برطانیہ نے امریکہ کو اپنے اڈے استعما؛ل کرنے کی اجازت دے دی

  • جمعہ 20 / مارچ / 2026

برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ ایران نے اس عمل کو جارحیت قرار دیا ہے۔

اس سے قبل ڈاؤننگ سٹریٹ نے امریکی فورسز کو صرف اُن کارروائیوں کے لیے برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جن کا مقصد ایران کی جانب سے ایسے میزائل حملوں کو روکنا تھا جو برطانوی مفادات یا جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔

تاہم آج ہونے والے ایک اجلاس میں وزرا نے اتفاق کیا ہے کہ برطانوی اڈوں کے استعمال کی یہ اجازت اب بڑھا کر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی امریکی کارروائیوں تک بھی دی جا سکتی ہے۔ برطانیہ خود ان حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے موقف کی بنیادی اصولی پالیسی بدستور برقرار ہے۔

دریں اثنا امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں اضافی میرینز اور ملاح تعینات کر رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں موجود یو ایس ایس باکسر اور 11ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے تقریباً 2500 میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا جائے گا۔

برطانوی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کی سیکریٹری خارجہ یویت کوپر نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے فون پر گفتگو کی ہے اور انہیں برطانوی اڈوں پر حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی فون پر ہونے والی گفتگو کی تفصیلات جاری کی تھیں اور کہا تھا کہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کو برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینا ’جارحیت میں شامل‘ ہونے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

برطانوی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کے دوران سیکریٹری خارجہ نے ایران کے حملوں اور خصوصاً تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کی ہے۔ یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ عراقچی نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈز پر اسرائیلی حملوں کی مذمت نہ کرنے پر برطانیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اب سے کچھ دیر پہلے صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایران سے متعلق مختصر بات کی ہے لیکن یہ گفتگو اس بات پر روشنی ڈالنے کے لیے ناکافی ہے کہ امریکی صدر آگے چاہتے کیا ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران سے بات کرنا چاہتے ہیں مگر بات کرنے کے لیے کوئی موجود نہیں ہے۔

امریکی صدر بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کی قیادت سے جُڑی متعدد شخصیات کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ‌ای جنگ کے آغاز میں زخمی ہونے کے بعد شاید جسمانی طور پر ملک کی قیادت کرنے کے قابل نہ رہیں۔ یہ بات بھی واضح نہیں کہ ٹرمپ کس کو ایران میں روزمرہ کے معاملات چلانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں یا ان کے خیال میں آگے کون ملک کی قیادت سنبھال سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کو ’بزدل‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لیے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانا آسان ہے۔ انہوں نے ٹروتھ سوشل پر نیٹو پر تنقید کی اور تنظیم سے متعلق اُن کا خیال تھا کہ اس کی اہمیت اور طاقت بس صرف کاغذوں کی حد تک ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’امریکہ کے بغیر، نیٹو ایک کاغذی شیر ہے۔ نیٹو میں شامل مُمالک جوہری طاقت رکھنے والی ریاست ایران کو روکنے اور عالمی قوانین کا پابند بنانے والی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