لیڈروں کو مار کر جنگ جیتنے کی حکمت عملی
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 18 / مارچ / 2026
گزشتہ دو روز کے دوران اسرائیلی حملوں میں متعدد اہم ایرانی لیڈروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں سر فہرست ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی تھے جو گزشتہ روز اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو بھی ہلاک کیا گیا تھا۔ آج ایرانی صدر نے اعلان کیا ہےکہ وزیر برائے انٹیلی جنس اسماعیل خطیب بھی اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اسرائیل نے چند گھنٹے پہلے ان کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔
ہفتہ کے روز امریکی حکومت نے ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے علاوہ متعدد ایرانی لیڈروں کے بارے میں معلومات دینے والے کو 10 ملین ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان میں علی لاریجانی کا نام بھی شامل تھا۔ ان کا تعلق ایران کے ایک با اثر خاندان سے تھا اور مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ جنگ میں انہیں پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کی اہم خدمات سونپ رکھی تھیں۔ وہ ایران کی مذہبی حکومت میں اعتدال پسند اور سفارتی لب و لہجہ رکھنے والے لیڈرکےطور جانے جاتے تھے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کا نظام حکومت تہ دار ہے اور کسی ایک فرد کے سر پر نہیں چلتا۔ ایک آدمی جاتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ مثلاً مجھے بھی قتل کیا جاتا ہے تو خارجہ امور کی دیکھ بھال کے لیے دوسرے لوگ سامنے آجائیں گے۔
ایران کا نظام حکومت کے مضبوط ستونوں پر استوار ہے۔ اسی لیے 28 فروری کو رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے مارے جانے کے باوجود ملک کا نظام حکومت مسلسل کام کرتا رہا ہے۔ پہلے ہی ہلے میں امریکہ و اسرائیل نے ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ اندازہ قائم کیا گیا تھا کہ صف اول کے لیڈروں کی ہلاکت کے بعد نظام حکومت متزلزل ہوجائے گا اور ناراض عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے ۔ اس طرح امریکہ و اسرائیل کی خواہش کے مطابق تہران میں مذہبی رہنماؤں کی حکومت کا تختہ الٹا جاسکے گا۔ تاہم یہ اندازے درست ثابت نہیں ہوئے ۔ ایران نے نہ صرف مقابلہ کرنے کا اعلان کیا بلکہ علی خامنہ ای کے بیٹے کو نیا رہبر اعلیٰ بنا کر امریکہ کے سامنے ڈٹے رہنے کا اعلان کیا۔ حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کرچکے تھے کہ اگلا لیڈر ان کی مرضی سے بننا چاہئے اور انہیں مجتبیٰ بطور رہبر اعلیٰ منظور نہیں ہوں گے۔ اس بیان سے امریکی صدر نے موجودہ حکومتی نظام تبدیل کرنے کے بارے میں اپنی پوزیشن بدلتے ہوئے یہ اشارے دینے شروع کیے تھے کہ وہ موجودہ نظام کو ماننے پر تیار ہیں البتہ ایران کو بھی کچھ لچک دکھانی چاہئے۔ ایران نے یہ لچک دکھانے سے انکار کیا ہے۔ اس کے بعد اب ایرانی لیڈروں کو نشانہ بنا کر مارنے کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ امریکہ کے علاوہ اسرائیلی وزیر دفاع کہہ چکے ہیں کہ فوج کو تمام اعلیٰ ایرانی لیڈروں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تہران میں اعلیٰ لیڈروں کی اسرائیلی یا امریکی حملوں میں ہلاکت سے ایرانی نظام میں ان دونوں ملکوں کے جاسوسوں کی موجودگی اور اثر و رسوخ کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ اس سے ایرانی نظام کی یہ کمزوری بھی سامنے آئی ہے کہ اس کی انٹیلی جنس ایک تو اپنے لیڈروں کی زندگی کو لاحق خطروں کا اندازہ لگانے میں ناکام رہتی ہے تو دوسری طرف جنگ کو تین ہفتے گزرنے کے باوجو د امریکہ و اسرائیل کا جاسوسی نظام اس حد تک مؤثر اور طاقت ور ہے کہ وہ علی لاریجانی جیسے اعلیٰ لیڈر کو نشانہ بنانے میں بھی کامیاب رہا ہے۔ آج انٹیلی جنس امور کے نگران وزیر اسماعیل خطیب کی ہلاکت سے ملکی انٹیلی جنس کی کمزوری مزید عیاں ہوئی ہے۔ یہ حقیقت تو ثابت ہورہی ہے کہ ایران کا نظام حکمرانی کسی ایک شخص کے جانے سے غیر مؤثر نہیں ہوتا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ ایرانی دارالحکومت میں کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ دشمن کا اگلا نشانہ کون ہوگا اور ان کی اپنی صفوں میں اسرائیلی یا امریکی ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والے کون لوگ ہیں۔ ان عناصر کو بے اثر کیے بغیر بالآخر ایرانی قیادت ناتواں ہوسکتی ہے اور تمام تر مضبوط حکومتی ڈھانچے کے باوجود نظام گرایا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں حملہ آوروں کا مقصد تو پورا ہوجائے گا لیکن ملک ایک طویل المدت خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے ۔ ایران جیسے بڑے اور باوسیلہ ملک میں مرکزی حکومت کمزور ہونے کی صورت میں پورا خطہ بے یقینی اور عدام استحکام کا شکار ہوگا۔ یہ صورت حال پاکستان سمیت اس خطے کے تمام ممالک کے لیے تشویش کا سبب ہے۔
رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے علی لاریجانی کی ہلاکت پر اپنے پیغام تعزیت میں ڈٹے رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خون کے ہر قطرے کی قیمت ہے، جو شہدا کے مجرم قاتلوں کو جلد ادا کرنی پڑے گی‘۔ تاہم ایسے جذباتی اعلانات ایک غیر ضروری اور بے مقصد جنگ کو طوالت دینے اور ایران کے علاوہ پورے خطہ عرب کے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایران کا مفاد بھی یہی ہوگا کہ وہ اس مشکل کاکوئی معقول حل تلاش کرے۔ عرب ممالک میں امریکی اثاثوں یا ٹھکانوں پر حملے شروع کرتے وقت یہی دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ حملے برادر عرب ممالک کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان اڈوں پر کیے جارہے ہیں جو اس جنگ میں ایران کے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔ حالانکہ عرب ممالک نے مسلسل اس الزام کو غلط کہا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ جنگ ان کی مشاورت سے شروع نہیں کی گئی اور نہ ہی وہ اس کا حصہ ہیں۔
اب یہ بات صرف امریکی اڈوں اور سفارت خانوں پر حملے کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ آج ایران کے پاسداران انقلاب نےعرب ممالک کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ایک ’فوری وارننگ‘ میں کہا گیا ہے کہ شہری گیس اورآئل تنصیبات سے دور چلے جائیں۔ ایران ان پر حملہ کرے گا۔ یہ اعلان جنوبی پارس گیس فیلڈ میں ایران کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر فضائی حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔ ایران پر حملے امریکہ و اسرائیل کررہے ہیں لیکن ایران ،عرب ممالک سے ان کا ’انتقام‘ لے رہاہے۔ عرب ممالک کی تیل و گیس کی تنصیبات ان کے قومی اثاثے ہیں۔ انہیں امریکہ سے بدلہ لینے کے لیے نشانہ بنانا غلط اور ناجائز پالیسی ہے ۔ اس پالیسی کے نتیجے میں عرب ممالک کسی مرحلے پر ایک ایسی جنگ کا حصہ بننے پر مجبور ہوسکتے ہیں جسے وہ غلط سمجھتے ہیں۔ ایران اگر ان ممالک کے ساتھ سفارتی چینلز استوار کرے اور حملے بند کردے تو وہ جنگ بند کرانے میں کردار بھی ادا کراسکتے ہیں۔ البتہ تہران ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سفارتی کی بجائے عسکری تصادم کے راستے پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔
ریاض میں آئیندہ دو روز عرب ممالک کے علاوہ پاکستان، ترکیہ اور آذر بائیجان سمیت علاقے کے متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ بات چیت کررہے ہیں۔ ایران کو اس کانفرنس میں سفارتی نمائیندگی حاصل کرنی چاہئے تھی۔ پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک ایران کے خلاف جنگ بند کرانے اور عرب ممالک کے ساتھ معاملات طے کرانے میں کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس سلسلہ میں کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم ایرانی لیڈروں کو بھی اس حوالے سے کچھ لچک دکھانا ہوگی۔ امریکی حملہ کا عذر تراش کر ایران پورے خطے کو تباہی کی طرف تو دھکیل سکتا ہے لیکن ان کے ساتھ جنگ میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
تاہم اس تصویر کا یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اسرائیل نے خاص طور سے اعلیٰ اور مدبر قیادت کو نشانہ بنا کر تہران میں معتدل مزاج اور معاملات کو مصلحت سے حل کرنے کی گنجائش کم کی ہے۔ اعلیٰ قیادت کے جانے کے بعد دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کم تجربہ کار، انتقامی جذبات سے بھرپور اور سفارتی مہارت سے عاری ہوگی۔ ایسی صورت میں تصادم پھیلنے اور ایران کی تنہائی میں اضافہ کا خطرہ بڑھتا جائے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس بے مقصد جنگ کو علاقے کا تنازعہ بنا کر خود کو کامیاب قرار دینا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل اعلیٰ ایرانی لیڈروں کو ہلاک کرکے ایران میں قیادت کا بحران پیدا کرنے کا خواہاں ہے تاکہ تہران ہوشمندی کی بجائے جوش اور غصے میں فیصلے کرے۔ اور یہی اس کی حتمی ہزیمت کا سبب بن جائے۔