صدر ٹرمپ کا مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کا دعویٰ

  • جمعہ 13 / مارچ / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کو ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں لیکن ’کسی نہ کسی صورت میں غالباً وہ زندہ ہیں۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان گزشتہ شب ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کے بیان کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ شب ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پر نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا بیان پڑھ کس سُنایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک نامعلوم ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں مجتبیٰ خامنہ ای ’معمولی زخمی‘ ہوئے ہیں تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ سے جب مجتبیٰ خامنہ ای کے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے بیان پر سوال ہوا تو اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت باتیں کر رہے ہیں، تاہم انہیں ان سب کو ثابت بھی کرنا ہوگا۔ ہم اس صورتحال کو بھی دیکھ رہے اور اسی کے ساتھ ساتھ ہم ان کے اہم ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت جو کارروائیاں ایران کے خلاف جاری ہیں ہم انہیں اس سے بھی زیادہ سختی سے نشانہ بنا رہے ہیں اور ایسا دوسری عالمی جنگ کے بعد سے نہیں ہوا ہے۔‘

واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے بعد سے یہ اہم آبی گُزر گاہ مسلسل کئی روز سے بند پڑی ہے یا اس راستے سے بحری جہازوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں پر حملے ہوئے ہیں اور کچھ جہاز وہاں پھنس گئے ہیں، جبکہ اس ساری صورتحال کے بعد سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی  ہیں۔

دریں اثنا ایران کے پاسداران انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پاسداران انقلاب نے حملے میں امریکی بحری بیڑے کو ’غیر فعال‘ کر دیا ہے اور یہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو امریکی بحری بیڑے کو ایران کی سمندری حدود سے 340 کلو میٹر دُور بحیرہ عمان میں نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں بحری بیڑے کی اہم تنصیبات بشمول ڈرون مخالف دفاعی نظام، ڈرون کے لیے ذخیرہ اور دیکھ بھال کے علاقے، سپورٹ آلات، اور فیول ٹینک کو درست میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابراہم لنکن بدستور آپریشن ایپک فیوری میں حصہ لے رہا ہے اور سمندر سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق ایران کے میزائل حملوں کی تعداد 90 فیصد کم ہو چکی جبکہ اس کے یکطرفہ حملہ آور ڈرونز 95 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز، جو دنیا کا سب سے مصروف تیل برداری کا راستہ ہے، میں ’انتہائی مایوسی‘ کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن یہ ’کچھ ایسا ہے جس سے ہم نمٹ رہے ہیں۔‘

پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکہ ’ایرانی حکومت کی فوج کو اس انداز میں تباہ کر رہا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ایران کی فوج کو ’جنگ کے قابل نہ رہنے والی‘ بنا دیا گیا ہے۔

پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کی قیادت چھپ رہی ہے جبکہ امریکہ کا عزم ’ناقابلِ شکست‘ ہے، اس کے اختیارات زیادہ سے زیادہ ہیں اور صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے پاس تمام اختیارات ہیں۔ وہ اس تنازع کی رفتار، انداز اور وقت کا تعین کریں گے۔‘

دوسری طرف میری ٹائم سکیورٹی کی ایک کمپنی امبری کے مطابق ایک تجارتی بحری بیڑے نے متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک آئل رِگ پر آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔ امبری کا کہنا ہے کہ دبئی کی جبل علی بندرگاہ کے شمال مغرب میں لگنے والی اس آگ کی وجہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور کسی جہاز کو نقصان یا عملہ زخمی نہیں ہوا ہے۔

اس خطے میں تیل کی پیداوار اور برآمدات کے حوالے سے جہازوں اور بندرگاہوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ روز عراق کے علاقائی پانیوں میں بصرہ بندرگاہ کے قریب دو آئل ٹینکرز کو آگ لگا دی گئی تھی۔

ایران نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک زیرِ آب ڈرون استعمال کیا۔ دیگر رپورٹس میں اس ہتھیار کو ڈرون بوٹ قرار دیا گیا ہے یعنی ایک بغیر پائلٹ تیز رفتار کشتی جو دھماکہ خیز مواد لے کر چلتی ہے۔ کسی بھی صورت میں ایران جہاز رانی میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے حالانکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا باقاعدہ بحری بیڑا بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وسطی تہران میں زوردار دھماکوں کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ یہ دھماکے یومِ القدس کے موقع پر فلسطینیوں کی حمایت میں ہزاروں افراد کے اجتماع کے قریب ہوئے۔ دھماکوں کی آوازیں اس مقام کے قریب سنائی دیں جہاں یہ مظاہرہ جاری تھا۔