ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ راستے کی تلاش میں

امریکی صدر ڈونلڈ نے خواہش ظاہر کی ہے انہیں امریکی تاریخ کے ایک کامیاب ترین صدر کے طورپر یاد رکھا جائے۔ ہائے اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔ جس صدر کے مواخذے کی باتیں ہو رہی ہیں وہ خواہش کررہا ہے، امریکہ کا منفرد صدر کہلائے۔

 جبکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا بھر کے لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں پر حیران ہیں۔ اب انہوں نے تازہ انکشاف یہ کیا ہے  کہ وہ اپنے قریبی تین لوگوں،جن میں ان کے داماد بھی شامل ہیں، کی باتوں پر عمل کرکے ایران پر حملے کا فیصلہ کر بیٹھے، کیونکہ ان کی باتوں سے لگتا تھا اگر امریکہ نے حملہ نہ کیا تو ایران،  امریکہ پر حملہ کر دے گا۔ اب ایسی باتیں سن کر تو اچھے اچھوں کا دماغ چکرا جاتا ہے کہ امریکی تاریخ میں اپنے لئے منفرد مقام کے خواہش مند صدر اتنے لائی لگ تھے کہ صرف باتیں سن کر بڑے بڑے فیصلے کر دیتے تھے۔

یہ بات درست ہے کہ ایران نے امریکہ کو بہت بڑا سرپرائز دیا ہے،اس کی ساری توقعات اور امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ اپنی طاقت اور ٹیکنالوجی کے گھمنڈ نیز بحری بیڑوں اور جہازوں کے خمار میں مبتلا ہو کر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دھمکیاں دیتے رہے کہ ایران ہماری بات مان لے وگرنہ ملبے کا ڈھیر بننے کے لئے تیار ہو جائے۔ اندازے کی یہ غلطی کہ ایرانی بھی کوئی ونیزویلا جیسی قوم ہے۔ اِدھر حملہ کریں گے اور اُدھر ڈھیر ہو جائے گی،امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے گلے پڑ گئی ہے ۔اب یہ کھیل ان کی جان نہیں چھوڑ رہا۔ ایران نے کہا ہے جنگ بند کرنے کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہم کریں گے۔ ہمارے بھی کچھ اہداف ہیں،جنہیں پورا کیا جائے گا۔اُدھر اسرائیل کی بھی چیخیں سنائی دے رہی ہیں، جواب یہ کہہ رہا ہے کہ مزید جنگ کی ضرورت نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوے تو بہت بڑے کئے ہیں کہ ایران کو ناقابلِ تلافی  نقصان پہنچا دیا ہے مگر یہ کیسا نقصان ہے کہ نقصان پہنچانے کا دعویدار میدان چھوڑ کے بھاگنا چاہتا ہے جسے نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ ڈٹ کر میدان میں کھڑا ہے۔ یہ جنگ اگر ایرانی شرائط پر بند ہوتی ہے تو امریکہ کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی جس طرح وہ شمالی کوریا کی طرف کنکھیوں سے بھی نہیں دیکھتا، اسی طرح مستقبل میں ایران کی طرف بھی نہیں دیکھے گا۔ اسی طرح اس کا بغل بچہ اسرائیل جو خطے میں اپنی بلاشرکت غیر برتری چاہتا ہے، بھول کر بھی ایران سے ٹکر نہیں لے گا۔

 نیتن یاہو نے ایران کو بھی مظلوم فلسطینیوں کی طرح آسان ہدف سمجھ لیا تھا،مگر ایران نے جس طرح اپنی میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے تل ابیب، یروشلم اور اس کے تمام شہروں میں واقع اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، وہ اپنے زخم سہلا رہا ہے۔یہ کوئی جذبات یا ہوائی باتیں نہیں، سامنے کے حقائق ہیں، جنگ بندی کے لئے امریکہ و اسرائیل کی پسپائی ایسے ہی نہیں ہوئی، گہرے زخم لگے ہیں تو میدان سے بھاگ رہے ہیں۔ تاریخ یہ بات ایک بار پھر ثابت کررہی ہے کہ جب کوئی قوم شکست ماننے کو تیار نہیں ہوتی، تو کوئی بڑے سے بڑا جارح بھی اسے شکست نہیں دے سکتا۔ تہران، اصفہان اور ایران کے شہروں پر آگ برسانے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کو ایرانی عوام کے حوصلے پست کرنے میں ذرہ بھر کامیابی نہیں ہوئی۔

