ایران جنگ جلد ختم ہونے کا امکان نہیں

شدید تباہ کاری کے باوجود ایران کے خلاف امریکی جنگ جوئی ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ امریکہ کے وزیر انرجی نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو گی۔ تاہم یہ واضح ہے کہ دونوں طورف سے جنگ جاری رکھنے کے اعلانات کے باوجود  امریکہ اور ایران  اس جنگ کے بارے میں مختلف ٹائم لائن  کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

امریکہ کو چند دن نہیں تو چند ہفتوں میں جنگ بند ہونے کی ا مید ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وہ اپنی فضائی برتری، اسلحہ کے ذخائر اور  تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ذریعے تہران کو بہر حال شکست تسلیم کرنے پر مجبور کردے گا۔ یہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے۔ البتہ دوسری طرف ایران کے متعدد لیڈروں نے واضح کیا ہے کہ  ایران نے طویل جنگ کی تیاری کی ہوئی ہے اور وہ اس تنازعہ میں جارح نہیں ہے۔ وہ صرف اپنا دفاع کررہا ہے۔  اگر یہ ایرانی دعویٰ درست ہے اور وہ اس پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو جنگ کی طوالت  امریکہ کی مشکلات اور عالمی معیشت کے لیے خطرات میں اضافہ کرے گی۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں  سے دنیا بھر میں اشیائے صرف مہنگی ہوں  گی اور ان کی فراہمی مشکل  ہوگی۔  اس  صورت حال سے صرف ایران کے عوام متاثر  نہیں ہوں گے بلکہ امریکہ  کے لوگوں کے لیے بھی گھروں کا بجٹ ترتیب دینا مشکل ہوتا چلا جائے گا۔ امریکی حکام  یہ کہہ کر اپنے عوام اور عالمی معاشی اداروں کو مطمئن کررہے ہیں کہ جنگ کے بعد  تیل کی قیمتوں میں حیران کن کمی ہوگی اور معیشت بہت تیزی سے بہتری کی طرف جائے گی۔ البتہ کسی کے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے کہ یہ جنگ کب اور کیسے بند ہوگی۔

گزشتہ روز کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے  اصرار کیا ہے کہ ایران ، امریکہ کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن اس کی شرائط میرے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ البتہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے نہ تو جنگ بندی کی درخواست کی ہے اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی وجوہ موجود ہیں۔  امریکہ نے  ناجائز طور سے  ایران پر جنگ مسلط کی ہے ۔ یہ حملہ   دونوں  ملکوں کےدرمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران کیا گیا تھا۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ایران،  امریکہ سے بات چیت کی خواہش رکھتا ہو۔ ہم پر حملہ کیا گیا ہے اور ہم اپنا دفاع کررہے ہیں۔ یہ دفاع اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہم  پر ناجائز حملے کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوتا۔

فریقین کے ان متضاد دعوؤں میں فوری جنگ بندی کا کا امکان دکھائی نہیں دیتا تاہم  جنگ کے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ  ایران  پر امریکہ و اسرائیل کے تباہ کن حملے زیادہ  مہلک اور پریشان کن ہوسکتے ہیں۔ البتہ تہران کی حکومت اور پاسداران انقلاب کو اس کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں ہے۔ وہ  کمزور دکھائی دے کر جنگ بندی پر راضی نہیں ہیں۔  ایرانی وزیر خارجہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا ہے کہ ایرانی حکومت اپنی حفاظت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کمزور نہیں ہے اور پوری طرح فعال ہے۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں اور چابکدستی سے  اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ دو روز پہلے نئے رہبر اعلیٰ کا جو بیان منظر عام پر آیا تھا، اس  سے نئے لیڈر کے سخت  گیر ار جارحانہ مؤقف کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ وہ اپنی شرائط پر جنگ بند کرنے  کی بات کرتے ہیں جن میں جنگ کا تاوان اور پھر  کبھی ایران پر حملہ نہ کرنے کی ضمانت بھی شامل ہے۔ تاہم یہ غیر واضح ہے کہ اس وقت دنیا میں کون سا ادارہ یا ملک اس قسم کا ضامن بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ غزہ کے بعد ایران پر مسلط کی ہوئی جنگ سے واضح ہؤا ہے  کہ اقوام متحدہ  غیر مؤثر اور ناکارہ ہوچکی ہے۔ یورپین حلیف ممالک امریکہ سے اختلاف رکھنے کے باوجود اپنا علیحدہ راستہ اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اسی طرح چین نے مسلسل خاموشی  اختیار کی ہے جو کہ امریکہ کے بعد دوسری بڑی معاشی و عسکری قوت ہے ۔ اس سے واضح  ہوتا ہے کہ چین کسی بھی قیمت پر اور کسی بھی حالت میں کسی جنگ کا حصہ نہ بننے کی پالیسی پر کاربند ہے۔

