آبنائے ہرمز کے بارے میں دعوے، امریکہ کا بارودی سرنگیں بچھانے پرانتباہ

  • بدھ 11 / مارچ / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کی 10 کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ اعلان ابھی سوشل میڈیا پر کیا۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ اگر ’ایران نے آبنائے ہرمز میں کوئی بارودی سرنگیں بچھائی ہیں‘ تو اس کے نتائج ’ایسے ہوں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے‘۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے پاس اس بارے میں ’کوئی رپورٹ موجود نہیں‘۔

 ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے چھ مختلف زبانوں میں جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یا تو سب کے لیے امن اور خوشحالی کا باعث ہو گی یا پھر جنگی جنون میں مبتلا لوگوں کے لیے شکست و تکلیف کی وجہ بنے گی۔

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی اور امریکی اہداف پر نئے حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے اپنے حالیہ بیان میں امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر کا اعلان کیا ہے۔ اے ایف پی نے ایران کے سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ یہ بمباری اب تک کے تنازع کے دوران سب سے شدید اور مہلک تھی۔

بدھ کی صبح تل ابیب پر آسمان میں راکٹ اور پروجیکٹائل کی نئی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسیوں نے ’ایرانی میزائلوں‘ کے تل ابیب پر اڑنے اور مار گرانے کی تصاویر اور رپورٹس شائع کیں جن کی ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی سعودی عرب کے شہر دمام میں واقع امریکی اڈے‘کو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی علاقے میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب جانے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔ سعودی وزارت نے بتایا کہ آج کئی ڈرونز کو بھی ناکام بنایا گیا ہے، جن میں دو شمال مشرقی شہر حفر الباطن میں مار گرائے گئے۔

سعودی وزارت دفاع کے ایک بیان کے مطابق ملک کے جنوب مشرق میں واقع آئل فیلڈ کی طرف اڑنے والے دو ڈرونز کو بھی روک دیا گیا ہے۔

ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر امیر سعید ایراوانی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اتوار کو بیروت کے رمادا ہوٹل پر حملے میں چار ایرانی سفارتکاروں کو ہلاک کیا۔ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ نے متعدد میڈیا اداروں کو بتایا ہے کہ ایران میں جنگ کے آغاز سے اب تک 19 ہزار سے زائد شہری ’یونٹس‘ کو نقصان پہنچا ہے۔ اس سوسائٹی میں امریکی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی بھی شامل ہے۔ ان میں سے 16 ہزار سے زائد رہائشی اور تین ہزار سے زیادہ تجارتی یونٹس ہیں۔ نقصان پہنچنے والی سہولتوں میں 77 دواساز اور طبی مراکز اور 69 سکول بھی شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسس اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ ’فضائی دفاعی نظام اس وقت میزائل خطرے کا جواب دے رہا ہے۔‘ تازہ بیان میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقام پر رہیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ دوسری جانب بحرین میں بھی سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں۔ یاد رہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈ کوارٹر قائم ہے۔

متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دو ڈرون گرنے کے بعد مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ پر موجود ایک مسافر نے بتایا کہ ڈرون گرنے کے بعد مسافروں کو شیشے کی کھڑکیوں سے دور جانے اور زیادہ محفوظ جگہ پر پناہ لینے کی ہدایت دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ ہفتے کے روز بھی ایک ڈرون ایئرپورٹ کے ٹرمینل بلڈنگ کے قریب آ کر گرا تھا۔ حکام کے مطابق پروازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔

اس واقعے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک انڈین شہری کو چوٹیں آئیں جبکہ گھانا کے دو شہری اور ایک بنگلہ دیشی شہری معمولی زخمی ہوئے۔