امریکہ جنگ کیسے بند کرے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 21 / مارچ / 2026
ایران کے خلاف عسکری کارروائی صدر ٹرمپ کے لیے نت نئی سیاسی مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔ وہ اپنی پریشانی اور گھبراہٹ کو زوردار بیانات اور ایران کے خلاف سخت کارروائیوں کی دھمکیاں دے کر چھپانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن درحقیقت اب امریکہ کے پاس اس جنگ سے باہر نکلنے کے راستے مسدود ہیں۔
دوسری طرف ایران کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف جنگ کے مکمل خاتمے اور آئیندہ کبھی ایران پر حملہ نہ کرنے کے وعدے کے بغیر جنگ بند نہیں ہوسکتی۔ ایسے میں اہم ترین سوال یہی ہے کہ ایران کے پاس کتنی مدت تک میزائل حملے جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز بند رکھنے کی صلاحیت موجود رہتی ہے۔ اب واضح ہورہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے آبی راستے پر ایران کا مکمل کنٹرول امریکی اتھارٹی اور بالادستی کے لیے حقیقی چیلنج بن چکا ہے۔ اگرچہ امریکی افواج نے آج اعلان کیا ہے کہ ایران پر تواتر سے ہونے والے حملوں میں امریکہ نے آبنائے ہرمز بند رکھنے کی ایرانی صلاحیت کم کردی ہے۔ تاہم ایسے دعوے اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں رکھتے جب تک آبنائے ہرمز سے تمام باربردار جہاز اور ٹینکر آزادانہ گزرنے کے قابل نہیں ہوتے۔
ابھی تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران نے اپنے ان اعلانات کو سچ کر دکھایا ہے کہ وہ اس بحری راستے کو اس وقت تک بند رکھے گا جب تک اس کے خلاف امریکی و اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی۔ اس ایرانی حکمت عملی کا مقصد درحقیقت تیل کی قیمتوں میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے امریکہ کو معاشی بحران کے جال میں پھنسانا ہے۔ امریکہ نے یہ مشکل حل کرنے کے لیے ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندی عارضی طور ختم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اعلان کو تیل کی منڈیوں میں پزایرائی نہیں مل سکی اور تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز کھولنے یا دوسرے لفظوں میں ایران سے اس کا کنٹرول واپس لینے کے لیے اپنے عالمی حلیفوں سے مدد طلب کی تھی لیکن کسی بھی ملک نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا۔ امریکہ کے قریب ترین حلیف برطانیہ نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ یہ جنگ امریکہ نے شروع کی تھی، یہ فیصلہ بھی اسے ہی کرنا ہے کہ اسے کیسے بند کرنا ہے۔ برطانیہ اس میں حصہ دار نہیں بنے گا۔ یورپین یونین نے بھی اس دعوت کو قبول کرنے سے معذرت کی۔ اسی صورت حال میں امریکہ نے گزشتہ ر وز نیٹو میں اپنے حلیف ممالک کو ’بزدل ‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ دفاعی تنظیم امریکہ ہی کے دم قدم سے ہے۔ یورپ تو اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ٹرمپ نے اگرچہ کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی بحریہ ہی کافی ہے اور اسے کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم عملی طور سے یہ دعویٰ درست معلوم نہیں ہوتا یا کم از کم امریکہ ابھی تک اس پر عمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
شدید امریکی دباؤ اور اصرار پر آج متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے 22 ممالک کی طرف سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو بحری سفر کے لیے کھلا رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر فوجی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ یہ بیان یو اے ای اور بحرین کے علاوہ بیشتر یورپی ممالک، جاپان اور آسٹریلیا کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’ ہم آبنائے کے ذریعے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنے پراپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم ان ممالک کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں جو اس مقصد کے لیےتیاری میں مصروف ہیں۔