تیل کی قیمتوں میں نئے اضافے کے بعد ٹرمپ کا جلد قیمتیں کم ہونے کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں جلد ہی بہت کم ہوں گی اور اس قدر کمی کا کسی کو گمان بھی نہیں ہو گا۔ یہ اضافہ دو عراقی ٹینکرز کی تباہی کے بعد تیل کی قیمت ایک سو ڈالر فی بیرل پہنچنے کے بعد کیا گیا ہے۔
کینٹکی میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ 32 ممالک کی جانب سے تیل کے ذخائر جاری کرنے کے فیصلے سے قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس سے قبل انہوں نے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو ’جنگ کا معاملہ‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قیمتیں بہت نمایاں طور پر نیچے آ رہی ہیں۔ تیل نیچے آئے گا۔ یہ صرف جنگ کا معاملہ ہے جو ہوتا ہے۔ آپ تقریباً اس کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر بہت گہری نظر رکھے گا۔ ان کے مطابق ’آبنائے بہترین حالت میں ہے۔ ہم نے ان کی تمام کشتیاں تباہ کر دی ہیں۔ ان کے پاس کچھ میزائل ہیں، لیکن تعداد میں زیادہ نہیں۔
دوسری طرف ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں کے خلاف کارروائی کے باعث مسلسل حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر افراتفری مچا دی ہے۔ عراق کے جنوبی شہر بصرہ کی بندرگاہ کے قریب دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ملک کے آئل ٹرمینلز پر آپریشن روک دیا گیا۔ عملے کے زیادہ تر افراد کو بچا لیا گیا تاہم ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
بحرین میں ایران کے حملے کے بعد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب تیل اور ایندھن کے ٹینکوں میں آگ لگ گئی۔ دھواں اتنا شدید ہے کہ حکام نے شہریوں کو کھڑکیاں بند رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ عمان کے شہر صلالہ کی بندرگاہ پر ایندھن کے ذخائر پر کل کے حملے کے بعد آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام نے احتیاطاً آئل ایکسپورٹ ٹرمینل پر موجود جہازوں کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے کو معاشی جھٹکے سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے مغربی مالیاتی اداروں کو بھی ’جائز ہدف‘ قرار دیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی بینکوں نے خلیجی ممالک میں اپنے دفاتر بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ قطر میں ایچ ایس بی سی جبکہ دبئی میں سٹی بینک اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک نے ملازمین کو گھروں پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ کے ادارے (یونیسیف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں تنازع خطے کے لاکھوں بچوں کے لیے تباہ کن بن چکا ہے۔
یونیسیف نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے پہلے حملے کے آغاز کے بعد سے اب تک 1100 سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان میں 200 بچے ایران میں، 91 بچے لبنان میں، چار بچے اسرائیل میں اور ایک بچہ کویت میں مارا گیا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ بچوں کو مارنے اور معذور کرنے، یا ان کے لیے ضروری خدمات کو تباہ اور ان میں خلل ڈالنے کا کوئی بھی جواز نہیں بنتا۔ یونیسیف نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، انتونیو گوتیرس سے ’لڑائی ختم کرنے اور سفارتی مذاکرات میں مشغول ہونے‘ کے مطالبے کو دہرایا ۔
اس اعلامیے میں فریقین پر زور دیا گیا کہ شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے لیے جنگ کے ذرائع اور طریقوں کے انتخاب میں تمام ضروری احتیاط برتیں، بشمول دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کریں جو بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔
سعودی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں ملک کے مشرقی علاقے میں 18 ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق حالیہ دنوں میں ان میں سے متعدد ڈرونز کو تباہ کیا گیا تاہم اس بیان میں یہ واضح نہیں کہ ڈرونز کس کی جانب سے داغے گئے۔
سعودی وزارت دفاع نے اپنے علیحدہ بیان میں اعلان کیا کہ شیبہ آئل فیلڈ کی طرف جانے والے ایک ڈرون کا راستہ بھی روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