امریکہ کا ایران پر پانچ روز کے لیے حملے روکنے کا اعلان

  • سوموار 23 / مارچ / 2026

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ’مکمل اور جامع حل‘ کے حوالے سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ اس لیے وہ ’ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر، بلکہ ایران میں تمام حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس تفصیلی اور تعمیری بات چیت کے انداز اور لہجے کی بنیاد پر جو اس ہفتے بھر جاری رہیں گی، میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر تمام فوجی حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے، جو جاری ملاقاتوں اور مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی اردو کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ پیغام شاید ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے آغاز کے بعد سے ان کا سب سے زیادہ مفاہمتی بیان تھا، تاہم اس میں کئی اہم سوالات کے جواب نہیں ملتے۔

اگرچہ انہوں نے ایران کے ساتھ ’تعمیری اور نتیجہ خیز‘ بات چیت کا ذکر کیا، لیکن اس کی ایرانی حکام نے تصدیق نہیں کی اور یہ بیان اس جارحانہ لہجے کے بالکل برعکس ہے جو فریقین نے ہفتے کے آخر میں اختیار کیا تھا۔

یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ان مذاکرات میں کن امور پر بات ہوئی۔ ممکن ہے کہ یہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، جوہری افزودگی، یا صرف جنگ بندی سے متعلق ہوں، جس امکان کو ٹرمپ نے جمعہ کے روز خاص طور پر کم اہمیت دی تھی۔ یہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اسے بحری آمدورفت کے لیے کھولنا ایک ایسا معاملہ ہے جس کا ایران نے تاحال عوامی طور پر وعدہ نہیں کیا۔ اکثر ماہرین اسے غیر متوقع سمجھتے ہیں، کیونکہ ہرمز پر ایران کا کنٹرول اس جنگ میں اس کا سب سے بڑا دباؤ کا ذریعہ ہے۔

تاہم دنیا کی نظریں ان مذاکرات سے متعلق کسی بھی نئی پیش رفت یا تفصیلات پر مرکوز ہیں۔ دیکھنا ہوگا یہ آگے چل کر حالات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایران کے خبر رساں ادارے فارس نیوز نے ایک نامعلوم ایرانی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ ’ٹرمپ کے ساتھ کوئی بلاواسطہ یا بالواسطہ رابطہ نہیں‘ ہوا۔ ذرائع کے مطابق جب انہوں نے سنا کہ ہمارے اہداف میں مغربی ایشیا کے تمام بجلی گھر شامل ہوں گے تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