قومی اتفاق رائے اور اپوزیشن کی تجاویز
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 11 / مارچ / 2026
پاکستان میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی اجلاس میں خطے کی حساس صورت حال میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا گیاہے۔ پارلیمنٹ میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں البتہ اس اتفاق رائے کا سارا بوجھ حکومت کی طرف منتقل کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہےکہ اپوزیشن کو ایران پر حملے اور افغانستان کے خلاف جنگ کے سوال پر اعتماد میں لیا جائے۔
اجلاس میں منظور کی گئی جس قرار داد میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے، اس میں ایران اور افغانستان کے بارے میں ایسے مؤقف کا اظہار بھی سامنے آیا ہے جو باقاعدہ ایک سیاسی و سفارتی حکمت عملی کا نمونہ ہے۔ اسے حکومت پاکستان کی پالیسیوں سے متضاد یا متصادم بھی کہا جاسکتا ہے۔ قرار داد میں ایران پر امریکی و اسرائیلی حملہ کی مذمت کرتے ہوئے ایران کی جنگ جوئی کو ’تسلیم شدہ حق دفاع‘ قرار دے کر حکومت سے جلد از جلد جنگ بندی کے لیے کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے نئے لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی ہے کہ ان کی قیادت میں علاقے میں امن و استحکام قائم ہوگا اور ایران تیز رفتاری سے ترقی کرے گا۔ یہ خواہش ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایرانی قوم اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے کسی بھی طرح موجودہ بحران سے نکلنے کی کوشش کررہی ہے۔
اسی قرار داد میں افغانستان کے خلاف پاکستان کی جنگ جوئی کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں فریقوں سے ’صبر و تحمل‘ سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت پاکستان سے کہا گیا ہے کہ شہریوں کے ساتھ عالمی قوانین اور ضابطوں کے مطابق عزت و احترام کا سلوک کیا جائے۔ واضح رہے اس سے پہلے تحریک انصاف اور اس کی حلیف پارٹیاں افغان شہریوں کی ملک بدری روکنے اور انہیں پاکستان میں مقیم رہنے کی ضرورت بیان کرتی رہی ہیں۔ اس قرار داد کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے علاوہ افغانستان سے ’صبر و ضبط‘ کی خواہش کرتے ہوئے اس بنیادی عذر کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے پاکستان کو افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے شروع کرنے پڑے تھے۔ پاکستان کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے شدید دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ افغان حکومت نے پاکستان کی تمام تر کوششوں اور دوست ممالک کی ثالثی کے باوجود تحریک طالبان پاکستان کی پشت پناہی سے دست بردار ہونے سے انکار کیا۔ 26 فروری کو پاکستان کی طرف سے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے سے پہلے ٹی ٹی پی نے پاکستانی فوج پر یکے بعد دیگرے متعدد حملے کیے تھے جن میں کثیر ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اب خارجہ و سکیورٹی پالیسی میں حصہ داری کا مطالبہ کرنے والی اپوزیشن کا بیان دہشت گردی کی مذمت کی بجائے کابل کے ساتھ اظہار یک جہتی دکھائی دیتا ہے۔
یہاں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ افغانستان کے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی شروع کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں تمام پارلیمانی جماعتوں کا ان کیمرا اجلاس بلایا گیا تھا جس میں پاک فوج کے نمائیندوں نے بریفنگ دی تھی۔ لیکن تحریک انصاف سمیت ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ میں شامل تمام پارٹیوں نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرکے قومی سلامتی کے عمل کا حصہ بننے سے انکار کیا ۔ اب اپوزیشن کے لیے سیاسی ’احتجاج‘ یا اپنی طاقت دکھانے کے دیگر راستے بند ہونے کی وجہ سے وہ ایک بار پھر حکومت سے اعتماد میں لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ مطالبہ جس بیان میں سامنا آیا ہے، اس سےتو یہی لگتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں خود کو ناقابل اعتبار ثابت کررہی ہیں۔ ان کے لیے قومی سلامتی یانام نہاد ’اتفاق رائے‘ بھی سیاسی چال بازی کا ایک حصہ ہے۔ یہ رویہ موجودہ علاقائی اور ریجنل صورت حال میں غیر ذمہ دارانہ اور افسوسناک ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے اور اس پر پاکستانی حکومت کے رد عمل پر بات کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ آج استنبول میں ترکیہ کے صدر طیب اردوان کی تقریر میں کی گئی باتوں کو دہرا لیا جائے ۔ یہ تقریر انہوں نے اپنی پارٹی کے اجلاس میں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ صورت حال کی نزاکت و حساسیت کا تقاضہ ہے کہ ترکیہ بات کرتے ہوئے احتیاط کرے اور خود کو اس تنازعہ سے بچائے رکھنے کے لیے سوچ سمجھ کر اقدامات کرتا رہے‘۔ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کو انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے تمام انسانوں اور مسلمان اقوام کے درمیان یک جہتی قائم کرنے اور اختلافات ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سوچنا چاہئے کہ اگر نیٹو کا رکن اور امریکہ کے ایک اہم حلیف ملک کا صدر محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے تو پاکستانی حکومت سے کیا توقع کرنی چاہئے۔ پاکستان تو کسی عالمی دفاعی اتحاد کا حصہ بھی نہیں ہے۔ امریکہ ہو یا چین، دونوں ملکوں سے اس کے تعلقات ، تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہیں۔