امریکہ کے  پاس جنگ ختم کرنے کے دو ہی ممکنہ آپشنز ہیں۔ ایک  یہ کہ کسی بھی طرح تہران میں حکومت تبدیل کرادی جائے اور نئی حکومت  سابقہ  رجیم  کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔  البتہ اس کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔  امریکہ ایران میں فوجی یلغار کے ذریعے  ضرور تہران کی حکومت ختم کرانے کا طاقت رکھتا ہے لیکن  صدر ٹرمپ تمام تر جارحانہ  طرزعمل کے باوجود امریکی فوج کو کسی طویل جنگ    میں جھونکنے کا حوصلہ نہیں کرسکتے۔ البتہ وہ زیادہ تباہی والے ہتھیار استعمال کرنے کا حکم دے سکتے  ہیں جس سے ایرانی عوام کی تکلیفوں میں اضافہ ہو اوراایرانی حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے۔ یہ طریقہ کسی حد تک اختیار کیا جاچکا ہے۔ گزشتہ روز  ایرانی جزیرے خارگ پر حملے  اس کا نمونہ ہیں۔ لیکن ایران  نے اس کے جواب میں متحدہ عرب امارات میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔ امریکہ کے لیے یہ کہنا یا سوچنا شاید مشکل نہ ہو کہ ایران کی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت تباہ کرکے حکومت کو فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیاجائے تاہم اس پر عمل کی صورت میں صرف ایران ہی نہیں ہمسایہ عرب ممالک  میں وسیع تباہی کا امکان  نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔ واشنگٹن کے  لیے حلیف عرب ممالک کے مفادات اور عالمی معیشت کو داؤ پر لگانا شاید آسان نہیں ہوگا۔ صدر ٹرمپ کے پاس  دوسرا آپشن وہی ہے جس کی طرف  صدر کے قریبی مشیر ڈیوڈ  سیکس نے گزشتہ روز اشارہ کیا تھا کہ امریکہ فتح کا اعلان کرکے جنگ بند کردے۔ البتہ اس آپشن کی طرف جانے کی صورت میں صدر ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن  کمپرومائز ہوگی۔ امریکہ کو مسلسل چیلنج کرنے  والی ایرانی قیادت کے ہوتے یک طرفہ کامیابی کا اعلان پسپائی ہی کا اشارہ ہوگا۔

