شیکسپئر کا کنگ لیئر تہران میں

ہر بڑی جنگ بڑی تبدیلیاں لاتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے غزہ، لبنان، شام، عراق اور لیبیا کےبعد ایران کو ہدف بنایا اس جنگ کے دنیا اور بالخصوص اسلامی دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس پر ہر کوئی اپنی رائے رکھتا ہے ۔

عالمی ادب سے رہنمائی لیں تو طلسم ہوش ربا اور شیکسپیئر کے عظیم المیوں کی روشنی میں جنگ کا نقشہ کھینچا جا سکتا ہے۔ طلسم ہوش ربا مشرقی دنیا کی کلاسیک ہے تو شیکسپیئر مغربی دنیا کا کلاسیک ڈرامہ نگا رہے۔ ڈرامائی صورتحال میں ڈرامہ اور ڈائیلاگ ہی صورتحال کی ترجمانی کر سکتے ہیں۔ کنگ لیئر اقتدار سے اترا ہوا بادشاہ ہے جو تصوراتی طورپر ایران کی صورتحال میں موجود ہے۔ اسی لئے کنگ لیئر، بادشاہ لیئر تہرانی ہے۔ اور مکالمے کا دوسرا کردار مسخرہ ہے جو انگلش ڈراموں میں فول کہلاتا ہے مگر عقل کی بات وہی بے وقوف نظر آنے والا کرتا ہے ۔ طلسم ہوش ربا میں عمر و عیار دنیاوی چالاکی و عیاری کا استعارہ ہے۔ ایک ناکارہ قلم کار کے کردار جنگ کے بعد کا نقشہ کیا کھینچ رہے ہیں۔ آئیے پڑھتے ہیں۔

کنگ لیئر تہرانی: ہاؤل ، ہاؤل، چیخو ، اے انسانوں چیخو! آنسو بہاؤ، زار و قطار رونے کا وقت ہے۔ اب انسان پتھر کے ہو چکے۔ سنگدلی کا راج ہو چکا۔ اگر میرے پاس تمہاری طرح کی زبانیں اور آنکھیں ہوتیں تو میں ایسا ماتم کرتا کہ آسمان کی چھت بھی پھٹ پڑتی۔ بچیوں کے اسکول پر بمباری، لیڈروں کو چن چن کر مارنا، سویلین آبادیوں کو نشانہ بنانا، انسانوں رو ئوکہ اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے۔

مسخرہ بغدادی: اے عظیم و قدیم بادشاہ، یہ دنیا جذبات کی نہیں، عقل کی غلام ہے۔ ایران کی تباہی پر آپ کا دکھ بجا مگر جنگ میں ایران کے مسلم خلیجی ممالک اور اسرائیل پر ایک ہی طرح کے میزائل داغنا کون سی تدبیر ہے۔ یہود و مسلم دونوں ایران کا نشانہ ہیں۔ ایرانی حکمت عملی خود کشی پر مبنی ہے۔

کنگ لیئر تہرانی: اے ہواؤ، چلو اپنے گال پھاڑ دو، غضب بن کر برسو، حد بھی گزر گئی، چِلاؤ۔ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ ڈیوڈ مرا  یا علی شہید ہوا یا عمر جاں بحق ہوا۔ سب ٹام ڈک اور ہیری مرتے ہیں تو خون بہتا ہے، آسمان روتا ہے جو کچھ مشرقِ وسطیٰ میں ہوا وہ سانحہ عظیم ہے صدر ٹرمپ، نیتن یاہو اور ان کے مخالف سب اس کے ذمہ دار ہیں۔

مسخرہ بغدادی: اے زمین و فضا کے حاکم ، اے نامہربان بیٹیوں کے مہربان باپ، اے بدقسمت بادشاہ! دنیا اور حالات کو صرف جذبات کی عینک سے دیکھنا ٹھیک نہیں۔ آپ نے سلطنت اپنی صاحبزادیوں میں تقسیم کی۔ اس غلط فیصلے کو آپ بھگت رہے ہیں۔ اسی طرح ایران نے ایک بھی مسلم ملک سے بنا کر نہیں رکھی۔ بھارت اور روس سے پینگیں بڑھائیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مسلسل سرد جنگ رہی۔ اب وہاں میزائل مار رہاہے۔ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات صبر کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ کسی بھی دن وہ ایران کے خلاف اعلان ِجنگ پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ لبنان نے ایرانی سفیر نکال دیا ، سعودی عرب نے ایران کا سفارتی عملہ واپس بھیج دیا، متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز کے جنگی آپریشن میں شریک ہونے کو تیار ہے۔ اے نیک نیت بادشاہ، کچھ غلطیاں تو ایران کی بھی ہیں، انہیں بھی مانیں۔

کنگ لیئر تہرانی: اے ننگے ، بے بس اور مظلوم انسانو، جہاں کہیں بھی ہو۔ میں بادشاہ تھا تو تمہاری تکلیف محسوس نہ کر سکا۔ مجھے جنگ سے پیدا ہونے والی ہلاکتوں، بھوک اور ننگ کا احساس نہ تھا۔ امریکی ٹرمپ اخلاقی طور پر ہار چکا۔ اتنا نقصان کرنے کے باوجود نہ رجیم یا اقتدار کا مرکز تبدیل کر سکا اور نہ ایرانی سوچ میں تبدیلی آئی۔ امریکی اڈے تباہ ہو گئے دنیا بھر میں تیل مہنگا ہو گیا۔ آبنائے ہرمز بند ہے۔ اے بغدادی، عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے۔ مگر جنگوں کے فیصلے، حوصلے اور عزم سے ہوتے ہیں۔ ایران جیت چکا اور امریکہ ہار چکا۔

