امریکہ کا خارگ اور ایران کا فجیرہ پر حملہ
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات ایران کے خارگ جزیرے پر ’90 سے زیادہ ایرانی فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنایا گیا تاہم تیل کا بنیادی ڈھانچے کو محفوظ ہے۔ یہ جزیرہ ایرانی تیل کی برآمد میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
بیان کے مطابق اس حملے میں بحریہ کی بارودی سرنگیں ذخیرہ کرنے کی سہولیات، میزائلوں کو ذخیرہ کرنے والے بنکرز اور متعدد دیگر فوجی مقامات کو تباہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا یہ دعویٰ ایران کے اس بیان سے مطابقت رکھتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی حملے کے باوجود تیل کے ڈپو ’برقرار رہے اور برآمدات مکمل طور پر جاری‘ ہیں۔
دوسری طرف ایران نے متحدہ عرب امارات کی فجیرہ کی بندرگاہ پر حملہ کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے لیے بہت اہم مقام اور مشرق وسطیٰ میں تیل ذخیرہ کرنے کے بڑے ڈپوز میں سے ایک ہے۔ یہ بحری جہازوں میں ایندھن بھرنے کے لیے بھی ایک اہم مقام ہے۔
فجیرہ خلیج فارس کے بجائے خلیج عمان کی حدود میں آتا ہے اور اس لیے جہازوں کو آبنائے ہرمز میں جانے کی ضرورت نہیں۔ واضح رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے عملی طور پر آبنائے ہرمز بند ہے۔ آن لائن شیئر کی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر کمپلیکس سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کے ہی روز ایرانی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کے قریب رہنے والے افراد کو ان سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ کاٹز نے گزشتہ رات ایران کے اہم جزیرے خارگ کو شدید دھچکا پہنچانے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کی اور اسے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کا مناسب جواب قرار دیا۔
یاد رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یہاں دھماکہ خیز مواد نصب کر رہا ہے۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ اس نے رات گئے اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائلوں کا پتہ لگایا۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کی عمارت سے دھواں اٹھتا نظر آیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ امریکی سفارتخانے کو ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے سے نقصان ہوا ہے۔
اے ایف پی نے بھی متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ حملہ عراق کے دارالحکومت پر حملوں میں دو ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے مارے جانے کے فوراً بعد ہوا۔