ایران کی عرب مملک میں تیل و گیس تنصیبات پر حملوں کی وارننگ

  • بدھ 18 / مارچ / 2026

پاسدارانِ انقلاب نےعرب ممالک کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ایک ’فوری وارننگ‘ جاری کی گئی ہے کہ شہری گیس اور آئل آئل تنصیبات سے دور چلے جائیں۔

ان تنصیبات میں سعودی عرب کی سامرف ریفائنری، سعودی عرب کا الجبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس، متحدہ عرب امارات کی الحسن گیس فیلڈ، قطر کا مسيعيد پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور ہولڈنگ کمپنی، قطر کی راس لفان راس لفان ریفائنری شامل ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ تمام مراکز اب جائز ہدف بن گئے ہیں اور آئندہ چند گھنٹوں میں انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ تمام شہریوں، رہائشیوں اور ملازمین کو کہا جاتا ہے کہ وہ فوراً ان علاقوں سے دور بلا تاخیر محفوظ فاصلے پر چلے جائیں۔‘

یہ وارننگ جنوبی پارس گیس فیلڈ میں ایران کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر فضائی حملوں کے بعد جاری کی گئی ہے۔ گیس فیلڈ میں آگ لگی ہوئی ہے اور وہاں فائر اور ریسکیو اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔ جنوبی پارس دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے جہاں قطر اور ایران دونوں کے مراکز موجود ہیں۔ یہ حملہ بدھ کی صبح ہوا تھا۔

دریں اثنا ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی ہلاکت پر ردِعمل میں کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک مضبوط سیاسی ڈھانچہ ہے اور کسی فرد کی موجودگی یا غیر موجودگی اس کے ڈھانچے پر اثر نہیں ہوتی۔‘

عراقچی نے خبر رساں ادارے الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ہمارے پاس (رہبرِ اعلیٰ) سے زیادہ اہم رہنما کوئی نہیں تھا اور جب اُنہیں ہلاک کر دیا گیا تب بھی نظام نے اپنا کام جاری رکھا اور فوراً ان کی جگہ ایک متبادل مقرر کر دیا گیا، اگر کوئی اور فرد بھی ہلاک ہو جائے تو یہی سلسلہ دہرایا جائے گا۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر وزیرِ خارجہ (یعنی انہیں بھی) کو بھی کسی دن نشانہ بنایا جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں تو ایسے میں بھی اُن کی جگہ کسی کو لینی ہوگی۔‘

انہوں نے خلیج فارس کے جنوبی ممالک پر ایران کے حملوں کے بارے میں کہا کہ ’ہم نے خود کو صرف دشمنوں کے سرکاری اڈوں تک محدود نہیں رکھا، جہاں بھی امریکی افواج کی موجودگی تھی، جہاں بھی ان کے ادارے موجود تھے، وہ نشانہ بنائے گئے۔ ان میں سے بعض مقامات شہری علاقوں کے قریب ہو سکتے ہیں لیکن یہ ہماری غلطی نہیں یہ غلطی امریکہ کی ہے۔‘

اس دوران ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، بسیج کے کمانڈر میجر جنرل غلام رضا سلیمانی اور بحریہ کے درجنوں اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ان افراد کی نمازِ جنازہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ہے۔

علی لاریجانی 17 مارچ کو تہران میں اپنے بیٹے کے ہمراہ ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے، جبکہ بسیج کے کمانڈر کی ہلاکت بھی اسرائیلی فضائی حملے میں ہی ہوئی تھی۔

ادھراسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک حملہ میں ایرانی انٹیلیجنس کے وزیر اسماعیل خطیب ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کاٹز کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’گزشتہ رات ایران کے وزیرِ برائے انٹیلیجنس اسماعیل خطیب کا بھی خاتمہ کر دیا گیا تھا۔‘ ایران نے تاحال اس اسرائیلی دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

اسماعیل خطیب وزارتِ انٹیلیجنس اور رہبرِ اعلیٰ کے دفتر میں بھی متعدد اعلیٰ عہدوں پر کام کر چکے تھے۔

اسرائیل کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں میں 192 افراد زخمی ہوئے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تنازع کے آغاز سے اب تک 3727 افراد کو زخمی ہونے کے بعد ہسپتال داخل کیا جا چکا ہے۔