امریکہ خود اپنے ساتھ ہی مذاکرات کررہا ہے: ایرانی فوج

  • بدھ 25 / مارچ / 2026

ایران کی مرکزی فوجی کمان ہے نے خود ساختہ عالمی سپر پاورکا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اپنی شکست کو معاہدہ نہ کہیں۔‘ ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ نہ تو خطے میں اپنی سرمایہ کاری دوبارہ دیکھیں گے اور نہ ہی توانائی اور تیل کی وہ پرانی قیمتیں، جب تک آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ خطے کا استحکام ہماری مسلح افواج کے طاقتور ہاتھ سے یقینی بنتا ہے۔ استحکام طاقت سے آتا ہے۔‘

ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ نہ اب، نہ کبھی۔ ترجمان ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کے دعؤوں کو مسترد کرتے ہوئے امریکا کو واضح پیغام دے دیا، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کی سفارتکاری پر کوئی بھی اعتماد نہیں کر سکتا۔ ایران پر امریکی حملے سفارت کاری سے غداری تھی جو دو بار دہرائی گئی۔

بیان میں ترجمان پاسداران انقلاب لیفٹیننٹ کرنل اابراہیم ذوالفقاری کا کہنا تھا کہ کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں، ٹرمپ اپنی ناکامی کو معاہدہ نہ کہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کی مرضی کے بغیر تیل کی پرانی قیمتیں واپس آئیں گی اور نہ ہی پرانا نظام۔

ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی کا خیال ختم ہونا چاہیے۔ ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے متضاد دعوے گردش کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کی سفارتکاری پر کوئی بھی اعتماد نہیں کر سکتا، جس طرح یہ جنگ شروع کی گئی اب کون مذاکرات کے دعوؤں کو قابلِ اعتبار سمجھ سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں اسماعیل بقائی آبنائے ہرمز میں مختلف اقدامات جنگی صورتحال کے باعث نافذ کئے گئے ہیں۔ جو ممالک جارحیت میں شامل نہیں وہ ایران سے رابطہ کر کے اس گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرتا رہے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضا مند ہے۔ ایران میں نئی قیادت معاہدہ کرتہی ہے، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اس نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران ہر قیمت پر معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہم ایران میں بہتر افراد سے بات کر رہے ہیں اور وہ ڈیل چاہتے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیووٹکوف اور مارکوروبیو متحرک ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جنگی صلاحیت مکمل طور پر ختم کر دی گئی، ایران کی نئی قیادت معاہدہ کرنے جارہی ہے۔ ہم اسے رجیم چینج کہہ سکتے ہیں، ایران میں ہم کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہے، ایران رضا مند ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔

بی بی سی کے مطابق امریکہ نے امن کے لیے ایران کو جو پندرہ نکاتی فارمولا دیا ہے وہ درج ذیل ہوسکتی ہیں۔ نطنز، اصفہان اور فردو میں جوہری تنصیبات کو غیر فعال کر کے ختم کیا جائے گا۔ ایران کی سرگرمیوں پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی شفاف نگرانی اور جائزہ ہوگا۔ ایران خطے میں مسلح پراکسیز کا استعمال ترک کرے گا اور علاقائی گروہوں کو فنڈنگ اور اسلحہ فراہم کرنا بند کرے گا۔ پہلے سے جمع شدہ جوہری صلاحیتوں کو ختم کیا جائے گا۔ جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد کیا جائے گا۔

ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہیں کی جائے گی اور تمام افزودہ مواد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حوالے کیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز پرکسی بھی قسم کی پابندی نہیں ہوگی اور اسے ’آزاد بحری زون‘ قرار دیا جائے گا۔ ایران کے میزائلوں سے متعلق فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ تاہم ان کی تعداد اور حد مقرر کی جائے گی اور انہیں صرف دفاعی مقاصد تک محدود رکھا جائے گا۔

بی بی سی نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے میڈیا معلوماےت کے مطابق یہ شرائط ماننے پر امریکہ بوشہر میں بجلی کی پیداوار کے لیے سویلین جوہری منصوبے کی ترقی مدد دے گا۔ ایران پر تمام پابندیوں ختم کردی جائیں گی۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مذاکرات کے دوران ممکنہ طور پر ایک ماہ کی جنگ بندی ہو سکتی ہے تاہم اس کی بھی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