یہ درست ہے کہ حکومت پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت میں بہت سرگرمی نہیں دکھائی لیکن کسی بھی سرکاری بیان میں اس حملہ کی تائید بھی نہیں کی گئی۔ امریکہ، ایران کو دہشت گرد ملک قرار دے کر وہاں حکومت ختم کرنے کی باتیں کررہا ہے لیکن وزیر اعظم شہباز شریف نے اس امریکی شدت پسندی کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کو رہبر اعلیٰ منتخب ہونے پر مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے اور ان کے والد کی شہادت پر تعزیت کی ہے۔ پاکستان نے کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ اس کی روشنی میں ریاض کی خواہش تھی کہ اسلام آباد ایران کی طرف سے سعودی عرب پر حملوں کے جواب میں گرمجوشی سے اس کا ساتھ دے۔ پاکستان نے البتہ محتاط سفارت کاری کے ذریعے اس معاملہ سے نمٹ کر طرفین کو صبر و ضبط سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن جنگ میں شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ کسی چھوٹے ملک کی مالی لحاظ سے کمزور حکومت سے یہ توقع کرنا کہ وہ دنیا کی منہ زور سپر پاور کو للکارے اور ایران کے ساتھ مل کر جنگ کا حصہ بن جائے، خود کو تباہی کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت پاکستان ابھی تک اس بحران سے نہایت عقلمندی و چابکدستی سے نمٹنے میں کامیاب رہی ہے۔
یہ حقیقت بھی نوٹ کرنی چاہئے کہ ایران پر حملے کا فیصلے امریکی صدر کا ذاتی فیصلہ تھا۔ انہوں نے اپنے ملک کی کانگرس تک کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ متعدد یورپین ممالک اس حملہ کو ناجائز سمجھنے کے باوجود امریکہ کی مذمت کا حوصلہ نہیں کرسکے۔ بلکہ سپین کے علاوہ کسی بھی یورپی ملک نے امریکہ کو باقاعدہ عسکری سہولتیں دینے سے انکار نہیں کیا۔ ایک کے بعد دوسرا لیڈر امریکہ کی بجائے ایرانی حکومت کی مذمت کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں گنوانے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کے خلاف تمام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ایک حرف بھی زبان پر نہیں لایا جاتا۔ کوئی بھی لیڈربے پناہ وسائل کے حامل ایک سرپھرے صدر کے مدمقابل ہونا سیاسی و اسٹریٹیجک طور سے درست نہیں سمجھتا۔ پھر پاکستان سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ایران تنازعہ میں نصابی مؤقف اختیار کرکے ’آ بیل مجھے مار‘ کی مثال بن جائے۔
ایران پر حملہ قابل مذمت اور المناک ہے۔ البتہ یہ وقوعہ صرف 28فروری کو اسرائیلی و امریکی حملوں سے شروع نہیں ہؤا بلکہ ایران کی ملا رجیم نے 1979 میں انقلاب کے بعد برسر اقتدار آتے ہی اس کی بنیاد رکھ دی تھی۔ ایران نے ان 47 برس میں کبھی اپنی انتہاپسندانہ خارجہ حکمت عملی کو تبدیل کرنے اور اس معاملہ پر دوست ممالک سے مشورہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب عرب ممالک تک جنگ پھیلا کر تمام دوست ممالک کے لیے شدید مشکل صورت حال پیدا کی ہے۔ عرب ممالک کی پالیسیوں کے بارے میں تمام تر منفی رائے کے باوجود ان کی خود مختاری کے خلاف اقدامات کو تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔ ایران محض یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآنہیں ہوسکتا کہ ان ممالک میں امریکی اڈے ہیں۔ کس ملک کو کس کے ساتھ کیسا معاہدہ کرنا ہے، اس کا فیصلہ دوسروں کی مرضی کی بجائے ہر خود مختار ملک کا حق ہے۔ ایرانی میزائل اور ڈرون البتہ فوجی اڈوں کے علاوہ شہری عمارتوں اور ائیرپورٹس کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ عرب ممالک کو اس جنگ میں کسی جائز عذر کے بغیر گھسیٹا گیا ہے۔ اس کے باوجود ابھی تک ان ممالک نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
پاکستان اگر ایک طرف ایران پر حملہ سے خطرات کا شکار ہؤا ہے تو عرب ممالک تک جنگ پھیلانے سے اس کے معاشی و سفارتی مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ طرفین کے درمیان بہتر افہام و تفہیم کے لیے کام کررہا ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے اور کوئی ایک عرب ملک بھی اس کا باقاعدہ حصہ بننے کا اعلان کردیتا ہے تو یہ خطہ طویل مدت کے لیے شدید عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ پاکستانی حکومت اور عوام کو اس متوقع اندیشے سے پریشان ہونے اور اس سے بچنے کی تیاری کرنی چاہئے۔