امریکہ دھمکیوں سے آبنائے ہرمز نہیں کھلو اسکتا!

یہ کہنا مشکل ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی  آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کا حکم صادر کرسکتے ہیں۔ تاہم ایک ایسی جنگ میں جہاں دنیا کی سپر پاور اپنی تمام  تر عسکری قوت کے ساتھ ایک کمزور اور چھوٹے ملک پر حملہ آور ہو، اس قسم کی دھمکی انسانیت سوز، احمقانہ اور  پورے خطے کو ایک وسیع تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔

بلاشبہ ایران امریکہ کے لیے درد سر رہا ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے تمام عرب ممالک  توطویل عرصہ سے امریکہ کے حلقہ بگوش رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی یک طرفہ اور شدت پسندانہ حمایت کے باوجود امریکہ کا ساتھ دیا ،  اس کی معیشت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کی  اور نام نہاد ’حفاظت‘ کے نام پر اپنی سرزمین امریکی فوجی اڈے بنانے کے لیے فراہم کی۔ تاکہ امریکہ اس پورے خطے میں اپنی من مانی کرسکے۔ اس کے باوجود اگر کوئی امریکی صدر صرف ایک ’دشمن‘ ملک کو نیچا دکھانے کے لیے اس کے  بجلی گھروں کو نشانہ بنا کر ایران کو اندھیرے میں دھکیلنا چاہتا ہے تو وہ درحقیقت ایک کمزور اور کم تر ملک کے سامنے اپنی بے بسی کا اعتراف کرے گا اور مشرق وسطی میں اپنے دیرینہ حلیف ممالک کے لیے  خوفناک اور شدید تباہی کا سبب بنے گا۔

اس وقت  عرب ممالک پر ایرانی میزائل حملوں کی بنیادی وجہ وہاں موجود امریکی اڈے ہیں یا یہ کہ ان ممالک نے اسرائیل و امریکہ کو   اپنی فضا  ئیں استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ یوں تو عرب ممالک کا دعویٰ ہے کہ اس کے ہاں قائم امریکی اڈے ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوئے اور نہ  ہی  ایران پر حملہ آور ممالک  کو ان  عرب ملکوں کی فضا استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔  لیکن حقائق کی روشنی میں یہ دعوے شاید درست ثابت نہ ہو سکیں۔ یوں بھی کوئی عرب ملک بھی یہ وضاحت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اگر وہ ایران کا خیر خواہ ہے اور امریکی اڈے ایران کے خلاف امریکی جنگ جوئی میں استعمال نہیں ہوئے تو انہیں کس مقصد سے قائم کیا گیا تھا؟ ان ممالک کوایران کے علاوہ کس ملک سے خطرہ لاحق ہے؟ کیا کبھی یہ اڈے اور امریکہ سے کثیر معاوضے پر خریدا ہؤا جدید اسلحہ اسرائیل کے خلاف استعمال ہوگا؟  غزہ میں کارروائی کے دوران اسرائیل نے  قطر پر حملہ کرکے حماس کے لیڈروں کو قتل کیا تھا لیکن امریکہ نے اپنے اس لاڈلے کی سرزنش نہیں کی۔

صدر ٹرمپ اس وقت ایران کی جنگ میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔ اس صورت حال کے بارے میں ماہرین کی اکثریت اور امریکہ کے عرب حلیف ممالک بہت پہلے سے متنبہ  کررہے تھے۔ لیکن 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کرنے سے پہلے نہ توکسی کو اعتماد میں لیا  گیا، نہ اہداف کا تعین کیا گیا اور نہ ہی ’باہر نکلنے کا کوئی راستہ‘ پیش نظر رکھا  گیا۔ اب ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر ایران کو صفحہ ہستی سے ملیا میٹ کردینے کے بچگانہ اور غیر حقیقی بیانات جاری کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس جنگ میں کامیابی کا اعلان کرکے اس سے نکلنے کے  قابل نہیں ہیں۔ اگرچہ دنیا بھر کے مبصرین جانتے ہیں کہ صد ٹرمپ جیسا   لیڈر کسی وقت کچھ بھی کہہ اور کر سکتا ہے لیکن ایران میں عسکری کارروائی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اگر ٹرمپ ایران کو شکست فاش دینے کا دعویٰ کرتے ہویئے جنگ بند کرنے کا اعلان کریں تو اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔  دنیا کی طاقت ور ترین فوج  کے حملوں کے باوجود جب ایران نہ تو شکست قبول کرے، نہ جھکنے اور شرائط ماننے پر آمادہ ہو اور ایک کے بعد دوسرا لیڈر مارنے کے باوجود اگر تہران حکومت بدستور فعال رہے تو یک طرفہ کامیابی کا اعلان خواہ کیسے ہی شاندار الفاظ میں جاری کیا جائے، کوئی بھی اسے  نہیں مانےگا۔ یہی صدر ٹرمپ  کی سب سے بڑی مشکل ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش ایک ایسا ہی معاملہ ہے۔  صدرٹرمپ اسے کھلا رکھنے اور تمام بحری ٹریفک وہاں سے گزرنے کی شدید  خواہش کے باوجود ایران  کا کنٹرول ختم کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اب  اس آبی گزرگاہ کو کھلوانے کے لیے ایران کے پاور اسٹیشنز کو نشانہ بنانے کی دھمکی  سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوج نے اپنے صدر  پر واضح کردیا ہے کہ وہ  وہاں سے باحفاظت سمندری سفر کی ضمانت یقینی نہیں بنا سکتی۔ گویا امریکہ اور اس کی  طاقت ور بحریہ ایرانی صلاحیت کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ اسی خفت کو مٹانے کے لیے اب ٹرمپ  دھمکیوں سے ایران کو آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر مجبور  کرنا  چاہتے ہیں۔   ایران کے لیڈروں نے واضح کردیا ہے کہ وہ امریکہ کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے اور آبنائے ہرمز سے  ان ہی ممالک کے بحری جہاز گزرسکیں گے جنہیں ایران جنگ میں امریکہ کا حلیف نہیں سمجھتا۔  ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں  ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں توانائی اور پانی کی تنصیبات پر حملے کر سکتا ہے۔ ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ کے ترجمان ابرہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ ایران نہ صرف تیل و گیس کی تنصیبات بلکہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ تنصیبات جو امریکا اور اسرائیل سے منسلک ہوں۔

