کراچی میں طوفانی بارش سے 21 افراد جاں بحق

  • جمعرات 19 / مارچ / 2026

کراچی میں طوفانی بارش کے دوران حادثات میں کم از کم 21 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ دوسرے روز جمعرات کو بھی جاری رہے گا۔

بلدیہ کے علاقے سیکٹر 11 میں دیوار گرنے سے کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر کیماڑی امیر حیدر اویسی نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی سی ایل کی 12 فٹ اونچی چار دیواری تھی شدید بارش سے بچنے کے لیے لوگ نے اس دیوار کا سہارا لیا تھا لیکن تیز ہواؤں کی وجہ سے یہ دیوار گر گئی نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق بارش کے دوران مختلف حادثات اور واقعات میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز بارش کی پیشگوئی کی تھی تاہم جب ساڑھے 8 بجے کے قریب شدید ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہوئی تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد عید کی خریداری کے لیے بازاروں میں موجود تھی۔ ڈیفنس اور ناظم آباد کے علاقوں میں عید کی خریداری کے لیے آنے والے شہری بھی بارش کی وجہ سے پھنس کر رہے گئے جبکہ سمندر کے کنارے دو دریا میں موجود ریستوران کا لکڑیوں سے بنا ایک حصہ گر گیا۔

صدر، شاہراہ فیصل سمیت کئی علاقوں میں درخت جڑ سے اُکھڑ گئے اور کئی گھروں میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق کلفٹن ڈرائیور لائسنس برانچ کے قریب درخت گرنے سے ایک خاتون ہلاک اور اس کا بیٹا زخمی ہو گیا۔ حکام کے مطابق بارش سے بچنے کے لیے اُنہوں نے درخت کے نیچے پناہ لی تھی۔

گزشتہ روز کراچی میں کم ازکم 8 ملی میٹر بارش جناح ٹرمینل پر ریکارڈ کی گئی جبکہ 30 ملی میٹر ناظم آباد اور زیادہ سے زیادہ 56 ملی میٹر کورنگی میں ریکارڈ ہوئی ہے۔ طوفانی ہواؤں کی فی گھنٹہ رفتار ایئرپورٹ اور شاہراہ فیصل پر 90 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ماڑی پور پر اس کی شدت زیادہ تھی جہاں رفتار 98 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

بی بی سی کے مطابق کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع حب میں بھی گزشتہ شب طوفانی ہواؤں اور بارشوں سے جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