کیا امریکہ جنگ بند کرسکتا ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 12 / مارچ / 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ چند روز کے دوران بار بار یہ بات دہرائی ہے کہ ایران میں سب کچھ تباہ کیا جاچکا ہے ۔ اس صورت میں امریکہ جلد ہی جنگ بند کرسکتا ہے۔ البتہ ایران کے نومنتخب رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے قوم کے نام ایک پیغام میں نہ صرف تمام شہدا کا انتقام لینے کا اعلان کیا ہے بلکہ آبنائے ہرمز بند رکھنے کاحکم بھی دیا ہے۔ انہوں نے امریکہ سے کہا کہ وہ علاقے میں اپنے تمام فوجی اڈے بند کرے۔
اسی دوران ایرانی صدر مسعود پرشگیان نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’میری روس اور پاکستان کے لیڈروں سے بات ہوئی ہے اور میں نے واضح کیا ہے کہ ایران پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے ۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل کی شروع کی گئی اس جنگ کو بند کرنے کے لیے ایران کے جائز حق کو تسلیم کرنا پڑے گا، جنگ سے پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ دیا جائے اور آئیندہ کبھی ایران پر حملہ نہ کرنے کی بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں‘۔
اسی دوران ایران کی سکیورٹی کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ دشمن کو سبق سکھائے بغیر جنگ بند نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ تیزی سے جنگ میں فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اسے چند ٹویٹس سے نہیں جیتا جاسکتا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر امریکہ نے ایران میں بجلی کی سپلائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو ہم یقینی بنائیں گے کہ ریجن کے تمام پاور اسٹیشنز کو نشانہ بنایا جائے۔ واضح رہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوج ایک گھنٹے میں ایران میں بجلی کی ترسیل بند کرسکتی ہے۔
حیرت انگیز طور پر صدر ٹرمپ ایران کو دھمکیاں دینے اور یہ دعوے کرنے کے باوجود کہ ایران کی ہر قسم کی قوت کو ختم کردیا گیاہے اور اب اس کے پاس چند میزائلوں کے سوا کچھ باقی نہیں بچا ، ابھی تک جنگ بند کرنے کا اعلان نہیں کرپارہے۔ اس کی ایک وجہ تو اسرائیل کا دباؤ بھی ہے جو جنگ کو طول دینے اور ایران کو مسلسل دباؤ میں رکھنے پر زور دیتا ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی دکھائی دینے لگا ہے کہ صدر ٹرمپ یک طرفہ طور سے جنگ بند کرنے کاااعلان کربھی دیں تو شاید ایران جنگ بندی پر راضی نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں ایرانی حملے جاری رہیں گے۔
آج ہی سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب سمیت متعدد ممالک نے بتایا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران ان ممالک میں ایران کےمتعدد میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے گئے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ اگر امریکہ جنگ بند کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود جنگ میں پھنسا رہا تو اسے امریکی طاقت اور صدر ٹرمپ کی ذاتی سبکی سمجھا جائے گا۔ ان حالات میں یہ امکان موجود ہے کہ امریکہ نے ثالثی کی کوشش کرنے والے اور جنگ بندی پر اصرار کرنے والے ممالک سے کہا ہو کہ وہ تہران سے جنگ بندی پر رضامندی کی ضمانت حاصل کریں۔ البتہ صدر ٹرمپ کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ جنگ بندی کے کسی اعلان میں الفاظ کا چناؤ ایسا ہو جسے امریکہ اپنی واضح فتح قرار دے کر یہ دعویٰ کرسکے کہ اس نے کامیابی حاصل کرلی ہے اور ایران کے خلاف جنگ جوئی میں تمام اہداف حاصل کرنے کےعلاوہ ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی پورا کرالیا گیا ہے۔ اس امریکی خواہش کی عکاسی وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لویٹ کے اس بیان میں بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’صدر ٹرمپ ہی فیصلہ کریں گے کہ جنگ کب بند کی جائے۔ یہ فیصلہ ایران کی طرف سے ہتھیار پھینکنے کے باقاعدہ اعلان یا غیر علانیہ اقرار کی صورت میں کیاجاسکتا ہے‘۔ تاہم آج دن کے دوران ایرانی لیڈروں کے رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت جنگی صورت حال اس حد تک پیچیدہ اور مشکل ہوچکی ہے کہ صدر ٹرمپ کے لیے بھی یک طرفہ طور سے جنگ بندی کا اعلان ممکن نہیں ہے۔ وہ اپنے تمام تر دعوؤں اور بے پناہ عسکری طاقت کے باوجود اس وقت لاچار اور بے بس محسوس ہوتے ہیں۔
ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا بیان کسی مفاہمت یا صلح جوئی کی کوشش نہیں ہے بلکہ اس میں امریکہ کو براہ راست چیلنج کیا گیا ہے اور میناب میں اسکول کے بچوں سمیت جاں بحق ہونے والے تمام ایرانیوں کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایران کی جوابی کارروائیاں جاری رکھنےکا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’دشمن کے خلاف ایسے دیگر محاذ کھولنے کے بارے میں مطالعہ کیا گیا ہے جہاں اسے کم تجربہ ہے اور وہ شدید کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر جنگی صورتحال برقرار رہی تو ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان محاذوں پر کارروائی کی جائے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم دشمن سے ہرجانہ وصول کریں گے۔ اگر وہ انکار کرے تو ہم ایسا ہی نقصان دشمن کی املاک کو پہنچائیں گے اور اُن کو تباہ کر دیں گے‘۔ انہوں نے خطے کے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسا کہ ہم نے پہلے خبردار کیا تھا، ہم نے ان ممالک پر حملہ نہیں کیا بلکہ صرف وہاں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اور آئندہ بھی مجبوراً ہمیں ایسا کرنا پڑے گا۔ اس کے باوجود ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی کو ضروری سمجھتے ہیں‘۔
نئے رہبر اعلیٰ کا بیان جاری ہونے کے فوری بعد پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل امریکی صدر بار بار اس آبنائے کو کھلا رکھنے کی ضمانت فراہم کرتے رہے ہیں اور انہوں نے کہا تھا کہ ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ کمرشل جہازوں کو آبنائے سے بحفاظت نکلنے میں مدد کرے گی۔ البتہ امریکی حکومت کے اعلی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ فی الوقت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اسکارٹ کرنےکی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ان متضاد دعوؤں کے دوران البتہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت محدود ہوچکی ہے۔ بیشتر کمپنیاں حملے کے خطرہ کی وجہ سے وہاں سے گزرنے کا خطرہ مول نہیں لے رہیں اور ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ دشمن ممالک یا ان کے حلیفوں کو جانے والے تیل کا ایک قطرہ بھی آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایرانی کشتیوں نے عراق کی ایک بندگاہ پر ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا جس کے بعد اس علاقے میں تیل کی رہی سہی سپلائی بھی رک گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد مارکیٹ میں تیل کی قیمت ایک سو ڈالر بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ ان حالات میں صدر ٹرمپ کبھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تیل کی قیمتیں جلد ہی حیران کن حد تک کم ہوجائیں گی تو کبھی یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ امریکہ کو تیل کی قیمتوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارا تیل مہنگے داموں بکے گا تو امریکہ کو فائدہ ہوگا۔ البتہ اس بے یقینی کی وجہ سے تیل کی فراہمی کے بارے میں شبہات میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ حالات عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔
ایرانی لیڈروں کی طرف سے حملے کرنے، انتقام لینے اور جنگ کا معاوضہ ملے بغیر جنگ بند نہ کرنے کے دعوؤں کو اگر پبلک گیلری اور اپنے عوام کے حوصلے بڑھانے کا ہتھکنڈا بھی سمجھ لیا جائے تو بھی اس جنگ میں ایران بہر حال اس قدر مجبور اور بے بس نہیں ہوسکا کہ امریکہ اسے اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرسکے۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا طریقہ درحقیقت ایران کی طرف سے معاشی جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طریقے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ضرور کہا جاسکتا ہے لیکن پھر اس کے ساتھ ہی ایران پر ہونے والے حملے کو بھی ناجائز اور غیر قانونی قرار دینا پڑے گا۔ یہ صورت حال سلامتی کونسل میں بحرین کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد پر ووٹنگ کے دوران بھی دیکھنے میں آئی۔ اس قرار داد میں عرب ممالک پر ایرانی حملے رکوانے پر زور دیا گیا ہے لیکن ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کا ذکر نہیں ہے۔ روس اور چین نے یہ کہتے ہوئے ووٹنگ میں حصہ لینے سے انکار کیا کہ کوئی بھی قرار داد متوازن ہونی چاہئے۔
حالت جنگ میں فریقین اپنی پوزیشن اور دشمن کی کمزوری کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔ یہی صورت حال اس وقت ایران کے خلاف جنگ جوئی میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ تمام تر طاقت کے باوجود نہ تو تہران میں حکومت تبدیل کراسکا ہے اور نہ ہی اب جنگ بند کرنا اس کے اختیار میں دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کے امن اور اس ریجن کے استحکام کے لیے یہ صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