ٹرمپ کی بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکی کے بعد مشرق وسطیٰ میں تشویش

  • اتوار 22 / مارچ / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امریکہ سے تعلق رکھنے والے توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بغیر کسی خطرے کے نہ کھولا تو امریکہ ایران کے مختلف پاور پلانٹس کو تباہ کر دے گا اور اس کا آغاز سب سے بڑے پاور پلانٹ پر حملے سے کیا جائے گا۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں توانائی اور پانی کی تنصیبات پر حملے کر سکتا ہے۔ ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ کے ترجمان ابرہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ ایران نہ صرف تیل و گیس کی تنصیبات بلکہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ تنصیبات جو امریکا اور اسرائیل سے منسلک ہوں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اگر ڈونلڈ ٹرمپ پاور پلانٹس پر حملے کی اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو اس کے ایران کے لیے تباہ کن نتائج ثابت ہوں گے۔ تاہم کئی دہائیوں سے، ایرانی حکومت اس بات کا مظاہرہ کر چکی ہے کہ وہ اپنی حکومت اور اس کی ’انقلابی اقدار‘ کو زندہ رکھنے کے لیے معاشی نقصانات اور اپنے عوام کو پہنچنے والے مصائب کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی قیادت سمجھتی ہے کہ ٹرمپ اپنی دھمکی پر عملدرآمد نہیں کریں گے اور انہیں امید ہے کہ اس دوران خلیجی ممالک ایرانی دباؤ کے نتیجے میں امریکہ کو تحمل کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کریں گے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی ممالک نے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ایران سے رابطہ کیا ہے۔ عمان سفارت کاری کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز اٹھاتا رہا ہے۔

دریں اثنا ایران کی نیم سرکاری خبر خبررساں ایجنسی مہر کے مطابق اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں ایران کے نمائندے کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ’ایران کے دشمنوں‘ سے منسلک جہازوں کے علاوہ تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے۔

ایرانی نمائندے علی موسوی کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ حفاظتی انتظامات کے متعلق رابطہ قائم کر کے اس آبی گزرگاہ سے گزرنا ممکن ہے۔

موسوی کا کہنا ہے کہ ’سفارت کاری ایران کی ترجیح ہے۔ تاہم جارحیت کا مکمل خاتمہ نیز باہمی اعتماد کی بحالی زیادہ اہم ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی حملے ’آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی جڑ‘ ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اسرائیل کے نتیجے میں میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے ایران وقتاً فوقتاً حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

ادھر اسرائیل میں ایمرجنسی سروسز کے حکام کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو ملک میں ایک جوہری تنصیب کے قریب ہونے والے ایرانی میزائل حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 160 سے زیادہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ ایرانی میزائل حملے اسرائیل کے علاقے عراد اور دیمونا میں ہوئے تھے۔

بیلسٹک میزائل حملوں میں 84 افراد عراد اور 78 افراد دیمونا میں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دونوں قصبے ایک اسرائیلی جوہری تنصیب کے قریب واقع ہیں۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق اسے جوہری تحقیق کے اس مرکز کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

یاد رہے کہ حملے کا نشانہ بننے والا دیمونا نامی قصبہ اسرائیلی جوہری تنصیب سے لگ بھگ 13 کلومیٹر دور واقع ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملہ ہفتہ کے روز ایران کی نظنز جوہری تنصیب پر مبینہ اسرائیلی حملے کے بعد ردعمل میں کیا گیا ہے۔