ٹرمپ کی سفارتی تنہائی اور سیاسی مایوسی میں اضافہ

ایران پر  امریکی و اسرائیلی حملوں کو 17 روز بیت چکے ہیں لیکن نہ تو ایران کی مزاحمت کم ہوئی ہے اور نہ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے  کامیابی کے بلند بانگ دعوؤں کا سلسلہ بند ہورہا ہے۔ آج ہی انہوں نے ایرانی  بحریہ کے ایک سو جہاز غرق کرنے کا دعویٰ کیا  ہےلیکن اس کے ساتھ ہی امریکہ کی خواہش ہے کہ اس  کے حلیف ممالک کے علاوہ  چین بھی آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے لیے  بحری فورس روانہ کرے۔

صدر ٹرمپ نے چین کی طرف سے تعاون نہ کرنے پر چین کا مجوزہ دورہ ملتوی کرنے کی دھمکی  بھی دی ہے لیکن چین کی طرف سے اس دھمکی کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اسی طرح بیجنگ نے   ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے میں مدد دینے کی درخواست پر  تبصرہ ضروری س نہیں سمجھا ۔ اس بارے میں ایک سوال پر چینی وزارت خارجہ  کے ترجمان  نے چین کا یہ مطالبہ دہرایا کہ اس ناجائز جنگ کو بند کیا جائے۔ اسی طرح یورپی و دیگر امریکی حلیف ممالک نے بھی  اس منصوبے کا حصہ بننے سے گریز کیا ہے۔ برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں شامل ہونا  برطانیہ کے مفاد میں ہوگا۔ البتہ آبنائے ہرمز  کی حفاظت کے بارے میں وزیر اعظم کئیر اسٹارمر نے  محتاط طرز بیان اختیار کیا ہے اور کہا کہ  عالمی معیشت کی بہتری اور روس کو اس جنگ سے مستفید ہونے سے روکنے کے لیے اس بحری راستے کا کھلا رہنا ضروری ہے۔   تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ کام  آسان نہیں ہوگا۔

آسٹریلیا، جاپان، کنیڈا وجرمنی بہت واضح الفاظ میں اس منصوبے کا حصہ بننے سے انکار کرچکے ہیں۔ ٹرمپ کی  یہ دھمکی   بھی غیر مؤثر  ہوگئی ہے کہ اگر حلیف ممالک نے ان کی مدد نہ کی تو  امریکہ نیٹو کے بارے  میں اپنا رویہ تبدیل کرلے گا۔ اس سے پہلے وہ یہ بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکہ ہی نیٹو ہے۔ تاہم متعدد یورپی لیڈروں نے واضح کیا ہے کہ  نیٹو ایک دفاعی معاہدہ ہے۔ اگر کوئی رکن ملک خود جنگ شروع کرتا ہے تو  نیٹو اس جنگ کا حصہ نہیں بنے گی۔ خاص طور سے یورپی ممالک کے رد عمل پر اپنے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے آج وائٹ ہاؤس  میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ  امریکہ کو کسی کی مدد ضرورت  نہیں ہے۔ ہمارے پاس سب سے طاقت ور فوج ہے۔ میں نے تو اس لیے تعاون کا کہا ہے کہ یہ سب ممالک بھی آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ البتہ ٹرمپ اس تصویر کے اس پہلو کو  نظر انداز کرتے ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ امریکی جارحیت اور غیر قانونی جنگ کے بعد کیا  ہے۔  اس وقت ٹرمپ کی باتوں میں جھنجلاہٹ، مایوسی اور غصہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ایران جنگ ایک ایسی  چھچھوندر بن چکی ہے جسے نہ اگلا جاسکتا ہے اور نہ ہی نگلا جاسکتا ہے۔

امریکی صدر کو اس جنگ  کے بارے میں دو طرح سے مایوسی و پریشانی کا سامنا ہے۔ ایک  تو ان کی توقعات کے برعکس یہ جنگ چند دن میں ختم نہیں ہوئی ۔  ایران نے شدید بمباری اور نقصان کے باوجود جنگ بندی کی اپیل کرنے کی بجائے مزاحمت جاری رکھنے اور  دفاع کرنے  کے عزم کاا ظہار کیا ہے ۔ امریکہ،  ایران کی فوجی صلاحیت کو  ’صفر‘ کرنے کے دعوے کرنے کے  باوجود  یہ یقینی نہیں بنا سکا کہ  میزائل یا ڈرون حملے  کرنے کی ایرانی صلاحیت ختم ہوجائے۔ امریکہ و ایران کے درمیان عسکری طاقت کے عدم توازن کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ جب تک تہران ایک میزائل بھی فائر کرنے  کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے بروئے کار  لارہا ہے، امریکہ اپنی فتح کا اعلان نہیں کرسکتا۔ امریکہ جنگ بند کرنا چاہتا ہے لیکن ایران اسے اس کا موقع دینے پر آمادہ نہیں ہے۔  کسی طاقت ور ملک کی اس سے بڑی مایوسی کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے دشمن  کو شدید نقصان پہنچانے کے باوجود اسے   جنگ سے فرار  ہونےپر مجبور نہ  کرسکے۔