مسخرہ بغدادی : اے بادشاہوں کے بادشاہ ، اے سکندر ثانی، اے ارسطو و افلاطون کے وارث، آپ کی ہر بات بجا مگر دنیا عقل سے چلتی ہے جذبات سے نہیں ۔ میں الف لیلہ کا کردار ہوں 700 سال سے مسلمان جذباتی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ اسی لیے سقوط بغداد، سقوط غرناطہ، سقوط ڈھاکہ اور ان گنت شکستیں ہوئیں۔ سوائے بنیان مّرصوص کے۔ عقل، علم اور ٹیکنالوجی آج کے جدید ہتھیار ہیں۔ ایران اکیلا نہیں ہارا۔ چھ مسلم ممالک کو بھی ساتھ لے ڈوبا ہے۔ فلسطین کی آزادی کا قصہ تمام ہوا۔ اگر فلسطینی ریاست کا معاہدہ ہوا میں بکھر گیا، لبنان تباہ ہو گیا ، شام مذہبی انتہا پسندوں کے قبضے میں چلاگیا، لیبیا میں انارکی اور عراق میں بے بسی ہے۔ ایرانی مذہبی اور عسکری قیادت درجۂ شہادت تک جا پہنچی۔ اب وہاں کوئی مرکزی قیادت نہیں، بس انارکی اور خود مختار کمانڈروں کی حکمرانی ہے۔

کنگ لیئر تہرانی: اے بغدادی، تیری مت ماری گئی ہے۔ ساری دنیا امریکہ کے خلاف ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ ایران نے دنیا کو بہادری اور مزاحمت کی مثال بن کر دکھا دیا ہے۔ امریکہ کے ایجنٹ ممالک جنہوں نے امریکہ کو فوجی اڈے دے رکھے ہیں ، سب دنیا کے سامنے عریاں ہو گئے۔

مسخرہ بغدادی: اے شاہوں کے شاہ، آپ مغرب کے ہیرو ہیں۔ آپ کو مشرق کا علم تو ہے، تاہم آپ مشرقی لوگوں کی نفسیات نہیں جانتے۔ ان کی فتح اور شکست کے معیار، دنیا سے منفرد ہیں۔ آپ کی بیٹی کورڈیلیا مشرقی روایات کی امین تھی۔ گونریل اور ریگن بھی آپ کی سگی بیٹیاں تھیں۔ مگر انہوں نے اقتدار کے خمار میں باپ کے خلاف فوج کشی کی۔

کنگ لیئر تہرانی: اے آسمان! مجھے پاگل نہ ہونے دینا، خدارا مجھے دیوانہ نہ بننے دینا۔ اے مسخرے بغدادی سنو ! یہ دنیا پاگل ہے، یہ امریکہ پاگل ہے، یہ ایران بھی پاگل ہے۔ یہ مجھے بھی پاگل بنا رہے ہیں۔ یہ جنگ دیوانوں کی جنگ ہے۔ جو کوئی ثالث بنے گا یا صلح کرائے گا اس کا نام آسمانوں میں لکھا جائے گا۔

مسخرہ بغدادی: پاکستان کا نام آرہا ہے کہ وہ ثالث بن کر کام کر رہا ہے۔ 10 تیل بردار جہاز بھی اسی نے آبنائے ہرمز سے عبور کروائے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان پل بھی وہی بن رہا ہے۔ سعودی عرب ، مصر اور ترکی کا بھی اسے تعاون حاصل ہے۔ محمد بن سلمان اور صدر اردوان سے مشورے کرکے صدر ٹرمپ سے بات کی جا رہی ہے۔ اے المیے کے بادشاہ! مسلم دنیا المیوں کو گلوریفائی کرکے ان پر روتی ہے۔ المیوں کو جنم دینے اور ان کے پروان چڑھنے کو روکتی نہیں ہے۔

کنگ لیئر تہرانی: اے مسخرے بغدادی ، میں مغربی المیہ کہانیوں کا بادشاہ سہی مگر مشرق ہو یا مغرب، سب کلاسیکی کہانیوں، ڈراموں اور ناولوں کا نچوڑ یہی ہے کہ ا نسانیت اور انسان کا احترام اور اس کی زندگی سے کھیلنے والے تاریخ کے صفحات پر سیاہ حاشیے میں لکھے جاتے ہیں ۔ امریکہ اور اس کے صدر ٹرمپ تاریخ کے سیاہ حاشیے کے رکن بن چکے۔ ان کا نام ہلاکو خان، ہٹلر اور دوسرے ظالموں کے ساتھ لکھا جائے گا۔

مسخرہ بغدادی: اے مغربی ادب کے زندہ کردار! اب تاریخ میدانوں نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے عبارت ہے۔ اب بہادری نہیں ٹیکنالوجی ، اخلاق نہیں طاقت ، گولے نہیں ڈرون اور انسان نہیں  Humanoid (انسان نما ) کا دور ہے۔ ہو سکتا ہے اب تاریخ میں سیاہ ، سفید اورسنہری رنگ نہیں بلکہ ملگجے رنگ استعمال ہوں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??