امریکہ کے علاوہ  خطے کے تمام ممالک اب اس بات کا تجربہ کرچکے ہیں کہ ایران ابھی تک اپنے دعوؤں پر عمل کرنے میں کامیاب ہؤا ہے۔ اس نے ہمسایہ عرب ممالک میں امریکی اثاثوں کو ٹارگٹ کیا ہے۔ تین دن پہلے جب اسرائیل نے ایران  کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیاتو جواب میں ایران نے قطر، سعودی عرب اور  بحرین  میں گیس و تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا۔  راس لافان میں قطر کی گیس  تنصیبات پر ایرانی حملوں سے   گیس کی  عالمی سپلائی میں  قابل ذکرکمی واقع ہوگی۔ اسی جوابی کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ کو وعدہ کرنا پڑا تھا کہ اسرائیل اب ایران کی گیس و تیل تنصیبات کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ اس لیے  یہ قرین قیاس ہونا چاہئے  کہ اگر امریکہ نے ایران  میں بجلی کے نظام کو تباہ کرکے ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا تو جوابی کارروائی میں ایران خلیجی ممالک میں بھاری نقصان کرنے اور معمولات زندگی محدود کرنے کی  بھرپور کوشش کرے گا۔

پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے سے کوئی حکومت گرانے کی امید انتہاپسندانہ رویہ کہا جاسکتا ہے کیوں کہ اس قسم کی تباہی کا سب سے زیادہ اثر عام شہریوں کی زندگیوں پر ہوگا اور وہ بجلی ہی نہیں بلکہ اس کے ذریعے شہری عمارتوں میں زندگی ممکن بنانے کے  امکان سے محروم کیے جائیں گے۔ یہ بے گناہ انسانوں کو سزا دینے اور معصوم زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ صدر ٹرمپ کو بھول جانا چاہئے کہ ان کی گیدڑ بھببکیوں سے ایرانی لیڈر اپنی پالیسی تبدیل کرلیں گے یا آبنائے ہرمز کو امریکہ کی خواہش کے مطابق کھولنے پر آمادہ ہوں گے۔ ایرانی لیڈروں کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ یہ آبی گزرگاہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت  کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ جب تک امریکی حملے بند نہیں ہوتے اسے بند رکھا جائے گا۔

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ایران میں وسیع تباہی ہوئی ہے۔ تعمیر نو کے کام میں دہائیاں صرف ہوجائیں گی اور اس کام کے لیے کثیر وسائل صرف ہوں گے۔  اب واضح ہورہا ہے کہ امریکہ تباہی تو  پھیلا سکتا ہے لیکن  وہ ایران کو جھکنے یا شکست تسلیم کرنے  پر مجبور نہیں کرسکا۔ اب اگر اس مشکل سے نکلنے کے لیے شہری زندگی معطل کرنے  جیسے انسانیت سوز اقدام کیے گئے تو ٹرمپ صرف جنگی جرائم کے ہی مرتکب  قرار نہیں پائیں گے بلکہ تاریخ میں ان کا نام ظالم، عاقبت نااندیش اور امریکہ کو ہزیمت کی طرف لے جانے والے صدر کے طور پر لکھا جائے گا۔