امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی رپورٹ اور پاکستان کا میزائل پروگرام

امریکی نیشنل ایجنسی کی ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ نے کہا ہے کہ چین،روس، شمالی کوریا،ایران اور پاکستان انٹرنیشنل کانٹی نینٹل بلاسٹک میزائل بنا رہے ہیں جس سے امریکی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔

 انہوں نے یہ بات کسی اخباری بیان کی شکل میں یا پریس کانفرنس میں نہیں کہی بلکہ سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے اراکین کے روبرو انہیں امریکہ کو درپیش خطرات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی ہے ہمیں اس بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان ریجنل اور گلوبل سطح پر بڑی شاندار حکمت عملی کے ذریعے امن کے پیامبر کے طورپر اپنا مقام بنا چکا ہے۔ دوسری طرف دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑنے اور خطے میں امن و امان کے فروغ کے لئے عالمی سطح پر بدنام تحریک طالبان اور ان سے متعلق گروہوں کو آگ و خون میں نہلا رہا ہے اور پاکستان کے اس عزم کو عالمی سطح پر پذیرائی بھی مل رہی ہے۔ یہ پاکستان کی ڈپلومیسی کا نتیجہ ہے کہ ابھی تک سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے سے گتھم گتھا نہیں ہوئے، ایران پاکستان کے اس کردار سے متاثر بھی ہوا ہے  اس نے برملا پاکستان کے عوام، حکومت  و ریاست کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطوں میں بھی ہے۔ یہ رابطے اعلیٰ سطحی وزیراعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی سطح کے ہیں۔پاکستان فعال ڈپلومیسی کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں آتش و آہن کی گرد کو پھیلنے سے روک دیا ہے۔ اسے کسی نہ کسی حد تک کامیابی بھی ملی ہے۔ یہ پاکستان کی ڈپلومیٹک کامیابی نہیں ہے کہ خلیج کے 15ممالک کے اجلاس میں پاکستان بھی موجود تھا حالانکہ پاکستان نہ خلیج میں واقع ہے اور نہ ہی عرب ملک ہے۔ اس کے باوجود اگر ہمارے اسحاق ڈار کو اس میٹنگ میں بلایا اور بٹھایا گیا تو یہ ہمارے لئے عزت و احترام سے بڑھ کر کوئی چیز ہے جو پاکستان کے حصے میں آئی ہے۔ اس سے پہلے امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے حوالے سے پاکستان نے جس ذہانت کا ثبوت دیا ہے، وہ بھی مثالی ہے ۔اور اب ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے میں کامیاب نظر آ رہا ہے۔ اسرائیل کی ناجائز ریاست اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے پاکستان اپنے طے شدہ موقف پر نہ صرف قائم ہے بلکہ اس کا برملا اظہار بھی کرتا رہا ہے۔ اب ایران اور اسرائیل و امریکہ جنگ کے بارے میں موقف بالکل واضح ہے ۔ پاکستان ایران کے اصولی موقف کا حامی ہے۔ اور اس حوالے سے بڑی وضاحت کے ساتھ عمل پیرا بھی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی پابندی کا بھی اعلان کرتا ہے۔

ایران کے اصولی موقف کی حمایت سے سعودی عرب ناراض نہیں ہوتا اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کا بیان دینے پر ایران کو اعتراض نہیں ہوتا۔پاکستان  معاشی طور پر کمزور ہے۔ جنگ کے تھوڑے ہی دنوں میں ہمارے معاشی اعشاریئے گڑبڑا گئے ہیں۔ پٹرول کی فی لٹر قیمت میں 55روپے کا اضافہ عام شہری کے لئے جان لیوا ہے۔ زرمبادلہ کے توازن یعنی توازن تجارت میں گڑبڑ شروع ہو چکی ہے۔ ٹیکسوں کی وصولیوں کے اہداف پہلے ہی پورے نہیں ہو رہے تھے۔ جنگ نے ان میں اور بھی ابتری پیدا کرنے کا سامان پیدا کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے کچھ نئی پابندیاں بھی لگا دی ہیں۔ کچھ نئی شرائط پیش کر دی ہیں جس سے معاملات میں اور بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ جنگ نے عالمی سطح پر معاشی بحران پیدا کر دیا ہے۔ پاکستان بھی اس بحران کی لپیٹ میں ہے ۔ہم چونکہ معاشی طور پر کمزور ہیں اس لئے جنگ کے منفی اثرات نے ہماری کمزوری میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 170روپے فی لٹر اضافہ جان لیوا ہے۔ مٹی کا تیل 358روپے فی لٹر مل رہا ہے۔ عام شہری کہاں جائے، مہنگائی ناقابل برداشت ہو چکی ہے ۔اس لئے جنگ کا خاتمہ پاکستان کے قومی مفاد میں بھی ہے۔

پاکستان اس حوالے سے بڑی جرات کے ساتھ کام کررہا ہے۔ پاکستان کی ڈپلومیسی اور کاوشیں اسی نکتے پر مرکوز ہیں۔ عالمی رائے عامہ بھی اس سمت میں چل رہی ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے بھی اپنے عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لئے جنگ کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کاوشیں بھی کررہے ہیں۔ فرانسیسی صدر نے بھی ایسا ہی کچھ کہا ہے۔ اس سے پہلے ہی یوکرائن جنگ کے باعث یورپی عوام شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ مہنگائی بڑھ چکی ہے۔ یورپی لائف سٹائل مکمل طور پر  الٹ پلٹ ہو چکا ہے ۔اس لئے وہ موجودہ جنگ کو کسی حال میں بھی برداشت نہیں کر سکتے۔  ایسے ہی پس منظر میں یورپی ممالک نے ٹرمپ کی اس جنگ میں شمولیت کی دعوت کو ٹھکرا دیا ہے۔ ناٹو نے کھلے الفاظ میں امریکی صدر کو شٹ اپ کال دی ہے کہ ناٹو کا اس جنگ کے ساتھ کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے یہ جنگ امریکی صدر نے ہمارے مشورے کے بغیر شروع کی ہے اس لئے اب خود اسے نمٹائیں۔

 امریکہ میں داخلی طور پر بھی ٹرمپ کی اس جنگ کے بارے میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں کیونکہ ایران جس پامردی کے ساتھ یہ جنگ لڑ رہا ہے اور امریکی فتح کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے ہیں اور جنگ مخالف امریکی چھا رہے ہیں جس سے ٹرمپ انتظامیہ پریشان ہے۔ ایسے پس منظر میں امریکی نیشنل ایجنسی کا پانچ ممالک کے بین البراعظمی میزائل پروگرام کو امریکی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دینا بنیادی طور پر حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک کاوش ہے۔ ایران کے پاس اگر ایسے میزائل ہوتے تو وہ اب تک امریکی سرزمین پر داغ چکا ہوتا جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ اس حوالے سے وضاحت دے چکا ہے کہ پاکستان کی ڈیفنس پالیسی ہندوستان کے خطرے کے پیش نظر ترتیب دی کی جاتی ہے۔ ہندوستان ہی ہمارا دشمن ہے اور ہم نے اپنی دفاعی صلاحیت بشمول حربی و ضربی معاملات اسی نقطہ نظر سے ترتیب دیئے ہیں۔ ہمارا میزائل پروگرام ہندوستان کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ترتیب دیا ہے۔ ہمارے تمام میزائلوں کی رینج ہندوستان کے اہداف تک ہے۔ اس طرح پاکستان کو امریکی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دینا لغو اور بھونڈی کاوش ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)