ایران کا امریکی برطانوی اڈے ڈیاگو گارشیا پر میزائل حملہ

  • ہفتہ 21 / مارچ / 2026

ایران نے برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا کی جانب دمیزائل فائر کیے ہیں تاہم اس حملے میں تاحال کسی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ ناکام حملہ اس وقت ہوا جب برطانیہ نے گزشتہ رات امریکی افواج کو برطانوی اڈوں کے اضافی استعمال کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے کہ وال سٹریٹ جرنل نے جمعہ کو کئی امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے ڈیاگو گارشیا اڈے پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں لیکن یہ میزائل بحر ہند میں امریکی اور برطانوی مشترکہ فوجی اڈے کو نشانہ نہیں بنا سکے۔

دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع نے امریکی میڈیا کی اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ ایران کی طرف سے ڈیاگو گارسیا پر امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کی طرف میزائل داغے گئے۔ وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے آج صبح جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ایران کے حملے پورے خطے میں پھیل چکے ہیں اور آبنائے ہرمز کو یرغمال بنا چکے ہیں، برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔‘

بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے برطانوی خودمختار فوجی اڈے ڈیاگو گارسیا کی جانب دو میزائل فائر کیے تھے تاہم دونوں میں سے کوئی بھی میزائل ہدف تک نہیں پہنچا۔

یاد رہے کہ ڈیاگو گارشیا جزیرہ ایران کے سب سے جنوبی جغرافیائی مقام، پاسبندر کی بندرگاہ سے 3800 کلومیٹر دور ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی رینج 2000 سے 2500 کلومیٹر کے درمیان ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کر کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق رات بھر جاری رہنے والی کارروائی میں اسرائیلی فضائیہ نے وہ مقامات تباہ کیے جو بیلسٹک میزائلوں کے اہم پرزے تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی مرکزی فضائی حدود میں اسرائیل کے ایف سولہ لڑاکا طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی صبح تین بج کر پینتالیس منٹ پر کی گئی اور جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کا ایک لڑاکا طیارہ ایرانی فضائی حدود میں کارروائی کے دوران فضائی دفاعی نظام کی زد میں آیا تھا لیکن پائلٹ نے بروقت خطرے کو محسوس کیا جس کے باعث طیارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اس نے طے شدہ ہدف کامیابی سے مکمل کیا۔