ایران اور امریکہ کی توانائی تنصیبات تباہ کرنے کی دھمکیاں
ایران نے کہا ہے کہ اگر اس کی توانائی کی تنصیبات کو مزید نشانہ بنایا گیا تو وہ خلیج میں امریکی اور اسرائیلی اتحادیوں کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کرنے تک حملہ کرے گا۔
اسرائیل کی جانب سے ایران کی پارس گیس فیلڈز پر حملے کے بعد تہران نے خلیجی خطے میں گیس اور تیل کی تنصیبات کے خلاف ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔
پاسدران انقلاب فورس نے کہا ہے کہ کہ اگر دوبارہ حملے ہوئے تو آپ کے اور آپ کے اتحادیوں کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر اس کے بعد ہونے والے حملے اُس وقت تک نہیں رُکیں گے جب تک ان کی مکمل تباہی نہیں ہو جاتی۔ ایرانی ردِعمل اب تک کے حملوں سے ’بہت زیادہ شدید‘ ہو گا۔
اس دوران ایرانی پارلیمنٹ میں حکومتی نمائندہ سمعیہ رفیعی نے کہا ہے کہ قانون ساز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق رفیعی نے تہران کے والیاسر اسکوائر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ’آبنائے ہرمز کی حفاظت اور ملکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے‘ کا پورا اختیار ہے۔
اس سے قبل ایران میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر حملے رات بھر جاری رہے۔ سعودی عرب نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کے دوران سب سے زیادہ حملوں کی اطلاع دی، جہاں بدھ کی رات سات حملے ہوئے۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق دارالحکومت ریاض اور ملک کے ’مشرقی علاقوں‘ میں 17 ڈرونز اور دو بیلسٹک میزائل مار گرائے گئے۔
قطر نے بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح سویرے اسے دوبارہ نشانہ بنایا گیا، جس میں نقصان ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ متحدہ عرب امارات نے مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح تین بجےکے قریب بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام بیلسٹک میزائلوں کو روک رہے تھے جبکہ لڑاکا طیارے فضا میں ڈرونز کو تباہ کرنے میں مصروف تھے۔
بحرین میں بھی رات کے اوقات میں حملوں سے متعلق تین وارننگز جاری کی گئیں جن میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ کویت کی فوج نے کچھ دیر پہلے ایک بیان میں کہا کہ وہ میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔
ادھع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پیغام جاری کیا ہے جس میں ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اس اسرائیلی حملے کے بارے میں امریکہ کو کچھ معلوم نہیں تھا‘ اور خبردار کیا کہ اگر ایران دوبارہ قطر پر حملہ کرتا ہے تو کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’غصے میں‘ اسرائیل نے ایک ایسا حملہ کیا جس نے ’مجموعی علاقے کے ایک نسبتاً چھوٹے حصے‘ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو انتہائی اہم اور قیمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل دوبارہ اس پر حملہ نہیں کرے گا۔
تاہم ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران قطر پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ اس گیس فیلڈ کو ’بڑے پیمانے پر نقصان پہنچائے گا اور اسے تباہ کر دے گا۔‘
عرب ممالک نے بدھ کے روز ریاض میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ایران کے حملوں کے ردِعمل میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں ایران کے دانستہ حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ اس اہم اجلاس میں بحرین، کویت، لبنان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر ممالک کے نمائندے شامل تھے۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ ایران نے رہائشی علاقوں، شہری تنصیبات اور سفارتی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کو کسی بھی جواز کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’فوری طور پر اپنے حملے بند کرے‘ اور بین الاقوامی قوانین اور ’اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں‘ کا احترام کرے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے متعلق ’اقدامات یا دھمکیوں‘ سے گریز کرے۔ بیان میں لبنان کے خلاف اسرائیل کی ’جارحیت‘ اور خطے میں اس کی مبینہ ’توسیع پسندانہ پالیسی‘ کی بھی مذمت کی گئی ہے۔