یہ کون لوگ ہیں؟
- تحریر وجاہت مسعود
- جمعہ 27 / مارچ / 2026
مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں آغا حشر کی رائے ذاتی تعلق اور مشاہدے پر مبنی تھی۔ فرمایا ’آزاد ڈھیل کے پیچ لڑانے کا عادی تھا‘۔ یہ رائے نامکمل ہے۔ آغا حشر نے یہ نہیں بتایا کہ مولانا آزاد کنکوے سے پتنگ کا پیچ لڑاتے تھے اور ایک جملے میں حریف کا پیٹا کاٹ لیتے تھے۔
آزادی کی لڑائی میں بوالہوس بدیسی آقاﺅں کے سایہ عاطفت میں تھے اور مولانا کروڑوں برہنہ پا افتادگان خاک کے قافلہ سالار تھے۔ کسی حریف دشنام کو ایک جملے میں سمیٹتے ہوئے فرمایا ۔’کنارے پر بیٹھ کر فقرے بازی کرنے والے کبھی منجدھار میں اتر کر اپنے دست و بازو کی آزمائش بھی کریں‘۔ مولانا فروری 1958 میں رخصت ہو گئے۔ ان کے آبلہ پا ماندگان روایت کی زمہریری آزمائش ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ آٹھ عشروں کی سخت جانی کا خلاصہ فراق گورکھپوری نے بیان کر رکھا ہے: کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے / ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں۔
اب یہی دیکھ لیجئے کہ اہل پاکستان پر کوئی ابتلا آتی ہے تو کچھ لوگ، پاکستانی ہوتے ہوئے بھی، ایک قدم بڑھا کر لکیر کے دوسری طرف جا کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ نادیدہ لکیر ہی ہماری سیاست کا بنیادی تضاد ہے۔ اس کے ایک طرف کروڑوں برہنہ پا پاکستانی افلاس اور محرومی کی دھوپ میں جل رہے ہیں اور دوسری طرف طاقت اور اختیار کا بیانیہ ہے۔ ہمارے ان مہربان اصحاب نے اپنے لیے ایک خوش رنگ سدا بہار چھتری ایجاد کر رکھی ہے۔ بارش کا پہلا چھینٹا پڑتے ہی اس کی اوٹ میں جا کھڑے ہوتے ہیں اور اہل درد کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔ موسم بدلنے پر دھوپ کا پہلا اشارہ ملتے ہی یہ اپنی چھتری کھول کر اطمینان بھری نظروں سے تہی دست انبوہ پر نظر کرتے ہیں اور اہل پاکستان کے حق حکمرانی پر استہزا کا چھینٹا اڑاتے ہیں۔ ہمارے اجتماعی سفر کی off ramp پگڈنڈی کے یہ جادہ پیما ہماری سیاسی اور معاشی کاہش کے منجدھار میں اترنے سے گریز پا رہتے ہیں۔
قائداعظم کے پاکستان پر ابتدائی امتحان تو ملک کے دونو ں بازوﺅں میں اختیار کی تقسیم پر اترا۔ ہمارے ابن الوقت اس کشمکش میں بندوق کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ ملک ٹوٹنے کے بعد طاقت کے کھیل کی لکیر بحیرہ بنگال سے سمٹ کر وادی سندھ میں چلی آئی۔ اہل پاکستان نے 1973 میں جو دستور مرتب کیا اس کی بنیاد چار وفاقی اکائیوں میں پارلیمانی طرز حکومت کی بنیاد پر توازن کا امکان تلاش کیا تھا۔ ہمارے مہربانوں نے اس نمونے میں کارفرما صوبائی خودمختاری کے اصول کو تو درخور اعتنا نہیں سمجھا البتہ دستور پر اترنے والے پہلے وجودی امتحان میں اس شان و شوکت سے شریک ہوئے کہ قوم کی بنیادی تعریف ہی تبدیل کر ڈالی۔ 1985 اور پھر 2003 میں آٹھویں اور سترہویں آئینی ترامیم سے آئین کا جو حلیہ بگاڑا گیا، اس سازش کی فصیل سے جھانکتے چہروں کو ہم سب پہچانتے ہیں۔
