وزیر اعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ

  • ہفتہ 28 / مارچ / 2026

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

وزارت خارجہ نے ایک  بیان میں کہا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اسلام آباد آئیں گے۔ یہ وزارئے خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت دیگر اُمور پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ وزرائے خارجہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

اس دوران پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ ہوا۔ وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بالخصوص گزشتہ روز شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کی،

گفتگو کے دوران وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکہ، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کے متعلق سے آگاہ کیا، جن کا مقصد امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی کوئی مؤثر راہ نکلے گی۔

ایرانی صدر نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کیا۔ انہوں نے مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا اور اس ضمن میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

اس دوران اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے اسرائیلی حدود کی جانب داغے گئے ایک میزائل کی نشاندہی کی ہے۔ خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد یمن سے داغا جانے والا یہ پہلا میزائل ہے۔

یہ پیش رفت اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے ترجمان نے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔

حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلیگرام پر بیان میں کہا کہ ’براہِ راست فوجی مداخلت کے لیے ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں‘ اور یہ اقدامات درج ذیل صورتوں میں کیے جائیں گے: اگر کوئی اور ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف شامل ہوتا ہے، اگر بحیرۂ احمر کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران یا کسی بھی مسلم ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا اگر ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