ایران سے مذاکرات مشروط ہوں گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران اب واقعی مذاکرات کرنا چاہتا ہے، مگر بات چیت شرائط پر منحصر ہے۔ ایک خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ممکن ہے۔ انہوں نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ناپسندیدگی ظاہر کی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ نہیں لگتا کہ نئے سپریم لیڈر امن سے زندگی گزار سکیں گے۔ امریکا کی ایران میں فوجی کارروائیوں کے نتائج توقع سے کہیں زیادہ تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں پر حیرت کا اظہار کیا۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ ایران کرے گا۔ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ایران جنگ سے عالمی منڈیوں میں بھی جنگ کے اثرات دیکھنے میں آئے جہاں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں عارضی طور پر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں تاہم بعد میں کم ہو کر تقریباً 90 ڈالر تک آگئیں۔
دریں اثنا امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن کسی سفارتی حل کی کوئی علامت نظر نہیں آتی۔ سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سٹیو وٹکوف نے کہا کہ ’ایران کی خطے کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش الٹا اثر ڈال رہی ہے‘ اور اس کے بجائے ’لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک نے امریکہ سے رابطہ کیا ہے ’جو ابراہام پیس اکارڈ کا حصہ بننا چاہتے ہیں‘۔
سٹیو وٹکوف نے پیر کو ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ٹیلی فونک گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس ایران کے ساتھ امریکی اثاثوں کے بارے میں کوئی انٹیلیجنس شیئر نہیں کر رہا۔ واضح رہے کہ سٹیو وٹکوف ٹرمپ کی طرف سے ایران سے مذاکرات بھی کر رہے تھے۔ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہو رہے تھے۔ ان مذاکرات کے دوران ہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔
پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ ’ان میں سے زیادہ تر زخم معمولی نوعیت کے ہیں‘۔ 108 فوجی دوبارہ ڈیوٹی پر واپس جا چکے ہیں۔ تاہم آٹھ فوجی شدید زخمی ہیں اور انہیں اعلیٰ ترین سطح کی طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔‘