جنگ میں پانچ دن کا سنسنی خیز وقفہ
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 23 / مارچ / 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد بھی کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان بہت تعمیری بات چیت ہوئی ہے‘ ، یہ کہنا مشکل ہے کہ پانچ دن کی یک طرفہ جنگ بندی کسی حتمی معاہدے کی بنیاد بن سکے گی۔ البتہ آج صبح اچانک جنگ بند کرنے کا اعلان کرکے صدر ٹرمپ نے یہ ضرور واضح کردیا کہ انہیں اس جنگ کو کسی حتمی نتیجے تک پہنچانے کی جلدی ہے۔ البتہ تہران میں یہ عجلت دیکھنے میں نہیں آتی۔
بیشتر مبصرین کے نزدیک دونوں ملکوں کے درمیان مزاج اور طرز عمل کا یہی فرق اس جنگ کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ اس وقت یہ سوال نہیں ہے کہ کیا امریکہ حملے بند کردے گا بلکہ اس کے برعکس یہ سوال زیادہ اہم ہوگا کہ کیا ایران بھی جوابی حملے روک دے گا اور بات چیت کے ذریعے امریکہ کو وہ سب کچھ دینے پر آمادہ ہوجائےگا جو وہ ساڑھے تین ہفتے کی جنگ جوئی میں حاصل نہیں کرسکا۔
ابھی تک تہران نے ٹرمپ کی طرف سے پس پردہ مذاکرات اور ’مثبت‘ پیش رفت کو مسترد کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہورہے تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے یہ اشارہ ضرور دیاہے کہ بعض دوست ممالک نے مذاکرات کی دعوت دی ہے اور معاملات پر امن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان بیک ڈور رابطوں میں ترکیہ اور مصر کے علاوہ پاکستان کا کردار بھی دکھائی دے رہا ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کے ساتھ بات کی تھی اور آج وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ سے فون پر بات چیت ہوئی ہے۔
ٹرمپ کا یہ اعلان ان کی طرف سے دی ہوئی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہےجس میں انہوں نے آبنائے ہرمز نہ کھلنے کی صورت میں ایران کے پاور اسٹیشنز کو تباہ کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔ یہ مہلت آج رات کے دوران ختم ہونے والی تھی۔ اس کے بعد یا تو ٹرمپ کو اپنے اعلان کے مطابق ایران کے پاور اسٹیشنز کو تباہ کرکے جنگ کو ایک نئے بھیانک موڑ تک پہنچانے کا فیصلہ کرنا تھا یا انہیں اس فیصلہ پر پشیمانی کا اظہار کرکے اسے واپس لینے کا اعلان کرنا پڑتا ۔ جنگ بندی کے بارے میں ٹرمپ کے بیان کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ایک غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل عمل دھمکی واپس لینے کے لیے یہ راستہ اختیا رکیا ہے۔ کیوں کہ اگر وہ ایران کی طرف سے کسی وعدے یا یقین دہانی کے بغیر ہی جنگ بند کردینے کا اعلان کرتے تو اس سے امریکہ اور اس کے صدر کی رسوائی ہوتی۔ اب اگر پانچ دنوں کے بعد ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو صدر ٹرمپ ایک بار پھر حملے شروع کرکے اس اعلان کو ماضی کا حصہ سمجھ لیں گے کہ کوئی امریکی مطالبہ منوانے کے لیے بجلی گھروں کو تباہ کرنے کا اقدام بھی کیا جاسکتا ہے۔
ایران نے اس دھمکی کے بعد واضح کردیا تھا کہ اگر اس کے ہاں انسانی ضرورت کی اس بنیادی سہولت کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ مشرق وسطیٰ میں نہ صرف بجلی گھروں کو نشانہ بنائے گا بلکہ پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مراکز کو بھی ہدف بنایا جائے گا۔ اب ایرانی ذرائع کا یہی دعویٰ ہے کہ اسی جوابی انتباہ سے گھبرا کر امریکہ نے اپنا اعلان واپس لیا ہے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ عرب ممالک نے بھی صدر ٹرمپ کو ایران کے پاور اسٹتیشنز پر حملوں کے بھیانک اثرات کے بارے میں مطلع کیا ہوگا کہ کیسے اس کے نتیجے میں پورا خطہ خطرناک اور تباہ کن صورت حال کا سامنا کرسکتا ہے۔ عرب ممالک پینے کے پانی کے لیے صاف پانی کے پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کی سپلائی رک جانے سے موسم گرما کے آغاز پر ہی انسانی زندگی کے لیے شدید مسائل پیدا ہوسکتے تھے۔ یوں ایران کو دھمکیوں سے مرعوب کرکے اپنے اہداف حاصل کرنے کی امریکی پالیسی تو ناکام ہوگئی ہے۔ اس لیے صدر ٹرمپ کا یہ اعلان مناسب اور مثبت ہے کہ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرلیے جائیں۔
