لکی مروت میں دہشت گرد حملہ، 6 پولیس اہلکار جاں بحق

  • جمعہ 13 / مارچ / 2026

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں شادی خیل بیٹنی کی رسول خیل چیک پوسٹ کے قریب آئی ای ڈی کے ایک دھماکے میں چھ پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق لکی مروت دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ان چھ پولیس اہلکاروں میں ایس ایچ او صدر اعظم، کانسٹیبل شاہ بہرام، کانسٹیبل شاہ خالد، کانسٹیبل حاجی محمد، کانسٹیبل گل زادہ، کنسٹیبل سخی زادہ شامل ہیں، جبکہ کنسٹیبل انصاف الدین شدید زخمی ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کی اطلاعات ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ہلاک ہونے والے اہلکاروں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا۔ لکی مروت میں چند دنوں سے تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

لکی مروت میں سنیچر کے دن منجیوالہ کے علاقہ میں ایک مارکیٹ میں دھماکے سے دو افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے تھے ان میں ایک پولیس امن کمیٹی کے سربراہ کے بھائی بتائے گئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد اتوار کے کے روز منجیوالہ روڈ کے قریب دو افراد کی لاشیں ملی تھیں۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ دونوں افراد مقامی طور پر کلعدم تنظیم کے ای کمانڈر کے بھائی تھے۔

جمعرات کے دن تختی خیل قوم اور مقامی شدت پسند عناصر کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد پولیس اور مقامی امن کمیٹی کے لوگ بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف مشرکہ کارروائی کی گئی ہے جس میں چار شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی پی اور نزیر خان اس آپریشن میں شامل تھے اور اور اس کارروائی میں شدت پسند اپنے موٹر سائکل اور دیگر سامان چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

لکی مروت میں مقامی طور ان حالات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آج جمعہ کے روز اب جمعہ نماز سے پہلے پولیس موبائل پر آئی ای ڈی سے حملہ کیا گیا ہے جس میں چھ پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے لکی مروت میں پولیس وین کے قریب شدت پسندوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا کہ ’سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