آبنائے ہرمز کا معاملہ اس وقت ٹرمپ کی سیاست اور امریکہ کی عسکری طاقت کا سنگین امتحان بن چکا ہے۔ ایرانی بحریہ کو تباہ کرنے کے دعوؤں کے باوجود اگر اس بحری گزرگاہ سے  جہازوں کی آمد و رفت شروع نہیں ہوتی تو اسے امریکہ کی ناکامی اور شکست ہی مانا جائے گا۔ اسی لیے ٹرمپ اب متعدد دیگر ممالک کو اس منصوبے میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ بہت سے ممالک نے ان کی دعوت قبول کرلی ہے لیکن  انہوں نے ان کے نام لینے سے گریز کیا۔ حقیقی صورت حال کے بارے میں غلط یا مسخ شدہ بیان دینے کے عادی ٹرمپ کی  باتوں پر اس وقت تک یقین نہیں کیاجاسکے گا جب تک وہ وکسی ایسی اتحادی  بحری نگرانی کا نظام استوار نہ کرلیں جو آبنائے ہرمز  میں جہازوں کی آمد و رفت بحال کروا سکے۔ اس کے برعکس اس وقت یہ صورت ہے کہ صرف ان ممالک کے جہاز اس آبی راستے سے گزر رہے ہیں، جنہیں ایران نے خود نکلنے کی اجازت دی ہے۔ چین کے علاوہ بھارت کو بھی دو جہاز لے جانے کی اجازت ملی تھی۔ اب پاکستان نے بھی ایران سے اپنے جہاز لانے کی درخواست کی ہے۔ متعدد یورپی ممالک کے سینکڑوں جہاز  پاسداران انقلاب کی دھمکیوں کی وجہ سے اس آبنائے کو استعمال کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضمانتیں بھی اس رجحان کو تبدیل نہیں کرپائیں۔

جنگ میں عملی مشکلات کے علاوہ  اب امریکہ کے حلیف ممالک میں اس جنگ کے خلاف رائے مستحکم ہورہی ہے۔ حتی کہ متعدد امریکی ماہرین بھی اس جنگ کو بے سود اور حلیف ممالک کے ساتھ تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے مترادف کہنے لگے ہیں۔ نیٹو میں سابق امریکی کمانڈر رچڑڈ ٹیرف نے سی این این کو بتایا ہے کہ امریکہ اپنا اعتماد کھوتا جارہا ہے۔  اسی دوران  ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ میں اس عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکی فوج ایران میں حملوں کے دوران شہری آبادیوں کو محفوظ رکھنے  میں ناکام رہی ہے۔ میناب میں اسکول کی بچیوں کی ہلاکت کی خاص طور سے  نشاندہی کی جارہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس حملہ کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ  بچیاں  ایرانی میزائل سے ہلاک ہوئی تھیں لیکن بعد میں ثابت ہوگیا کہ یہ  امریکی ٹام ہاک میزائل تھا جس  نے ڈیڑھ سو سے زائد اسکول طالبات کو ہلاک کیا۔

مغربی میڈیا میں بھی امریکہ کی جارحیت اور صدر ٹرمپ کی حماقت پر  رائے میں شدت دیکھنے میں آرہی ہے۔ برطانیہ کے اخبار گارڈین کے  خارجہ امور کے تبصرہ نگار  سائمن  ٹسڈال نے ایک سخت مضمون میں واضح کیا ہے کہ  ٹرمپ امریکہ کی ناکامی کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کو کووڈ کی طرح ’وبا‘ قرار دیتے ہوئے جلد از جلد ان کے مواخذے کو ضروری قرار دیا ہے ۔ ان کا  کہنا ہے کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف ملکی و بین الاقوامی عدالتوں میں  جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف  جرائم پر مقدمے چلنے چاہئیں۔ انہوں نے لکھاکہ سوال یہ نہیں ہے کہ کیا ٹرمپ کا  مواخذہ ہونا چاہئے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسا ہونا  وقت کی عین ضرورت ہے۔ ورنہ سوچ لیا جائے کہ یہ شخص  بصورت دیگر اپنی صدارت کے باقی ماندہ تین سالوں میں کتنی تباہی کا سبب بنے گا۔

امریکی صدر پر اس شدید دباؤ کے باوجود اس حقیقت کو فراموش نہیں کیاجاسکتا ہے کہ اس وقت جنگ کے بارے میں    ٹرمپ کا حکم ہی  حتمی اور فیصلہ کن ہے۔  ان کی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود یہ فراموش نہیں کیا جاسکتا  کہ دنیا کی سب سے طاقت ور فوج اور سب سے بڑی معیشت کی سربراہی اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ ہی کے پاس ہے۔ امریکہ اگر اس وقت مشکل میں ہے اور اس جنگ سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے تو امریکہ کے علاوہ ایران سے دوستی کا تقاضہ یہی ہے کہ تمام  ہمدرد ممالک امریکہ کو یہ جنگ بند کرنے کا راستہ دینے کے لیے  راہ ہموار کریں۔ ایرانی لیڈروں کو بھی مزید تباہی اور اپنے لوگوں کی  ہلاکت سے بچنے کے لیے ایسے کسی حل کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