ہم تیل اور گیس کی تنصیبات کے علاوہ شہری انفرا اسٹرکچر پر حملےفوری طور سے بند کرنےکا مطالبہ کرتے ہیں‘۔ البتہ اس آمادگی کی توضیح ممکن نہیں ہے کیوں کہ اس اعلان پر دستخط کرنے والے بیشتر ممالک پہلے ہی آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے کوئی عسکری مدد کرنے سے معذوری ظاہر کرچکے ہیں۔ اس لیے یہ بیان بظاہر محض امریکہ کی ’اخلاقی‘ مدد سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
اس دوران ماہرین اس جنگ کے حوالے سے یہ بحث کررہے ہیں کہ امریکہ کسی قسم کی ہزیمت کا سامنا کیے بغیر امریکہ اس جنگ کو کیسے بند کرسکتا ہے ۔ صدر ٹرمپ کے روزانہ کی بنیاد پر بدلتے مؤقف اور دعوؤں کی روشنی میں اگرچہ سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ ٹرمپ کسی بھی وقت اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے جنگ سے دست بردار ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس صورت میں مزید جنگ کا خطرہ باقی رہے گا اور ایران سے یہ توقع بھی نہیں کی جاسکتی کہ وہ یک طرف طور پر مشرق وسطیٰ میں ’امریکی اثاثوں‘ کو نشانہ بنانا ترک کردے۔ اس صورت میں ایران کو یہ اندیشہ رہے گا کہ کسی معاہدے کے بغیر بند ہونے والی جنگ کسی نئے حملہ کی راہ ہموار کرے گی۔ ایرانی حکومت اب ایسا خطرہ مول لینے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ امکان موجود ہے کہ امریکہ براہ راست جنگ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردے اور اسرائیل ، ایران پر حملےجاری رکھے۔ تاہم اس طریقے سے بھی مشرق وسطیٰ کا معاشی و سیاسی بحران سنگین ہوگا جو براہ راست امریکی مفادات پر اثر انداز ہوگا۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اگر اس جنگ سے سرخرو ہو کر باہر نکلنا چاہتا ہے تواسے تین اہداف حاصل کرنے پڑیں گے۔ ایک :آبنائے ہرمز میں بحری سفر بحال ہوجائے۔ دوئم: تہران میں موجودہ رجیم ختم کردی جائے اور متبادل حکومتی انتظام استوار ہوجائے۔ سوئم: ایران کے پاس موجود ساٹھ فیصد تک افزودہ یورنیم تلاش کرکے اس پر قبضہ کیا جائے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا خیال ہے کہ ایران کے پاس چار سو کلو ساٹھ فیصد افزودہ یورنیم موجود ہے جو اس نے کسی زیر زمین محفوظ جگہ پر چھپایا ہؤا ہے۔ امریکہ اس جگہ کو تلاش کرکے اسے تباہ کرنے میں ناکام ہے۔ اس یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے امریکہ کو زمینی فوج کشی کرنا پڑے گی جو موجودہ حالات میں خود کشی کے مترادف ہوگی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ موجودہ حکومتی انتظام کی موجودگی میں ہی جنگ سے فرار حاصل کرلیتا ہے تو ایران مختصر مدت ہی میں جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے یورینیم کو 90 فیصد تک افزودہ کرنا پڑتا ہے ۔ ایران ایک سے دو سال میں موجودہ یورینیم کو اس سطح تک پہنچا سکتا ہے جو 11 جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو گا۔ ماہرین اس پرمتفق ہیں کہ اگر امریکہ یہ اہداف حاصل نہیں کرپاتا تو یہ مہنگی جنگی کوشش رائیگاں جائے گی اور زخم خوردہ ایرانی حکومت امریکہ اور خطے کے لیے زیادہ خطرناک ہوگی۔
تاہم صورت حال کے اس عملی تجزیے میں سفارتی کاوشوں کا حوالہ موجود نہیں ہے۔ اب بھی اگر امریکہ سفارتی ہوشمندی سے کام لے اور ایران کو انگیج کرنے کی کوشش کی جائے تو اسے متعدد عرب ممالک کے علاوہ پاکستان اور ترکیہ کی خدمات حاصل ہوسکتی ہیں۔ تاہم اب کسی سفارتی حل میں امریکہ صرف شرائط منوانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا بلکہ اسے ایران کے کچھ مطالبے بھی ماننا پڑیں گے۔ دنیا کو مکمل تباہی سے بچانے اور کسی عالمگیر معاشی بحران سے بچنے کے لیے ایسا کوئی بھی معاہدہ سب کی کامیابی کا راستہ ہموار کرسکتا ہے۔