ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی پر اپنوں و غیروں کو یکساں ’تشویش‘
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 27 / مارچ / 2026
پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے کسی اقدام پر اگر بھارت میں پریشانی محسوس ہو یا اس کا برملا اظہار ہورہا ہو تو اس کا ایک ہی مقصد ہوسکتا ہے کہ پاکستان نے کچھ بہتر پیش رفت کی ہے۔ اس وقت ایران جنگ کے حوالے سے پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار سے جو منظر نامہ تشکیل پارہا ہے ، اس سے بھارتی پالیسی بنانے والوں کو دہائیوں کی محنت ضائع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
بھارت ، پاکستان کو ’دہشت گرد ریاست‘ قرار دیتا ہے اور اس عذر لنگ کی بنیاد پر اس نے پاکستان کے ساتھ ہمہ قسم روابط محدود کیے ہیں، پاکستان کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کیا ہؤا ہے (آپریشن سندور جاری رکھنے کا دعویٰ) اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے پاکستان کا پانی بند کرنے کی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کیا ہؤا ہے۔ تاہم ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ بند کرانے کے سلسلہ میں پاکستان کی مثبت اور کامیاب کوششوں کا دنیا بھر کے اہم دارالحکومتوں میں اعتراف ہؤا ہے۔ اور پاکستان ایک ’دہشت گرد ریاست‘ کی بجائے امن قائم کرانے والے ملک کے طور پر متعارف ہورہا ہے۔ ایران جنگ ایک ایسا تنازعہ ہے جس کے پھیلنے سے صرف ایران ہی تباہ و برباد نہیں ہو گا بلکہ اس کے عالمی معیشت اور ایشیا کے متعدد ممالک پر دیرپا اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ بن چکی ہے جس میں اقوام متحدہ کسی قسم کا کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں اور دنیا کا کوئی ملک بھی پیش رفت کرتے ہوئے امن کی امید روشن کرنے میں ناکام ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ منہ زور طاقت کی طرح کمزوروں کو روندنے اور اپنے سیاسی و اسٹریٹیجک مفادات حاصل کرنے کے لیے کسی بھی انتہائی اقدام سے گریز نہیں کرتا۔ ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک ماہ پہلے شروع ہونے والے حملے اسی طرز عمل کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تاہم امریکی اسٹبلشمنٹ اور سیاسی قیادت نے اس جنگ کے بارے میں جو اندازے قائم کیے تھے، وہ ہر گھڑی تبدیل ہورہے ہیں اور اس وقت خود امریکی لیڈروں کو بھی علم نہیں ہے کہ یہ جنگ کیارخ اختیار کرے گی اور امریکہ اس سے کیوں کر دامن بچا کر عزت سے باہر نکل سکتا ہے۔
دوسری طرف ایران کے خلاف ایک ایسے وقت امریکی کارروائی شروع ہوئی جب وہ طویل المدت امریکی معاشی پابندیوں کی وجہ سے شدید دباؤ اور بحران کا شکار تھا۔ اس کے اپنے عوام کی اکثریت معاشی بدحالی سے تنگ آکر تبدیلی کے لیے سڑکوں پر نکل کھڑے ہوئی تھی اور سخت گیر ملا رجیم نے اس احتجاج کو سیاسی طور سے حل کرنے کی بجائے ، طاقت سے کچلنے کی کوشش کی اور ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ شروع میں زبانی دھمکیوں کے بعد صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو اچانک ایران پر بھرپور حملہ کردیا۔ پہلے ہی ہلے میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ اعلی سیاسی و عسکری قیادت کو ہلاک کردیا گیا۔ یہ توقع کی جانے لگی کہ تہران میں مشتعل عوام کا جم غفیر گھروں سے نکلے گا اور رہے سہے نظام کا تختہ الٹ کر امریکہ کی طفیلی اور اسرائیل کی ہمجولی قسم کی کوئی حکومت قائم کرانے میں کامیاب ہوجائے گا ۔ البتہ یہ خواہش یا خواب پورا نہیں ہوسکا۔
