میری ایمانداری،میری مرضی
- تحریر نسیم شاہد
- جمعہ 27 / مارچ / 2026
کچھ عرصہ پہلے ایک نعرہ چلا تھا، میرا جسم میری مرضی، وہ بُری طرح پٹ گیا۔ اب کوئی اِس کا نام بھی نہیں لیتا۔ البتہ ایک نعرہ کہیں یا رویہ، بہت مستعمل ہے اور عام بھی اور وہ ہے میری ایمانداری میری مرضی۔
اگر اس نعرے کی بنیاد پر دیکھیں تو دنیا میں ہم جیسا ایماندار کوئی معاشرہ نہیں، کیونکہ شہر کا شہر ایماندار بنا پھرتا ہے۔کوئی ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا، جسے غیر ایماندار قرار دیا جا سکے۔تو پھر یہ افراتفری کیسی ہے،جس نے معاشرے کو گھیر رکھا ہے۔ہر شخص دوسرے سے خوفزدہ کیوں ہے کہ کہیں میں اس کے ہاتھوں لٹ نہ جاؤں،یہ مجھے دھوکہ نہ دےدے۔ ایماندار معاشرے میں تو بھروسہ سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے، یہاں بھروسے کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو دور و نزدیک بندہ نہیں ملتا۔
اسے بدقسمتی کہیں یا ہماری جہالت،ایک ارفع و اعلیٰ دین کے وارث ہونے کے باوجود ہم قسمیں کھاتے،قرآن اٹھاتے ہیں کہ دوسرا ہماری بات پر یقین کرے۔ المیہ یہ ہے کہ وہ پھر بھی نہیں کرتا۔یہ گورکھ دھندہ ہم نے کیوں پالا ہوا ہے۔ اس کا نقصان کسی ایک کو تو نہیں ہوتا۔اگر آج میں کسی کو دھوکہ دیتا ہوں،اپنے مفاد کے لئے اُس کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہوں تو کل مجھے بھی تو اسی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔یہ تو ایک دائرہ ہے جو کسی کو بھی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔اردگرد دیکھتا ہوں تو نجانے کتنے ہی واقعات ذہن میں آ جاتے ہیں۔ چھوٹی سطح سے لے کر بڑی سطح تک ایک جمعہ بازار ہے، جس میں لالچ، طمع،دھوکہ دہی، وعدہ خلافی، بے ایمانی اور اپنے مفادات کی اندھی دوڑ نظر آتی ہے۔
میں نے چند روز پہلے ایک پلمبر بلایا، گھر کا کچھ کام تھا جو اُس سے کرانا تھا۔ اُس نے کہا کچھ چیزیں بازار سے لانا پڑیں گی، باقی میں ٹھیک کر دوں گا۔ میں نے مزدوری کا پوچھا، اُس نے بتائی۔ اُس نے کہا پیسے دیں میں سامان لے آؤں۔ وہ پیسے لے کر چلا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ پندرہ ہزار روپے مالیت کا مختلف سامان لے کر آ گیا۔ میں نے کہا رسید کہاں ہے، اُس نے سادہ کاغذ پر بنی ہوئی رسید تھما دی۔ میں نے پوچھا کیا یہ کوئی چھوٹی سی دکان تھی جس کا نام اور پیڈ بھی نہیں تھا۔ اُس نے کہا آج کل دکاندار پکی رسید نہیں دیتے اس لئے سادہ کاغذ پر بنا دی ہے۔کیونکہ رسید دیتے تو اس پر ٹیکس بھی لگ جانا تھا۔خیر میں نے کہا لگاؤ انہیں اور پانی چالو کرو۔ اُس نے دو گھنٹے بعد بتایا کام مکمل ہو گیا ہے۔ میں نے مزدوری دی اور وہ چلا گیا، جاننے والا تھا، پہلے بھی آتا تھا۔ میں کچھ سبزی وغیرہ خریدنے کے لئے قریب ہی بازار گیا تو وہاں ایک سینٹری کی دکان تھی، میں نے اُسے سامان کی رسید دکھائی اور پوچھا، یہ دستیاب ہیں۔ اُس نے رسید دیکھی اور کہا مل جائیں گی۔ میں نے پوچھا کتنے کی ملیں گی، اُس نے کیلکولیٹر سے حساب لگایا اور کہا نو ہزار روپے میں مل جائیں گی۔ مجھے ایک جھٹکا لگا، کیونکہ پلمبر نے انہی چیزوں کے16ہزار روپے وصول کئے تھے۔گھر آیا بیوی کو بتایا تو اُس نے کہا اور بنو نواب اور گھر بیٹھ کے آرڈر چلاؤ، ایسا تو پھر ہو گا ہی۔
