شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے بات چیت
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بدھ کو ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے منگل کو کہا تھا کہ اسلام آباد ’اپنی دیرینہ پالیسی کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ ،خلیجِ فارس میں جاری تنازع کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اور بات چیت کے ذریعے کوششوں کے لیے بدستور پرعزم ہے۔‘ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کی رضامندی سے مشروط، پاکستان جاری تنازع کے جامع تصفیے کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کو اعزاز سمجھتا ہے۔
وزیراعظم کے دفتر سے بدھ کی صبح جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے ولی عہد محمد سلمان سے گفتگو میں سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور ایک بار پھر اس مشکل وقت میں مملکت اور اس کے عوام کے لیے پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی ولی عہد کو تمام فریقین تک پاکستان کی تعمیری سفارتی رسائی کے بارے میں آگاہ کیا جس میں کشیدگی کو کم کرنے اور اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے موجودہ بحران میں غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر مملکت کی قیادت کو سراہتے ہوئے ’سعودی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ مملکت اور سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا، اسی طرح جس طرح انہوں نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔‘
وزیراعظم نے فوری طور پر جنگ کے خاتمے اور حالات کو معمول پر لانے پر زور دیا تاکہ علاقائی صورتحال کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے امت کی صفوں میں اتحاد اور ہم آہنگی پر زور دیا جس کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ بیان کے مطابق ’سعودی ولی عہد نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے جس کے بعد ایران نے ان ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔ اس جنگ کے آغاز سے ہی اسلام آباد نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس کے بعد پیر کو وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بات کی، جس میں انہوں نے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ’فوری ضرورت‘ پر زور دیا۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پس پردہ مذاکرات ’مثبت سمت‘ میں جاری ہیں لیکن تہران نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