اس موقع پر ایران جو بد انتظامی اور ناقص حکمرانی کی وجہ سے پہلے ہی داخلی بحران کا شکار تھا لیکن خطے میں اپنی پالیسیوں اور بعض انتہا پسند گروہوں کی سرپرستی کی وجہ سے ریجن کے علاوہ دنیا بھر میں ناپسندیدہ ملک سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ چین کی کوششوں سے گزشتہ چند سال کے دوران ایران کے سعودی عرب سے سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے اور امید کی جاتی تھی کہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے ان دو محوروں کے درمیان دیرینہ عناد ، اب دوستی اور مفاہمت میں تبدیل ہوگا۔ لیکن امریکی حملے شروع ہوتے ہی ایران نے خلیجی ممالک کے علاہ سعودی عرب میں اہداف کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ ایران کا مؤقف تھا کہ ان ممالک میں امریکی اڈے ہیں جنہیں ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ اس لیے اس کا اصل نشانہ یہ امریکی اثاثے ہیں اور ہمسایہ عرب ممالک سے تہران کا کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی کوئی لڑئی۔ تاہم میزائل اور ڈرون حملوں کی شدت میں مسلسل اضافے کے سبب عرب ممالک کے ساتھ بداعتمادی کے ماحول میں اضافہ ہوتا گیا۔
اس طرح ایران کو امریکی حملے کے بعد اگر کوئی سفارتی یا اخلاقی تعاون ملنے کی امید موجود بھی تھی، تو عرب ممالک پر ایرانی حملوں نے اسے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کردیا۔ عرب ممالک نے تاہم ابھی تک اس دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے میزائل و ڈرون روکنے کی کارروائیاں تو کی ہیں لیکن ابھی تک ایران پر جوابی حملہ شروع نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس وقت ایران کے خلاف کسی عرب ملک کا جوابی حملہ امریکی جارحیت کی تائید اور اسرائیلی جنگ میں حصہ داری سمجھا جاسکتا ہے جس سے مسلمان ممالک میں سعودی عرب اور دیگر ریاستوں کی شہرت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ البتہ جنگ جاری رہنے اور ایران کی طرف سے عرب ممالک کو مسلسل نشانہ بنانے کے طرز عمل سے صبر کا یہ پیمانہ کسی بھی وقت لبریز ہوسکتا تھا۔ ایران کی اس حکمت عملی نے جنگ میں نہ جانے اسے کتنا فائدہ پہنچایا ہے لیکن اس کی عالمی و ریجنل تنہائی میں اضافہ ہؤا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر دنیا ایران پر اعتبار نہیں کرتی تو ایرانی لیڈر بھی کسی دوسرے ملک پر اعتبار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
پاکستان نے اس موقع پر ایران کے ساتھ رابطہ بحال رکھا، رہبر اعلیٰ کی ہلاکت پر تعزیت کی ، امریکی و اسرائیلی حملے کو غلط قرار دیا لیکن ساتھ ہی عرب ممالک کے خلاف ایرانی جنگ جوئی کو بھی تسلیم نہیں کیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ تہران کے لیڈر اس وقت اگر کسی ملک پر بھروسہ کرتے ہیں تو وہ پاکستان ہے۔ متعدد طریقوں سے ا س کا اظہار بھی کیا جاچکا ہے۔ ایران اس حقیقت سے بھی آگاہ ہے کہ گزشتہ سال ہی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے جس کے مطابق ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ سمجھا جائے گا اور وہ ملک از خود اس جنگ کا فریق بن جائے گا۔ اس کے باوجود پاکستان نے سعودی قیادت کو سمجھانے اور ایران کو ہوشمندی سے کام لینے کا مشورہ دیا اور ایسا نازک سفارتی توازن قائم کیا کہ دونوں ملک اس وقت پاکستان کو قابل اعتبار سمجھ رہے ہیں۔ پاکستانی لیڈروں نے گزشتہ ایک سال کے وران امریکی صدر ٹرمپ سے راہ و رسم بڑھا کر واشنگٹن میں بھی اعتبار و بھروسہ حاصل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹرمپ حکومت کو محسوس ہؤا کہ وہ اس جنگ میں بری طرح پھنس چکا ہے تو اس سے باہر نکلنے کے لیے اسے پاکستان سے زیادہ قابل اعتماد کوئی ملک دستیاب نہیں تھا۔