 وہ خواب جو ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ کا آغاز کرتے ہوئے دیکھا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے ساتھ ہی ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے مرگ پر امریکہ کی بجائے امریکہ زندہ باد کے نعرے لگائیں گے، شہادت کی خبر ملتے ہی ایران کے عوام کی سڑکوں پر آمد اور امریکی استعمار کے خلاف تاریخی مظاہروں نے ملیا میٹ کر دی۔ پانسہ اسی وقت پلٹ گیا تھا جب ایران کے لوگوں نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے خلاف خوف کے بت توڑتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی نیندیں اڑا دی تھیں،اس کے بعد گویا چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ پھر چیخیں تہران سے نہیں تل ابیب سے سنائی دینے لگیں۔ اسرائیلی اپنے شہروں میں چھپتے پھر رہے تھے اور ایرانی عوام سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں موجود تھے اور شہروں کی زندگی بھی معمول کے مطابق جاری تھی۔

 ایران نے یہ جنگ بڑے تحمل اور منصوبہ بندی کے تحت لڑی۔اس نے کہیں بھی اپنے جارح ہونے کا تاثر نہیں دیا جن خلیجی ممالک پر حملے کئے، ان میں بھی یہ بات بار بار کہی کہ صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ اس پر وہاں سے حملے نہ ہوں۔ بعدازاں خلیجی ممالک سے معذرت بھی کی اور اپنے حملوں کا مقصد بیان کیا۔ اس بہتر حکمت عملی سے بھی وہ امریکی منصوبہ ناکام ہو گیا جو مسلم ممالک میں جنگ چھیڑنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ اس حوالے سے اختیار کی گئی حکمتِ عملی کے باعث امریکہ ایک طرح سے سفارتی محاذ پر اکیلا ہو گیا۔ امریکہ اور اسرائیل کو صاف نظر آنے لگا ہے کہ یہ جنگ وہ جتنی بھی طویل کرلیں، ایران کو فتح نہیں کر سکتے۔ آیت اللہ خامنہ ای کو ہدف بنا کر ان سے جو غلطی ہوئی وہ ایران کے عوام کو امریکی و اسرائیلی حملوں کے خلاف متحد کر گئی۔ جب کوئی قوم مرنے کے لئے تیار ہو جائے مگر شکست نہ مانے تو اس کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف عالم یہ ہے کہ امریکی فوجیوں کے تابوت امریکہ پہنچے ہیں تو کہرام مچ گیا ہے۔ نیویارک، واشنگٹن اور دیگر شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں، جن میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے اسرائیل کے لئے کب تک امریکی فوجی مروائے جاتے رہیں گے؟

امریکہ میں یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ جب امریکہ کے ٹرمپ سے پہلے سات صدور نے ایران کے خلاف جنگ نہ کرنے کی پالیسی اختیار کررکھی تھی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟ آخر کچھ تو وجہ ہوگی جس کے باعث امریکی صدور اس سے بچتے رہے۔ ڈونلڈٹرمپ غالباً اپنے ایڈونچر کی خاطر اس میں کود پڑے یہ سوچ کر کہ ایران کو امریکی صوبہ بنانے میں کامیاب رہے تو تاریخ کا ایک منفرد کردار بن جائیں گے۔صرف دو ہفتوں کے بعد انہیں اندازہ ہوگیا ہے وہ ایک بڑی غلطی کر بیٹھے ہیں۔ اب وہ لاکھ کہتے رہیں انہوں نے ایک مہینے کے اہداف دو ہفتوں میں حاصل کرلئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران تو وہیں کھڑا ہے جہاں وہ پہلے کھڑا تھا۔ وہ نہ جھکا ہے اور نہ کسی کمزوری کا مظاہرہ کررہا ہے۔ سب پیشکشیں امریکہ کی طرف سے آ رہی ہیں لیکن ایران نہیں مان رہا۔

اب ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے مشکل یہ ہے،جنگ بندی کا اعلان کیسے کیا جائے کہ بات بھی بن جائے اور عزت بھی رہ جائے۔ ایرانی عوام، حکومت، فوج اور نئے سپریم لیڈر نے بے مثال اتحاد اور جرات مندی کا مظاہرہ کرکے سپرپاور کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اب شاید مذاکرات اس بات پر نہ ہوں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام علانیہ بند کرے یا افزودہ یورنیم امریکی و عالمی نگرانی میں ضائع کرے۔ بلکہ اس بنیاد پر ہوں گے کہ امریکہ و اسرائیل اپنی جارحیت کی معافی مانگیں اور آئندہ ایران پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ کریں۔ مشکل ٹرمپ کے لئے ہے، ایران کیلئے نہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)