امریکہ کے 15نکات کے جواب میں ایران کے5مطالبے
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 26 / مارچ / 2026
پاکستانی ذرائع سے یہ خبر ضرور سامنے آئی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا فیصلہ آئیندہ 48 گھنٹے میں ہوسکتا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ کی بے چینی دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ جنگ بندی کی امید ختم نہ ہونے کے باوجود ایران مذاکرات کی میز پر آنے سے گریز کررہا ہے۔ اس گریز کی متعدد قابل فہم وجوہات موجود ہیں لیکن ایران کے پا س جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت اور جواز نہیں ہے۔
یہ خبر بھی عالمی میڈیا میں کئی دن سے سامنے آرہی ہے کہ امریکہ نے ایران کو جنگ بندی کے لیے پندرہ نکات پر مشتمل ایک منصوبہ روانہ کیا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے ہی یہ فہرست ایران تک پہنچائی ہے اور تہران کو موصول ہوگئی ہے۔ تاہم ایران نے ان نکات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے پانچ مطالبے پیش کیے ہیں۔ اس طرح بظاہر فریقین کے درمیان بات چیت کا امکان کم ہونے لگا ہے۔ اگرچہ اس عمل میں ثالثی کی کوششیں کرنے والے تین ممالک پاکستان،ترکیہ اور مصر سمیت خطے کے تمام عرب ممالک بھی جنگ بندی کے خواہش مند ہیں۔ بلکہ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البداوی نے تو اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ امن مذاکرات میں انہیں بھی شامل کیاجائے تاکہ عرب ممالک مستقبل میں اپنی سلامتی کی ضمانت حاصل کریں۔ واضح رہے ایران نے امریکی حملوں کا جواب دینے کے لیے متعدد عرب ممالک کو نشانہ بنایا ہے ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ان ریاستوں میں امریکی اثاثوں کو تباہ کررہا ہے تاہم یہ حملے امریکی اڈوں کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی کیے گئے ہیں۔
پاکستان مبینہ طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان مواصلت کا اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ کسی طرح یہ جنگ بند ہو لیکن ایران میں قیادت کا فقدان اور امریکہ کے خلاف پائی جانے والی بداعتمادی اس سلسلہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکہ نے 28 فروری کو اس وقت اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملوں کا آغاز کیا تھا جب عمان میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں مثبت اشارے موصول ہوئے تھے اور ایرانی حلقے یہ کہہ رہے تھے کہ اب معاہدے کے مسودے پر کام شروع کیا جائے گا۔ اسی لیے ایک تو ایران میں تمام اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کے بعد کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں ہے جس کے بارے میں یقین سے کہا جاسکے کہ معاملات پر اس کا کنٹرول ہے اور اس کا کیا ہؤا وعدہ حرف آخر ہوگا۔ نومنتخب رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای نے یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد نہ تو کوئی ویڈیو جاری کی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی آڈیو پیغام سامنے آیا ہے۔ البتہ ان کی طرف سے چند بیانات ضرور نشر کیے گئے ہیں جن میں امریکہ سے انتقام لینے کی بات کی گئی تھی۔ اس قسم کا آخری بیان نوروز کے موقع پر جاری ہؤا تھا۔