یہ ایک واقعہ نہیں ایسے اَن گنت واقعات آپ کی زندگی میں بھی آئے ہوں گے۔کل مرغی کا گوشت گھر منگوایا تو اُس نے تین کلو گوشت کے2100روپے مانگے۔ میں نے کہا کل تو گوشت540 روپے کلو تھا، اُس نے کہا پٹرول مہنگا ہونے سے گاڑیاں نہیں چل رہیں سپلائی کم ہو گئی ہے، میں نے ایک دوسرے مرغی فروش کو فون کیا، اُس نے کہا ریٹ570 روپے ہیں۔ کتنا بھیجوں، حالانکہ جو گوشت لے کر آ رہا تھا اس سے کئی برسوں سے خریداری جاری تھی۔ مگر اُس کے دِل میں بھی بے ایمانی کا کیڑا دانتوں کے کیڑے کی طرح لگ گیا۔ یہ مثالیں بہت چھوٹی ہیں تاہم یہ اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ اس بیماری کی جڑیں کتنے نیچے تک جا چکی ہیں۔
جب بھی یہ خبر دیکھتا ہوں کہ محکمہ انٹی کرپشن کی ٹیم نے کسی کلرک، پٹواری یا سپرنٹنڈنٹ کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور دس یا پندرہ ہزار روپے بھی برآمد کر لئے، تو میری سوئی اِس بات پر اڑ جاتی ہے، کیا اب پاکستان میں رشوت صرف دس پندرہ ہزار روپے تک رہ گئی ہے۔ یہ لاکھوں، کروڑوں اور اربوں روپے کی رشوت ستانی ختم ہو گئی ہے۔ پھر یہ بھی خیال آتا ہے کہ جس کلرک یا پٹواری کے رشوت لینے کی خبر انٹی کرپشن تک پہنچ جاتی ہے، اُس کی خبر محکمے کے سربراہ کو کیوں نہیں ہوتی۔ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں چھاپہ مار کر اگر کلرک گرفتار ہو سکتا ہے تو ڈی سی صاحب کیا لسی پی کر سوئے ہوئے ہیں کہ اُنہیں یہ علم نہیں ہوتا اُن کے ماتحت کیا گل کھلا رہے ہیں۔یہ صرف کارروائیاں ہوتی ہیں اگر محکمہ انٹی کرپشن والے دو چار ایسے چھاپے نہ ماریں تو ان کی نوکری کا کیا جواز باقی رہ جائے جو کروڑوں روپے محکمے پر خرچ ہوتے ہیں وہ تو سمجھو ضائع گئے۔
ہمارے ہاں ایمانداری بھی صرف اپنے مفاد میں کی جاتی ہے اگر ہم ایمانداری کے دعوؤں کو دیکھیں اور سرکاری ملازمت میں آنے سے پہلے اور بعد میں افسروں کا معیارِ زندگی چیک کریں تو حیرت ہوتی ہے۔ صرف تنخواہ میں یہ اثاثے کیسے بن گئے،یہ بچے بیرون ملک پڑھنے کیسے چلے گئے،سرکاری گاڑیوں کے علاوہ یہ نجی مہنگی گاڑیاں کیسے آ گئیں۔لیکن آپ کسی بھی افسر کے دفتر چلے جائیں وہاں عملہ یہی کہتا نظر آئے گا افسر سخت ہے، زبان کا کڑوا، مگر ہے ایماندار۔ پھر آپ سوچیں کہ اس کے نیچے دفتر میں تو کرپشن کی گنگا بہہ رہی ہے، اس کی ایمانداری کیا صرف اس کی ذات تک محدود ہے۔
بات یہ ہے کہ بدقسمتی سے اس بے ایمانی نے ہمارے اندر یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ اس معاشرے میں زندہ رہنا ہے تو دولت مند بنو۔ یہ واحد گیدڑ سنگھی ہے جو یہاں ہر مرض کا علاج ہے۔ اچھا علاج کرانا ہو،قانون کو بے اثر بنانا ہو،جھوٹی شان و شوکت سے خود ہمکنار کرنا ہو حتیٰ کہ عوامی نمائندہ بھی بننا ہو تو پیسے کی فرا وانی ہونی چاہئے۔ اب ظاہرہے یہ فرا وانی حلال کمائی سے تو ممکن نہیں۔ہمارے ایک سینئر کولیگ 20ویں گریڈ میں ریٹائر ہوئے تو کرائے کے گھر میں رہ رہے تھے۔ ہم نے پوچھا حضرت اتنی لمبی سروس میں آپ ایک گھر نہیں بنا سکے،کہنے لگے تنخواہ تو ساری مکان کے کرائے،روٹی دال اور بچوں کی فیسوں میں خرچ ہو جاتی تھی۔ جو تھوڑی بہت بچت کی وہ بیٹیوں کی شادیوں پر خرچ ہو گئی۔ اب بتاؤ گھر کیسے بنتا۔
تو صاحبو! یہ جو ملازمت کے دوران بنگلے،کوٹھیاں اور فارم ہاؤس بنا لیتے ہیں ، وہ جب پارسائی کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس دعوے کی بنیاد بھی بے ایمانی پر ہوتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)