اس دوران ایس کے ملک نام کے ایک صاحب نے قومی دفاع کے جدید اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے ایک کتاب قلم بند کی جس کا دیباچہ جنرل ضیاالحق اور پیش لفظ اللہ بخش خدا بخش بروہی مرحوم نے لکھا تھا۔ ہم اس ملک کے باشندے ہیں اور اپنے ہم وطنوں کی معیشت ، تمدنی ترقی اور سیاسی ارتقا پر نظر رکھتے ہیں۔ ملک صاحب مذکورہ کی کتاب نے ہماری دو نسلوں کی جڑیں کھوکھلی کی ہیں۔ اس دوران ہم اپنے داخلی مسائل سے صرف نظر کرتے ہوئے کبھی افغانستان کے پہاڑوں میں خجل ہوئے تو کبھی بحیرہ عرب کے ساحلوں پر ریت کے قلعے تعمیر کرتے رہے۔ یہ کون لوگ ہیں جو ہمارے درمیان رہتے ہیں اور انہوں نے کبھی پہلی افغان لڑائی میں سوویت جہازوں کے ذریعے پاکستان کی فضائی حدود کی استمراری خلاف ورزیو ں پر ایک لفظ نہیں لکھا۔ یہ افغان جہاد میں بھی شریک تھے اور طالبان کے بھی حامی تھے۔ فرقہ وارانہ اور لسانی تنظیموں کی آبیاری کے قومی جرم پر ان کی پیشانی پر کبھی عرق انفعال نمودار نہیں ہوا۔
یہ جس طمانیت سے ضیاالحق کے ہم سفر تھے، اسی طمطراق سے پرویز مشرف کے ہم نشیں رہے۔ ان کے قلم سے کبھی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی گراں باری کا ذکر سننے میں نہیں آیا۔ ان کی دلی ہمدردیاں ہماری قومی ریاست کے مفادات سے کبھی ہم آہنگ نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کبھی سیاسی انجینئرنگ کے راز نہیں کھولے۔ یہ عالمی سطح پر بھی چین کی بنسی بجاتے رہے اور علاقائی سیاست میں بھی چلمن نشیں رہے۔ جولائی 1971 میں انہیں ہنری کسنجر کے دورہ چین سے امیدیں تھیں۔ حالیہ ایک ماہ سے ان کی صحافت کا اہل پاکستان سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہیں کراچی بندرگاہ کی مانگ اجڑنے پر ملال نہیں۔ انہیں گوادر کے خواب مٹی میں ملنے پر افسوس نہیں۔ انہوں نے کبھی ’پراجیکٹ عمران‘ کے تار و پود بیان نہیں کیے۔ انہوں نے 2017 سے 2022 تک کے پانچ برس میں ملکی معیشت کا احوال بیان نہیں کیا۔ انہیں اس کی فکر نہیں کہ ہم انسانی ترقی کے اشاریوں پر باقی دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔ انہیں اس خیال سے بہت تسکین ملتی ہے کہ ہماری درس گاہوں پر کم علمی کے سائے طویل سے طویل تر ہو رہے ہیں اور ہمارے غریب، غریب تر ہو رہے ہیں۔
یہ ایک خواب سے دوسرے خواب تک سفر میں درجہ اول کے مسافر ہیں۔ یہ خوش خبریاں لکھتے ہیں اور معجزوں کے انتظار میں دنیا کا جغرافیہ بیان کرتے ہیں۔ یہ اہل پاکستان کے دکھوں سے لاتعلق اور بے نیاز قبیلہ ہے۔ ان کا خواب یہ ہے کہ پاکستان پر ان کا ترجیحی سیاسی نمونہ مسلط کر دیا جائے ۔ ان کا دکھ یہ ہے کہ اہل پاکستان کے خمیر میں سیاسی عمل گندھا ہے۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی خواہش شوکت ترین صاحب نے کی تھی۔ اور مئی 2025 میں پاکستان کی بھارت سے جنگ میں لال مسجد کا ملا عبدالعزیز کھلے عام پاکستان کی مخالفت کر رہا تھا۔ اہل پاکستان کا ان عناصر سے سیاسی اختلاف نہیں، یہ معروف جمہوری سیاست کا Off ramp سیاست سے ٹکراﺅ ہے۔ یہ نظریاتی وفاداریوں اور زمینی حقائق کے بیان میں نقطہ نظر کا اختلاف ہے۔
یہ ملک و قوم کی بنت اور حق حکمرانی پر بنیادی تضاد کا سوال ہے۔ ان سے یہ سوال ہمیشہ کیا جاتا رہے گا کہ آپ موسم بدلنے پر اپنی چھتری کیسے تبدیل کرتے ہیں۔ آپ کے گلشن خواب پر خزاں کیوں نہیں اترتی؟
(بشکریہ: ہم سب لاہور)