افطاریاں، عید اور بھکاری
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- سوموار 16 / مارچ / 2026
رمضان المبارک میں حکومتی دلچسپی نگرانی اور مثبت اقدامات سے مہنگائی میں گزشتہ رمضان المبارک کی نسبت قدرے کمی آ نا ایک خوش کن بات ہے۔ حکومت کی طرف سے بچت پیکیج کا پیش کئے جانا بھی بر محل ٹھہرا۔
بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ حکومت کے بروقت مثبت اور مسلسل اقدامات سے مہنگائی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر رمضان کا آخری عشرہ افطاریوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرانا ثواب کا کام ہے۔ پر ایک عرصے سے سرکاری اور عوامی افطاریاں فضول خرچی اور اسٹیٹس سمبل بن کر رہ گئی ہیں۔ جب سے سوشل میڈہا پر ہر خبر بریکنگ نیوز اور ہر سرگرمی کا ڈھنڈورا پیٹنے کا رواج عام ہوا پے نہ تو کوئی پردہ داری رہی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی تفریق۔ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی دعوتیں خود نمائی اور ہلہ گلہ کتنے لوگوں کی دل آ زاری اور احساس محرومی کا باعث بنتا ہے۔ اس کا کوئی خیال نہیں کرتا۔ یوں بھی سرکاری اور عوامی افطاریاں فضول خرچی اور دکھاوے کا ہی باعث بنتی ہیں۔ ان رقومات سے کسی ضرورت مند کی مدد کرکے دعائیں اور ثواب کمانا زیادہ افضل ہے۔
حکومت کی طرف سے امن وامان کی بحالی اور تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ جرائم میں کمی لانے کے اقدامات بھی کئے جا رہےہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے خواتین کی ہراسمنٹ کے معاملات پر زیرو ٹالرنس پالسی کے بھی مثبت نتائج سامنے آ ئے ہیں۔ خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے بھی موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صاف ستھرا پنجاب بھی ترقی کی طرف گامزن ہے حال ہی میں کچھ شہروں میں گداگری کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کئی پیشہ ور بھکاریوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں حکومت کے اس اقدام کے مثبت اثرات سامنے آ ئے ہیں بیشتر خواتین بھکاریوں کو باعزت روزگار کی فراہمی کے لئے حکومتی سطح پر امداد بھی فراہم کی گئی ، جس کے نتیجے میں کئی بھکاری خواتین اب چوڑیاں بیچ کر باعزت روزگار کما رہی ہیں۔ پولیس کی روحانی کرامت کے نتیجے میں کئی مصنوعی ٹوٹ پھوٹے پٹیوں میں جکڑے ہاتھ اب کماؤ ہاتھ بن گئے ہیں۔ حکومت کو اس حوالے سے مزید مستقل بنیادوں پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ ملک میں پھیلے بھکاریوں کو کار آ مد شہری بنایا جا سکے۔
گداگری کسی بھی معاشرے اور قوم کے لئے اچھا فعل نہیں ہے افراد اور قوموں کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ خود انحصاری خودی اور اہنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی پالیسی کو ترجیح دی جائے۔ لہذا قومی اور عوامی سطح پر اب ہمیں آ ئی ایم ایف کے شکنجے سے جان چھڑا لینی چاہیے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی خزانے کو بھرنے کے ساتھ ساتھ صنعتوں کے فروغ ٹیکس نیٹ ورک کا دائرہ کار بڑھانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کی مربوط پالیسیوں کے بھی اب مثبت نتائج سامنے آ نے لگے ہیں۔ ایک بڑے قومی بنک کے صدر کی حیثیت سے بھی انہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ اور اب ملک کو بھی معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے کمر بستہ ہیں۔
یہ امر بھی لائق تحسین ہے کہ جب سے انہوں نے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالا ہے، وہ بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے بھی حال میں اپنے وزرا کی تنخواہوں میں کچھ عرصے کے لئے کمی کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے۔ عالمی سطح پر پٹرول کی قیمیتوں میں اضافے کے باوجود عوام کو ریلف پہنچانے کا حکومتی جذبہ بھی لائق تحسین ہے۔ حکومتی پروٹوکول اور خرچوں میں کمی اور کفایت شعاری کے ذریعے ہی معاشی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
جوں جوں عید قریب آ رہی ہے عید کی تیاریاں بھی زور شور سے جاری ہیں۔ بچے عیدی کے حصول بڑے نئے لباس اور جوتوں کی خریداری میں مصروف ہیں۔ جبکہ خواتین چوڑیوں اور مہندی کے ساتھ ملبوسات کے رنگوں کے انتخاب میں مگن ہیں۔ رمضان المبارک کے اختتام پر سب سے زیادہ رونق اور جوش و خروش چاند رات پر نظر آ تا ہے۔ چھتوں پر چاند دیکھنے کی روایت ویسے بھی دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ یوں بھی اب لوگ آسمان کے چاند دیکھنے کی بجائے چھتوں کے چاند دیکھتے ہی عید منانے کا اعلان کر دیتے ہیں۔
اب چاند دیکھنے کی ساری ذمہ داری حکومتی رویت ہلال کمیٹی پر ڈال دی گئی ہے۔۔ اب وہ جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر عید منانے کا اعلان کر دیتی ہے۔ اور عوام چاند رات کے ہلے گلے میں اہنی مرضی کے چاند چڑھاتی نظر آ تی ہے۔ عید روزوں کا انعام اور خوشیوں کا پیغام ہے۔ زندہ قومیں اپنے تہوار زندہ دلی اور خوشی کے جذبے کے ساتھ مناتی ہیں۔ ان خوشیوں میں ہمیں ان لوگوں کو بھی شریک کرنا چاہیے جن سے خوشیاں روٹھ گئی ہیں۔ خدا کرے کہ ہم سب ایسی عیدیں منائیں جہاں سب چہرے چمکتے دمکتے اور مسکراتے اور ایک دوسرے کو گلے لگاتے نظر آئیں۔
حکومت کی طرف سے دئیے جانے والے امدادی پیکج کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو بھی عید کی خوشیاں بانٹنے کے لئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ہم سب عید کی خوشیوں میں برابر شریک ہو سکیں۔