی تھیں اور عراق کے ساتھ طویل جنگ میں شامل رہے تھے۔ بعد میں اپنے والد کے نائب کے طور پر انہیں پاسداران کا اعتماد حاصل رہا۔ اب رہبر اعلیٰ کے طور پر ان کا انتخاب درحقیقت ایرانی سیاست میں پاسداران کی اہمیت و طاقت کا اظہار ہے۔ یہی فورس علی خامنہ ای کی ہلاکت کا انتقام لینے اور جنگ جاری رکھنے میں شدت پسند ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای بھی اسی پالیسی کی تائید کریں گے۔ اس لیے خیال کیا جارہا ہے کہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے باوجود مجتبیٰ کی صورت میں مرحوم لیڈر کی پالیسیاں جاری رہیں گی۔ یہ اندیشہ بھی موجود ہے کہ وہ ملک کی اپوزیشن اور حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف بھی سخت گیر رویہ اختیار کریں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز پہلے ایرانی رہبر اعلیٰ کے انتخاب میں براہ راست شرکت کا مطالبہ کرتے ہوئے مجتبیٰ کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا تھا۔ البتہ اب ان کے انتخاب کے بعد ایک طرف ایران نے اپنی خود مختاری پر اصرار کیا ہے تو دوسری طرف ٹرمپ حکومت کے لیے بھی یہ اہم سوال پیدا ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں کسی سفارتی رابطے کی صورت میں اسی نئے لیڈر کے ساتھ کیسے تعلقات استوار کرے گی۔ ایران کے اندر بھی کچھ بے چینی موجود ہے لیکن حالت جنگ میں کوئی بھی لیڈر اس انتخاب کے بارے میں کھل کر بات کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ ایسی صورت میں اسے آسانی سے ملک دشمن کہا جاسکتا ہے۔
یہ انتخاب دو روز پہلے صدر مسعود پزشکیان کی طرف سے ہمسایہ عرب ممالک کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں کے لیے بھی ذبردست جھٹکا ہے۔ اگرچہ صدر نے اعلان کیا تھا کہ پاسداران انقلاب کو ہمسایہ خلیجی ممالک پر حملے نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انہوں نے حملے کرنے پر عرب ممالک سے معافی بھی مانگی تھی۔ اسی فقرے کو صدر ٹرمپ نے ایران کے سرنڈر کا نام دیا تھا۔ تاہم حملے بھی جاری رہے اور مسعود پزشکیان نے بھی واضح کیا کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا تھا۔ ’جب تک عرب ممالک کے اڈے اامریکہ کے تصرف میں رہیں گے ، وہ ایران کا جائز ہدف ہیں‘۔ بلکہ قومی سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے واضح کیا ہے کہ ’عرب ممالک کو امریکی اڈوں کی کیا ضرورت ہے۔ امریکہ ان کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ اس لیے یہ اڈے بھی بند ہونے چاہئیں‘۔
ایران بظاہر ایک طویل جنگ جاری رکھنے کا اعلان کررہا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ یہ جنگ صرف امریکی و اسرائیلی حملوں سے دفاع کی صورت میں جاری رکھے گا یا عرب ممالک بھی اس کے نشانے پر رہیں گے۔ امریکی حملے اپنے طور پر ہی علاقے میں عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں تاہم عرب ممالک پر ایرانی حملے جاری رہنے سے جنگ کی شدت اور اس کے اثرات نہایت سنگین ہوسکتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کو اب ایک طرف اسرائیلی حملوں سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہوگی اور دوسری طرف انتہاپسند پاسداران کی حمایت کے باوجود انہیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہوگی کہ ایران کو اس وقت دشمنوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہئے۔