یران کے خلاف کارروائی نیٹو کی جنگ نہیں: برطانیہ
برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانیہ ایران پر امریکی جنگ میں شریک نہیں ہوگا۔ مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت ہے تاہم ’یہ کوئی آسان کام نہیں‘۔
ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی پہلی ترجیح خطے میں موجود اپنے شہریوں کی حفاظت ہے۔ اب تک 92000 برطانوی شہریوں کو واپس لایا جا چکا ہے۔ البتہ برطانیہ اس بڑی جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔
سٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کرنا کسی بھی وزیر اعظم کے لیے سب سے مشکل کام ہے۔
اس سے پہلے صر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر نیٹو ممالک آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے امریکہ کا ساتھ نہیں دیتے تو اس کے نیٹو کے مستقبل پر اثرات مرب ہوں گے۔ انہوں نے چین کے عدم تعاون پر وہں کا طے شدہ دورہ منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے چینی ہم منصب شی جنپنگ کے ساتھ سربراہی ملاقات ملتوی کرنے کی دھمکی کے بعد چین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں ملوث تمام فریقین سے فوجی کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دھمکی دی تھی کہ اگر بیجنگ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے مدد نہیں بھیجتا تو وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی ملاقات ملتوی کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر کے بیان کے متعلق ایک سوال پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سربراہوں کی سطح پر ہونے والی سفارت کاری چین امریکہ تعلقات میں ایک ناقابل تلافی سٹریٹجک رہنمائی کا کردار ادا کرتی ہے۔ ’دونوں فریقین کے درمیان صدر ٹرمپ کے دورے کے حوالے سے رابطے برقرار ہیں۔‘
ٹرمپ کی جانب سے آبنائے میں جنگی جہاز بھیجنے کے مطالبے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لن جیان کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی نے تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے اور اس سے علاقائی اور عالمی امن کو نقصان پہنچا ہے۔ چین تمام فریقوں سے فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔ ’ہم کشیدگی کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس سے پہلے آسٹریلیا اور جاپان نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ آسٹریلیا کی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اُن کا ملک آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جنگی جہاز نہیں بھیجے گا۔ جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم میری ٹائم سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اور اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے بحری جنگی جہاز بھیجیں۔ برطانوی وزیر برائے ورکس اور پنشن کے پیٹ مِک فیڈن کا کہنا ہے کہ نیٹو کے دفاعی اتحاد کا قیام اس قسم کی صورت حال کو ذہن میں رکھ کر نہیں کیا گیا تھا جیسی ہم مشرق وسطیٰ میں دیکھ رہے ہیں۔
نیٹو کی بنیاد امریکہ اور برطانیہ سمیت 12 ممالک نے 1949 میں رکھی تھی اور اس کے بنیادی اصولوں میں سے ایک آرٹیکل پانچ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک کے خلاف حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس سے قبل برطانیہ کے سابق چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل سر نک کارٹر نے کہا تھا کہ نیٹو ایسا اتحاد نہیں جس میں اتحادیوں میں سے کوئی ایک اپنی مرضی سے جنگ شروع کرے اور پھر باقی سب کو اس میں شامل ہونے پر مجبور کیا جائے۔
جب مِک فیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس سے متفق ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جنرل کارٹر ٹھیک‘ کہہ رہے ہیں اور انہوں نے موجودہ تنازع کو ’نیٹو جنگ نہیں‘ بلکہ ’امریکی اور اسرائیلی کارروائی‘ قرار دیا۔