پاکستان کی افغانی عوام سے لڑائی نہیں: ترجمان پاک فوج
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ طالبان کا سویلینز کی ہلاکتوں کا پراپیگنڈا جھوٹ ہے، پاکستان کی افغانی عوام سے کوئی لڑائی نہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ کابل میں ہدف افغان طالبان کے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے علاوہ ڈرون طیاروں کا ڈپو تھا، یہ گولہ بارود پھٹنے سے جو دھماکے ہوئے انہیں پورے شہر نے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں سویلینز کی ہلاکتوں کا پراپیگنڈا جھوٹ ہے، طالبان کے اکثر جنگجو وردی نہیں سویلین لباس پہنتے ہیں اور طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون افغان طالبان کو بھارت فراہم کر رہا ہے، پاکستان کی افغان عوام سے کوئی لڑائی نہیں۔ انہیں تو خود دہشتگردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے عیدالفطر کے پیش نظر اپنے طور پر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب اللحق میں 5 روز تک عارضی طور پر وقفہ کردیا ہے۔
وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ عیدالفطر کے پیش نظرحکومت پاکستان نے اپنے طور پر اقدام کرتے ہوئے اور برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کو مدد فراہم کرنے والے ڈھانچے کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق میں عارضی طور پر وففے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔
آپریشن غضب للحق میں وقفہ 18 اور 19 مارچ 2026 کی درمیانی شب سے 23 اور 24 مارچ 2026 کی درمیانی شب تک لاگو ہوگا۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان یہ وقفہ نیک نیتی اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کر رہا ہے۔ تاہم سرحد پار سے کسی بھی حملے، ڈرون حملے یا دہشت گردی کے واقعے پر'آپریشن غضب للحق' فوری دوبارہ شروع کیا جائے گا۔