پاکستان پر امریکہ کی بے بنیاد الزام تراشی
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 19 / مارچ / 2026
امریکہ کی ڈائریکٹر انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ نے سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ پاکستان کا میزائل پروگرام امریکی جغرافیائی حدود تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔ متعدد ماہرین اور دفتر خارجہ نے اس امکان کو سختی سے مسترد کیاہے۔ اس بیان سے اس تشویش میں اضافہ ہوگا کہ امریکہ ، ایران کے بعد شاید پاکستان کو نشانہ بنائے گا۔
اس وقت امریکہ ، ایران کو ’فتح‘ کرنے کے لیےجنگ کررہا ہے۔ اس حوالے سے بطور خاص سوشل میڈیا گوسپ کے ذریعے یہ ’معلومات ‘ عام کی جارہی ہیں کہ ایران کے بعد پاکستان، امریکہ کے نشانے پر ہوسکتا ہے۔ ایسے رائے اور تبصروں سے پاکستانی عوام میں احساس عدم تحفظ پیدا ہونا فطری ہے۔ اس ماحول میں امریکی عہدیداروں اور حکومتی ارکان کو اس قسم کی سنسنی خیزی کم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کے برعکس ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کا غیر متوازن بیان امریکہ کے ایک قریبی دوست ملک کے عوام کو پریشان و ہراساں کرسکتا ہے۔ حالانکہ سابقہ امریکی حکومتوں میں بھی بعض لوگ ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے رہے تھے لیکن اس وقت ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے جو ماحول پیدا کیاگیا ہے، اس کی وجہ سے امریکہ کو علاقے کے دیگر ملکوں کی سلامتی و خود مختاری کی ضمانت کے لیے زیادہ سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ تلسی گیبارڈ کے بیان کو ایسے عناصر منفی انداز میں پیش کریں گے جو دونوں ملکوں کے درمیان مثبت اور خوشگوار تعلقات کو اپنے ،مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
پاکستان کے امریکہ کے ساتھ خوشگوار اور متوازن تعلقات ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی قیادت کے مداح ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز متعدد بار صدر ٹرمپ سے ملاقات کرچکے ہیں۔ پاکستان نے غزہ میں قیام امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کا بھرپور ساتھ دیا تھا اور غزہ امن بورڈ میں بھی شمولیت اختیار کی تھی۔ افغانستان میں امریکی جنگ میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا اور جب بیس سال بعد امریکہ نے وہاں سے نکلنے کی ضرورت محسوس کی تو پاکستان ہی کی سفارتی چابکدستی کی وجہ سے امریکہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرنے میں کامیاب ہؤا تھا۔ امریکی قیادت ان پاکستانی کوششوں کو سراہتی رہی ہے۔ موجودہ صدر کے علاوہ نائن الیون کے بعد متعدد امریکی صدور نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور تعاون کا شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکی مفادات کے لیے لڑی جانے والی جنگ میں خود پاکستان میدان جنگ بن گیا ۔ اس کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہا ہے لیکن کابل کی طالبان حکومت کے خلاف وہ تن تنہا نبرد آزما ہے۔ حالانکہ غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرکے افغانستان کی طالبان حکومت نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی اور تحریک طالبان پاکستان جیسے دہشت گرد گروہوں کو اعانت فراہم کی۔
اس پس منظر میں امریکہ کے لیے پاکستان کی اہمیت و ضرورت کے بارے میں امریکی حکام اور انٹیلی جنس کمیونٹی کو آگاہ ہونا چاہئے۔ ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی حساس صورت حال میں تلسی گیبارڈ کا بیان غیر ضروری ہیجان پیدا کرنے کا سبب بنا ہے۔ ایران جنگ میں پاکستان نے دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح وہی مؤقف اختیار کیا ہے جو جائز اور درست ہے۔ نیٹو میں امریکہ کے حلیف ممالک بھی اس تنازعہ کو ناجائز سمجھتے ہیں اور اسے بند کرنے پر زور دیتے ہیں۔ حتی کہ چند روز پہلے صدر ٹرمپ نے جب آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے مد د مانگی تو چین ہی نہیں یورپی ممالک اور جاپان جیسے حلیف ملک نے بھی اس درخواست کو مسترد کردیا۔ پاکستان اس جنگ کے خاتمہ کے لیے مسلسل کوششیں کرتا رہا ہے۔ اس نے عرب ممالک پر ایرانی حملوں کو مسترد کیا ہے اور وسیع تر امن کی کوششوں کا حصہ ہے۔ امریکی اہلکار کا پاکستان کے بارے میں تشویش پیدا کرنے والا بیان درحقیقت خود امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ اس خطے میں امریکہ کی غلط پالیسیوں اور اسرائیل نوازی کی وجہ سے دہائیوں تک اس کے حلیف رہنے والے ملک بھی اب متبادل انتظامات پر غور کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں امریکہ کو پاکستان جیسے دوستوں کی ضرورت ہے۔ ان کے خلاف سنسنی خیزی اور شبہات پیدا کرنا امریکی مفاد میں نہیں ہوسکتا۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے بجا طور سے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے امریکی عہدیدار کو حقیقی تصویر دکھائی ہے۔ ایک بیان میں دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان، امریکہ کے ایک عہدیدار کے اس حالیہ دعوے کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے جس میں پاکستان کی میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرے کا الزام لگایا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہیں، جن کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہ ’پاکستان کا میزائل پروگرام، جو بین البراعظمی حد سے کہیں کم ہے، بھارت کے مقابلے میں قابلِ اعتبار کم سے کم دفاعی صلاحیت کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس، بھارت کی جانب سے 12000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والی میزائل صلاحیتوں کی ترقی ایک ایسے رجحان کی عکاسی کرتی ہے جو علاقائی سلامتی کے دائرے سے باہر ہے اور یقیناً پڑوسی ممالک اور دیگر کے لیے باعثِ تشویش ہے‘۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان، امریکہ کے ساتھ باہمی احترام، عدم امتیاز اور حقائق پر مبنی تعلقات کے تحت تعمیری روابط جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ہم ایک زیادہ محتاط اور متوازن طرزِ عمل پر زور دیتے ہیں جو جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک ضروریات سے ہم آہنگ ہو اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دے۔
امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ نے بدھ کے روز امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے 2026 کی سالانہ خطرات کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان نئے، جدید یا روایتی میزائل نظاموں پر تحقیق اور ترقی کر رہے ہیں۔ جن میں جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ ہمارے ملک کو اپنی پہنچ میں لیتے ہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام میں ممکنہ طور پر ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل شامل ہو سکتے ہیں جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس بیان میں ایران کے ساتھ پاکستان کو شامل کرنے سے ہی دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ ’تجزیہ‘ بے بنیاد اور محض پروپگنڈا کا حصہ ہے۔ امریکی صدر اور وزیر دفاع گزشتہ دو ہفتے کے دوران دعوے کرتے رہے ہیں کہ ایران کی میزائل صلاحیت کو ملیامیٹ کردیا گیا ہے لیکن گیبارڈ کے تجزیے میں ایران کا میزائل پروگرام بدستور ’خطرہ‘ ہے۔ اس سے زیادہ کمزور اور حقائق مخالف رائے تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہونا چاہئے کہ امریکی حکومت نے ایران کو امریکہ کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے یہ جنگ شروع کی تھی لیکن کانگرس کے سامنے ابھی تک اس بارے میں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جاسکے۔ بلکہ امریکہ کے انسداد دہشت گردی سنٹر کے سربراہ جو کینٹ نے دو روز پہلے امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کو غلط قرار دیتے ہوئے اپنے استعفی میں کہا تھا کہ امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
تلسی گیبارڈ کے بیان کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو اس میں پاکستان کو کوئی دھمکی یا وارننگ نہیں دی گئی بلکہ یہ عذر تراشا گیا ہے کہ اس فہرست میں شامل ممالک امریکہ کی طرف سے اینٹی میزائل پروگرام کی ضرورت کو محسوس کرسکتے ہیں۔ گویا امریکی حکومت اپنی عسکری قوت میں اضافے اور اسلحہ سازی کی خواہش پوری کرنے کے لیے دوسروں ملکوں کو ’خطرہ‘ قرار دے کر دلیل دینے کی کوشش کررہی ہے۔ امریکہ ایک بڑا اور طاقت ور ملک ہے۔ ٹرمپ کی صدارت میں امریکی حکومت مسلسل یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ اسے نہ تو دنیا کی پرواہ ہے اور نہ ہی وہ کسی عالمی ضابطے و اخلاقیات کو مانتی ہے۔ ایران جنگ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ ایسی حکومت کی انٹیلی جنس عہدیدار دوسرے ممالک کو خطرہ بناکر پیش کرنے سے امریکی جنگ جوئی کے جنون کو چھپا نہیں سکتی۔
ایسے بیان پاکستان جیسے چھوٹے اور علاقائی خطرات کا سامنا کرنے والے ممالک کے اندیشوں، شبہات اور عدم تحفظ میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایران جنگ نے اس عدم تحفظ کو عام کیا ہے۔ امریکی حکومت کو نہ صرف اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے بلکہ اس کے اہلکاروں کو بھی محتاط الفاظ میں حالات کا جائزہ لینا چاہئے۔