رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنی ای صحتمند ہیں: عباس عراقچی

  • اتوار 15 / مارچ / 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای ’صحتمند ہیں‘ اور صورت حال پر مکمل طور پر قابو رکھتے ہیں۔

خیال رہے ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجبتہ خامنہ ای 8 مارچ کو اپنی تقرری کے بعد اب تک منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔ ان کا پہلا خطاب 12 مارچ کو سرکاری ٹی وی کے ایک میزبان نے پڑھ کر سنایا تھا۔

ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہر منصفانہ علاقائی کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز ’امریکی جہازوں اور امریکی اتحادیوں کے علاوہ سب کے لیے کھلی ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی خاص کوشش ہمارے سامنے نہیں ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ’محفوظ‘ نقل و حرکت کے لیے اتحادیوں سے مدد لینے کے بیان پر تنقید دکرتے ہوئے پڑوسی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ جارح قوتوں کو نکال باہر کرنے میں مدد کریں۔

سوشل میڈیا پوسٹ پر ایک بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکہ کا حفاظی ڈھانچے سے متعلق دعویٰ دراصل کمزوریوں سے بھرا ثابت ہوا ہے۔ اب امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے دوسروں سے، حتیٰ کہ چین سے بھی مدد کی درخواست کر رہا ہے ۔

ایران نے اپنے برادر پڑوسی ممالک سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ غیر ملکی جارح قوت کو خطے سے باہر نکالنے میں مدد کریں کیونکہ ان کے تحفظات صرف اسرائیل سے ہیں۔

اس سے قبل ہفتہ کے روز سماجی رابطوں کے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ ایران وہاں کسی قسم کا خطرہ نہ پیدا کر سکے۔ ان مختلف ممالک کا ردعمل مختلف ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا: ’جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم خطے میں جہازرانی کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ متعدد آپشنز پر بات چیت کر رہے ہیں۔‘

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ چین فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ بیجنگ ٹرمپ کی اپیل پر عمل کرے گا یا نہیں لیکن یہ ضرور کہا کہ توانائی کی مسلسل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

امریکہ کو اپنا قریبی اتحادی سمجھنے والے ٹوکیو نے ابھی تک ٹرمپ کی اپیل پر کوئی سرکاری ردِ عمل جاری نہیں کیا۔ تاہم جاپانی نشریاتی ادارے این ایچ کے کو حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ وزیر اعظم سانائے تکائچی کے بدھ کے روز شروع ہونے والے دورہ امریکہ کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتا ہے۔

فرانس حکومت نے بھی فوری طور پر کوئی جواب جاری نہیں کیا۔ تاہم ٹرمپ کی پوسٹ کے چند گھنٹے بعد فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ایکس کاؤنٹ نے ان رپورٹس کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ فرانس اپنے جنگی بحری جہاز آبنائے ہرمز بھیج رہا ہے۔

سیول کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع سے متعلق ’پیشرفت کی قریب سے نگرانی‘ کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک امریکی صدر کے بیانات پر ’توجہ دے رہا ہے‘ اور امریکہ کے ساتھ ’رابطے‘ میں ہے۔

ایران کی نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب کا یہ بیان رپورٹ کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل کرنے‘ کی کوشش جاری رکھیں گے۔ پاسداران انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے حملوں کی 52 ویں لہر کے دوران خطے میں تین امریکی فوجی اڈے اور اسرائیل میں اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان میں حزب اللہ کے مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو بدستور نشانہ بنا رہا ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ رات بھر اس نے اپنی فضائی حدود میں ایران کے 26 ڈرون مار گرائے۔ زیادہ تر دارالحکومت ریاض اور ملک کے مشرقی علاقوں کے قریب تھے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی اعلان کیا کہ اس کا دفاعی نظام ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہا ہے۔