دوسری طرف ایران کے پاس اگرچہ زیادہ آپشن نہیں ہیں لیکن وہ جنگ کو طول دے کر امریکہ  کے مصارف بڑھا سکتا ہے اور صدر ٹرمپ کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے۔   ایرانی لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس میزائلوں کا  ذخیرہ موجود ہے اور     مقامی سطح پر میزائل پروڈکشن کا کام  بھی جاری ہے۔  امریکی عسکری  ترجمانوں کے بیانات کی روشنی میں یہ دعوے قابل قبول نہیں لگتے جو ایک طرف  ایرانی صلاحیتوں کو تقریباً ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ تو دوسری طرف  یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایران کی میزائل و ڈرون پھینکنے کی صلاحیت 90 فیصد تک کم ہوچکی ہے۔ اس کا مطلب ہے ایک دو روز میں ایران کوئی میزائل یا ڈرون بھیجنے کے قابل نہیں رہے گا  تاہم زمینی طور پر اس کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ ایران متبادل حکمت عملی کے طور پر اسرائیل یا امریکی بحریہ کو نشانہ بنانے کی بجائے خلیجی ممالک میں ’سوفٹ ٹارگٹس‘ پر حملے کرسکتا ہے۔ اس طرح ان ممالک کی معیشت متاثر ہوگی اور وہ امریکہ پر  جنگ بند کرنے کا دباؤ ڈالنے پر مجبور ہوں گے۔  اس  صورت  میں البتہ طویل المدت  سنگین ریجنل تنازعہ کا اندیشہ پیدا ہوگا۔  زیادہ گہری چوٹ لگنے پر  خلیجی ممالک کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوسکتا ہے اور وہ بھی جوابی حملے کرسکتے ہیں۔ اس طرح امریکہ کی جنگ میں علاقے کے ممالک سینگ پھنسا بیٹھیں گے۔

ایران  ابھی تک اس معاملہ کی حساسیت سے آگاہ دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف  خلیجی ممالک پر حملے کیے جارہے ہیں تو دوسری  طرف ان کے ساتھ سفارتی رابطے  بھی قائم ہیں۔ ایرانی لیڈر مسلسل یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس کے میزائل صرف  امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔  ایرانی وزیر خارجہ نے تو ایک انٹرویو  میں یہ تک کہا ہے کہ ’عرب ممالک پر بعض حملوں میں امریکی لوکس ڈرون استعمال ہوئے  ہیں جو  ایران کے  شاہد ڈرون سے مماثلت رکھتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ یہ ڈرون عرب ممالک کے خلاف استعمال کیےجا رہے ہیں تاکہ ان ممالک کے ایران سے تعلقات سبوتاژ کیے جا سکیں‘۔ امریکی سنٹرل کمانڈ نے البتہ ایسے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ تاہم اگر جنگ طول پکڑتی ہے اور ایران خلیجی ممالک پر حملوں ہی کو عالمی معیشت  کو دھچکا پہنچانے اور امریکہ سے انتقام لینے  کے لیے استعمال کرتا ہے تو حالات غیر متوقع طور پر  تشویشناک ہوسکتے ہیں۔

امریکہ کے لیے اس وقت جنگ  ’جیتنے‘ کے علاوہ آبنائے ہرمز کھلوانے کا معاملہ بھی اہم چیلنج بنا ہؤا ہے۔  پہلے تو صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ  ایران یہ آبی گزرگاہ بند نہیں کرسکتا بلکہ امریکی نیوی کمرشل جہازوں کو اپنی حفاظت میں وہاں سے نکلنے کا راستہ فراہم کرے گی۔ البتہ اب واضح ہورہا ہے کہ امریکی بحریہ فوری طور سے شاید یہ فریضہ انجام دینے کے قابل نہ ہو ۔   اب ٹرمپ نے چین اور متعدد حلیف ممالک کو آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے لیے سامنے آنے کے  لیے کہا ہے۔ البتہ ابھی تک کسی ملک نے بھی گرمجوشی سے اس دعوت کا جواب نہیں دیا۔ اس دوران  لگ بھگ ایک ہزار  جہاز  آبنائے ہرمز سے گزرنے کے منتظر ہیں۔  ایران نے کہا ہے کہ جو ممالک   اس تنازعہ میں امریکہ کے حلیف نہیں ہیں، ان کے لیے یہ بحری راستہ کھلا ہے البتہ امریکہ یا اس کے حلیف ممالک کے جہازوں کو نہیں گزرنے دیا  جائے گا۔ آبنائے ہرمز بند رہنے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا اور عالمی معیشت بے  یقینی و بحران کا شکار رہے گی۔

اس پس منظر میں ایران کے خلاف امریکی جنگ بند ہونے کا  فوری امکان نہیں ہے۔ تاہم جنگ پر اصرار کرنے والے فریق  جنگ کے اثرات و اندیشوں کے بارے مسلسل متضاد رائے رکھتے ہیں۔