ایرانی رہبر اعلیٰ کا پاکستان پر اعتماد کا اظہار
ایران کے رہبر اعلی مجتبیٰ خامنہ ای نے نوروز کے تہوار کے موقع پر ایک تحریری پیغام جاری کیا ہے جسے آج سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا۔ ان کا یہ پیغام نو صفحات پر مشتمل ہے۔
اس پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ایران اس سال اب تک تین جنگوں سے گزر چکا ہے، ایک جون میں اسرائیل کے خلاف، دوسری موجودہ جنگ اور تیسری جنگ پچھلے سال دسمبر میں اسٹیبلشمنٹ مخالف مظاہرے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت میں ریلیوں میں شرکت کرنے والوں کی تعریف کی اور کہا کہ عوام نوروز مناتے ہوئے ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کو یاد رکھیں۔
مجتبی خامنہ ای نے اس سال کا نعرہ بھی پیش کیا ہے: ’قومی یکجہتی اور قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت‘۔ ایران کے پڑوسی ممالک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اپنے مشرقی پڑوسیوں کو بہت قریب سے سمجھتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کا نام لے کر کہا کہ یہ ملک ان کے والد کا خاص پسندیدہ تھا۔
خامنہ ای نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طرف سے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تقسیم کو ختم کرنا ہے۔
جنگ کے دوران پڑوسی ممالک پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مسلح افواج نے ترکی اور عمان پر حملے نہیں کیے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے ایران اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لیے ’چال چلی ہے۔‘
مجتبیٰ خامنہ ای کو اس ماہ کے آغاز میں اپنے والد کا جانشین منتخب کیا گیا تھا۔ وہ اب تک نہ تو عوام کے سامنے آئے ہیں اور نہ ہی انہیں فلمایا یا فوٹوگراف کیا گیا ہے۔
اب تک ان کے کئی تحریری پیغامات ایرانی میڈیا میں شائع کیے جا چکے ہیں۔