تاہم اس معاملہ میں سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ ایران کو جنگ بندی پر راضی کرنے کے لیے امریکہ کیا پیش کش کرسکتا ہے۔ اگر ٹرمپ کے اعلان کے مطابق ایران کے ساتھ امریکہ کے مثبت اور تعمیری مذاکرات ہورہے ہیں تو اس میں دونوں فریقوں کے لیے کچھ نہ کچھ ہونا چاہئے۔ ناجائز جنگ کا سامنا کرنے اور اپنے اہم لیڈر مروانے کے بعد ایران صرف امریکی شرائط پر معاہدہ نہیں کرے گا۔ اگر ایسا کوئی معاہدہ سامنے آیا جس میں ایران جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے سو فیصد دست بردار ہوگیا تو دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکہ اس کے بدلے میں ایران پر عائد معاشی پابندیاں اٹھانے پر راضی ہوگا اور ایران کو اپنے عوام کی سہولت اور تعمیر نو کے لیے اقتصادی وسائل حاصل ہوسکیں گے۔ صدر ٹرمپ نے یہ تو واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری پروگرام بند کرنا پڑے گا لیکن اس بار انہوں نے بلاسٹک میزائلز کا ذکر نہیں کیا حالانکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے دونوں ملکوں میں اسی موضوع پر اختلاف تھا۔ ایران جوہری پروگرام سمیٹنے پر راضی تھا لیکن میزائل پروگرام کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتا تھا۔ اب دیکھنا ہوگا کہ کیا ایران نے یہ سرخ لکیر فراموش کردی ہے یا امریکہ اسے تسلیم کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔
امریکہ نے کامیابی کی طرف بڑھتے ہوئے مذاکرات کے دوران اسرائیل کے بہکاوے میں آکر ایران پر حملے شروع کردیے تھے۔ امریکہ و اسرائیل کی توقع کے برعکس ایران نے شدید مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ نہ تو اس کی اعلیٰ ترین قیاد ت کی ہلاکت کے بعد تہران میں حکومت تبدیل ہوئی اور نہ ہی ایران کی طرف میزائل حملے بند ہوئے۔ اور نہ ہی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں کامیاب ہوسکا ہے۔ بلکہ ایرانی میزائل اس دوران اپنے تمام عرب ہمسایوں کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ جنگ بندی کا مرحلہ طے کرنے کے باوجود مستقبل قریب میں عرب ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات بحال کرنا اور اعتماد پیدا کرنے کا کام زیادہ دشوار ہوگا۔ لیکن فوری سوال ضرور جنگ بندی سے متعلق ہے۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کسی ’شکست خوردہ‘ فریق کے طور پر شریک نہیں ہوگا۔ ایسے میں دیکھنا ہوگا کہ کیا ٹرمپ اب ایران کے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاملات طے کرنے پر آمادہ ہیں؟
یہ ایسا مشکل سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کے لیے پوری دنیا کو مزید پانچ دن انتظار کرنا ہوگا۔ اگر ایرانی لیڈر اپنے دعوؤں کے برعکس ’ہتھیار پھینک دینے‘ جیسے کسی معاہدے پر متفق ہوگئے تو وہ ان مظلوم ایرانی عوام کے سامنے جوابدہ ہوں گے جنہیں ان کے لیڈروں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے طویل اور ہولناک جنگ کی تباہ کاری کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی شرائط پر طے ہونے والا کوئی معاہدہ موجودہ رجیم کا آخری اہم فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں جو کام امریکی جنگ سے پورا نہیں ہؤا، وہ ایرانی عوام کا غم و غصہ پورا کردے گا۔ اگر ایرانی لیڈر پابندیاں اٹھوانے اور معاشی بحالی کے لیے کسی مثبت معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ، پھر امریکہ اور دنیا کو ایک نئی جوہری طاقت کے ظہور پزیر ہونےکا منتظر رہنا چاہئے۔