اس کے علاہ یہ بھی خبر نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں اور ان تک ایرانی لیڈروں کی رسائی کیسے ممکن ہوتی ہے۔ اسرائیلی اور امریکی ذرائع دعویٰ کرچکے ہیں کہ وہ 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے تاہم ان کی زخموں کی صورت حال کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔ ایران کی طرف سے ان کی حفاظت کے نقطہ نظر سے انہیں پوشیدہ رکھنا قابل فہم ہے لیکن اگر بوجوہ ان تک رسائی ہی نہیں ہے اور وہ حکومت اور پاسداران انقلاب میں اپنے نائیین کو ہدایات دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو جنگ بندی کے عمل میں کوئی بھی پیش رفت ممکن نہیں ہوسکتی۔ خاص طور سے انہوں نے رہبر اعلیٰ بننے کے بعد جو پیغامات دیے ہیں، ان میں صلح یا جنگ بند کرنے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔ مذاکراتی عمل میں اس وقت صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف زیادہ متحرک ہیں۔ پاکستانی لیڈر بھی انہیں لوگوں سے رابطے میں ہیں لیکن کیا یہ تینوں انفرادی طور پر یا مل کر امریکہ کے ساتھ بات چیت یا جنگ بندی کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اگر ثالثی میں سرگرم پاکستانی لیڈر اس اہم نکتہ کو نظر انداز کررہے ہیں اور ان کے پاس مجتبی خامنہ ای کی منظوری حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے تو یہ کوششیں بے نتیجہ بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔
بات چیت کا امکان بند ہونے کے بعد صرف ایران کو ہی بے یقینی کا سامنا نہیں ہوگا بلکہ عالمی معیشت اور پورے خطے کی سلامتی کو اندیشے لاحق ہوں گے۔ ایرانی لیڈروں کی طرف سے اگرچہ مقابلہ کرنے اور امریکہ کو سبق سکھانے کے دعوے تو سننے میں آتے ہیں لیکن ان دعوؤں کا حقیقی زمینی حالات سے موازنہ کیا جائے تو یہ سب بے بنیاد ہی لگتے ہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں ملک مزید تباہ کرانے کی مدت طویل کرلی جائے اور مسلسل انکار سے ایرانی وسائل کو ضائع ہوتے دیکھا جائے لیکن یہ دکھائی نہیں دیتا کہ ایران یہ جنگ کیسے جیت سکتا ہے۔ اس کے پاس نہ تو اسلحہ فراہم کرنے والے ذرائع ہیں اور نہ ہی اس کے مالی وسائل اس قابل ہیں کہ وہ امریکہ جیسی طاقت کے ساتھ مسلسل تصادم کی کیفیت میں رہ سکے۔ ایسے میں مسئلہ کا کوئی سفارتی حل ہی ایک ایسا آپشن ہے جس کے ذریعے ایرانی لیڈر بچا کھچا ملک، قائدین اور وسائل کو محفوظ کرسکتے ہیں۔ پاکستان ایرانی لیڈروں کو یہی باور کرانے اور کسی مناسب حل پر متفق ہونے کا مشورہ دے رہا ہے۔ ایرانی لیڈروں کے لیے یہی کافی ہونا چاہئے کہ صدر ٹرمپ جو موجودہ ایرانی حکومت کو گرانا چاہتے تھے، اب اسی حکومت کے نمائیندوں کے ساتھ بات چیت کا عندیہ دے رہے ہیں۔
امریکہ جنگ کو طول نہیں دے سکتا۔ لیکن ا س کا یہ مطلب نکالنا کہ وہ مکمل ہزیمت کے ساتھ یہ جنگ بند کرنے پر مجبور ہوجائے گا، درست نہیں ہوگا۔ ایرانی لیڈروں کے عدم تعاون کے سبب امریکہ تباہ کاری کی شدت میں اضافہ کرسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے آج ہی ایرانی تیل پر قبضہ کرنے کی بات بھی کی ہے۔ یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ خرگ جزیرے پر قبضہ کرکے ایرانی تیل کی ترسیلات کا راستہ بند کرسکتا ہے۔ ایسی کوئی بھی کوشش ہوسکتا ہے امریکہ کو مہنگی پڑے لیکن اس کا یہ نتیجہ اخذ کرنا نادانی ہوگی کہ امریکہ اس صورت میں جانی نقصان اٹھا کر دم دباکر بھاگ جائے گا۔ ٹرمپ جیسا عاقبت نااندیش لیڈر کوئی بھی غیر متوقع اور ناگہانی فیصلہ کرسکتا ہے جو ایران کے لیے مہلک نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کے لیے جو پندہ نکات پیش کیے گئے ہیں ، وہ ضرور ایک فاتح ملک کی ’شرائط‘ کے مترادف ہیں۔ میڈیا میں مختلف ذرائع سے اس بارے میں جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے دست بردار ہوجائے اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ایرانی جوہری تنصیبات کی نگرانی کرے۔ تمام افزودہ یورینیم کسی غیر جانبدار ملک کے حوالے کیا جائے اور کبھی جوہری صلاحیت حاصل نہ کرنے کا وعدہ کرے۔ اس کے علاوہ ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام پراکسی گروہوں کی اعانت بند کرے اور ان سے قطع تعلق کیاجائے۔ ایران کا میزائل پروگرام محدود کرنے کی شرط بھی ان نکات میں شامل ہے۔ سب سے اہم مطالبہ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور اس بحری راستے کے استعمال کے بین الاقوامی حق کو تسلیم کرنے سے متعلق ہے۔ ان نکات کے مطابق امریکہ یہ شرائط ماننے پر ایران کو سویلین جوہری توانائی کے لیے تعاون فراہم کرے گا اور اس پر عائد مالی پابندیوں میں نرمی کی جائیں گی۔ امریکہ نے سرکاری طور پر ان نکات کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لویٹ نے گزشتہ روز پریس بریفنگ میں یہ ضرور کہا کہ ان میں کچھ سچائی بہر حال موجود ہے۔
اس کے جواب میں ایران نے جو شرائط پیش کی ہیں وہ بھی یک طرف ہیں بلکہ ان کا لب و لہجہ کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے مطالبات جیسا شدت پسندانہ ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ ’دشمن کی طرف سے جارحیت اور قتل عام کا مکمل خاتمہ ہو۔ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہ کرنے کا وعدہ کیا جائے اور اس کی ضمانت فراہم ہو۔ جنگ میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ دیا جائے۔ خطے میں تمام محاذوں اور مزاحمتی گروہوں کے خلاف جنگ ختم کی جائے اور بین الاقوامی برادری آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرے‘۔
دونوں طرف سے پیش کیے گئے نکات کو دیکھا جائے تو بظاہر ان میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دے گا لیکن ایرانی مطالبے یک طرفہ ہونے کے ساتھ فریق مخالف کو فیس سیونگ کا کوئی موقع فراہم کرنے میں ناکام ہیں جبکہ امریکی شرائط میں ایران کی حکومت کو ماننے کے علاوہ اس پر عائد مالی پابندیاں ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس طرح یہ نکات مذاکرات شروع کرنے کے لیے مناسب بنیاد بن سکتے ہیں۔ ایران جوہری ہتھیار ختم کرنے اور یورنیم افزودگی سے باز رہنے کے اشارے دیتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز ہمیشہ ایک آزاد آبی گزرگاہ رہی ہے۔ ایران یہ نکات مان کر میزائلوں کے بارے میں اپنی کچھ شرطیں منوا سکتا ہے۔ تاہم اگر جنگی تاوان کی ادائیگی اور پراکسی گروہوں کی سرپرستی جاری رکھنے پر اصرار کیا گیا تو جنگ امریکی شرائط پر ہی بند ہوگی۔ اس صورت میں شاید کسی بھی صورت ایران کا موجودہ نظام حکومت ختم کرنے کا مقصد حاصل کیا جائے گا۔
ایرانی زیرک اور ہوشیار لوگ ہیں۔ انہیں موجودہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرکے باعزت طریقے سے اس تنازعہ سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہئے۔ اسی میں ایرانی عوام کی بھلائی ہے اور دنیا بھی چین کا سانس لے سکے گی۔ ملک کی تعمیر نو کے بعد ایران اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرے اور معاشی، سائنسی اور سفارتی و سیاسی میدانوں میں اقوم عالم کے مد مقابل ہو۔