پاکستان واشنگٹن اور تہران میں رابطہ کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کررہا ہے جسے نہ صرف عالمی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے بلکہ اس کی توصیف ہورہی ہے۔ کیوں کہ پوری دنیا اس بے معنی جنگ سے عاجز ہے ۔ اس کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہے اور تیل کی فراہمی میں خلل سے قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ پہلے سے یوکرین اور غزہ جنگ کی وجہ سے دباؤ کا شکار عالمی معیشت اس نئی اور ہولناک جنگ کا دباؤ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس لیے وہ تمام طاقت ور ممالک جو خود کو اس تنازعہ میں عاجز سمجھتے ہیں، پاکستان کی کاوشوں کو امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ تاہم یہ ایک مشکل اور جاں گسل سفارتی منصوبہ ہے۔ ایک طرف ٹرمپ جیسا ناقابل اعتبار اور بے چین صدر ہے تو دوستی طرف ایران کی بکھری ہوئی قیادت ہے جسے فی الوقت کوئی مرکزیت حاصل نہیں ہے۔ ایسے میں پاکستان نہایت ہنرمندی سے فریقین کو ایک میز پر لانے اور جنگ بندی کے کسی معاہدے پر متفق ہونے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
یہ کہناممکن نہیں ہے کہ یہ کوششیں کیسے اور کب بارآور ہوں گی۔ اور کیا پاکستان یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی سکے گا یا نہیں ۔لیکن اس کام کی اہمیت اور اس میں ابھی تک ملنے والی کامیابیوں نے پاکستان کے عالمی سفارتی رتبے اور عزت و وقار میں اضافہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی حکومت تلملا رہی ہے اور اس کے طویل سفارتی تجربہ رکھنے والے وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستان کے بارے میں ایسے نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں جن کی سفارتی لغت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس طرز عمل سے مودی حکومت کی ناکامی کے علاوہ اس کی مایوسی بھی ظاہر ہوتی ہے۔
دشمن ملک پاکستان کی کامیابی پر پیچ و تاب کھا رہا ہے تو اہل پاکستان کے لیے یہ باعث اطمینان ہونا چاہئے اور انہیں اپنی حکومت کی درست سفارتی کوششوں کا ساتھ دینا چاہئے۔ لیکن بدقسمتی سے بعض عناصر مذہبی و سیاسی تفریق کو ہوا دے کر ایران تنازعہ ختم کرانے کے پاکستانی سفارتی منصوبہ کو نقصان پہنچانے اور اسے کم تر کرکے دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ایسی حرکتیں کرتے ہوئے ان عناصر کو ہرگز اندازہ نہیں ہوتا کہ اس طرح وہ موجودہ حکومت کی بجائے ریاست پاکستان کو کمزور کرکے اس کے بدخواہوں میں شامل ہورہے ہیں۔
پاکستان میں ایران تنازعہ کے حوالے سے پائی جانے والی تقسیم افسوسناک اور اشتعال انگیز ہے۔ اس قسم کی حرکتوں میں ملوث عناصر کو خود ہی اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ موجودہ حکومت سے سیاسی حساب برابر کرنے کی کوشش میں وہ کیوں ملک دشمن عناصر کے ہاتھ مضبوط کرنے کا سبب بن رہے ہیں ؟