پاکستان کی حکمت عملی اور ایران، امریکی جنگ کی صورت حال
- تحریر شازار جیلانی
- ہفتہ 28 / مارچ / 2026
ایران کے خلاف گھیرا ڈالنا مقصود تھا تو افغانستان سفارتی نزاکتوں سے نابلد اور بے لچک عمران خان کی طرح، بگرام ائرپورٹ کے لئے ایبسلوٹلی ناٹ کہہ گیا۔ جبکہ پاکستان نے، بقول وسی بابا، ناگن اور سپیرے سے اچھے تعلقات رکھنے میں ماہر، اپنے لئے وہی کردار پسند کر دیا، جو وہ افغانستان میں طالبان کی آمد کے وقت پسند کر گیا تھا۔
کہ کوئی ایک تو ایسا بھی ہونا چاہیے جو کل ضرورت پڑے یا مخالف کا حوصلہ چیک کرنا ہو تو مذاکرات کاری کر سکے۔ سفارت اور سیاست میں مخالف کے لئے دروازے کبھی بند نہیں کیے جاتے۔ پاکستان وہی کر رہا ہے۔ خود کو براہ راست جنگ میں ملوث کیے بغیر جنگ کا حصہ بنا ہوا ہے۔ امریکی منصوبے سے خود کو بچائے ہوئے اور ایران کو ’خود کو بچاؤ‘ کا مشورہ دینے کے لئے ملاقات اور رابطے کے لئے آزاد ہے۔
ٹرمپ کو جتنی ضرورت بگرام ائرپورٹ کی تھی، اتنی ہی پاکستان کی شمولیت کی۔ اس دوران ٹرمپ نے پاکستان اور پاکستانی لیڈرشپ کی پریس کے سامنے جتنی تعریفیں کی ہیں، ٹرمپ کمزور ہوتا تو لوگ سمجھتے، چاپلوسی کر رہا ہے۔ پاکستان جنگ میں حصہ لیتے ہوئے بھی جنگ میں موجود نہیں ہے۔ سعودی عرب جنگ میں پارٹی ہے، اور مسلسل ہٹ لے رہا ہے۔ اور پاکستان اسی سعودی عرب کے راستے جنگ کا حصہ ہے۔ تاکہ وہ براہِ راست امریکی اتحادی نہ لگے، کیونکہ پاکستان کے اندر اسرائیل کے بارے میں شدید حساسیت موجود ہے۔
آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے جنگ کا حصہ بننے کے لئے سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ اور سمجھایا ہے کہ مناسب موقع پر سعودی عرب کی طرف سے حصہ لینے آؤں گا لیکن آج مذاکرات کار بن کر غیر جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہی نازک سفارتکاری کا ماہر ترین سٹروک ہے کہ خرگوش سمجھتا ہے، ساتھ دوڑنے والا مجھے بچانے آیا ہے۔ اور شکاری کو یقین ہوتا ہے کہ میری مدد کے لئے دوڑ رہا ہے۔ شکار میں کامیابی ہو جائے تو سپوئل آف وار میں حصہ دار اور خرگوش بچ جائے تو خیرخواہی کی دعاؤں میں حصہ دار۔ جبکہ پاکستان میدان موجود ہونے کے باوجود پارٹ آف دی سلوشن ہے، پارٹ آف دی پرابلم نہیں۔
پاکستان نے دو ایرانی عہدیداران کو امریکی اور اسرائیلی ہٹ لسٹ سے استثنا دلا کر ایک طرف ایرانی مذاکرات کاروں پر اپنی افادیت اور نیک نیتی ثابت کردی تو دوسری طرف امریکہ میں اس کی خواہشات کو وزن ملنے کے ثبوت بھی مل رہے ہیں۔ امریکہ بھی چاہتا ہے کہ ایک کھڑکی کھلی رہے، تبھی تو ٹرمپ کہہ رہا ہے کہ وہ اصل لوگوں سے مذاکرات کر رہا ہے۔ جو یاد رکھنا چاہتے ہیں ان کو یاد ہو گا کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو پاکستان سب سے بہتر سمجھتا ہے۔
امریکہ کو اب بھی بگرام کی ضرورت ہے۔ وہ کل بھی اس خواہش کا اظہار کر چکا ہے۔ افغانستان کو اس کے قیدی چھوڑنے سے آگے بڑھنا ہو گا۔ عالمی میدان میں اپنی افادیت ثابت کرنا ہو گی اور اپنے تعلقات مضبوط کرنے ہوں گے۔ اس کے پاس خلیل زاد کی شکل میں ایک کہنہ مشق افغان موجود ہے جو اسے اوول آفس کی سب سے بڑی میز تک آسانی سے رسائی دلا سکتا ہے۔ دوحہ معاہدہ کی مثال دیکھیں، جس پر دونوں طرف سے دستخط کرنے والے افغان ہیں۔ تیل کی قلت ساری دنیا میں پیدا ہو گئی ہے۔ ساری دنیا کی خواہش ہے کہ جنگ ختم ہو جائے لیکن ساری دنیا میں اتنی سکت نہیں کہ وہ جنگ روکنے کے لئے امریکہ کے خلاف اکٹھی ہو جائے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لئے ایران کے خلاف اکٹھی ہو جائے۔
پاکستان کے پرچم بردار ٹینکروں کی بات کرکے ٹرمپ پاکستان کی سفارتکاری کی افادیت کی تعریف کر رہا ہے تو دس دن کا وقت لے کر ایران پاکستان کی سفارتکاری کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ زمینی جنگ کو دس دن کے لئے مزید طول دلانے پر رات تہران کو، پاکستانی ایمبیسی کے قریب بمباری کر کے اسرائیل نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ مذاکرات کی خفیہ بات چیت کو ظاہر کرکے تہران کو روزانہ شرمندہ کر رہا ہے۔ تہران میں مذاکرات کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے جو حکومت کو مزید دباؤ میں لانے کا باعث بن رہا ہے۔ ایران کو سوچنا چاہیے، کہیں اس احتجاج میں موساد کا ہاتھ تو نہیں۔ کیوں کہ اسرائیل چاہتا ہے، یہ جنگ درمیان میں چھوڑنے کے لئے نہیں ہے، اس کا نتیجہ اس کے حق میں نکلنا چاہیے۔
عرب ممالک بھی اس بارے میں اسرائیل کے ہم خیال ہیں۔ زخمی ایران بچ گیا تو عربوں کو اربوں کے امریکی اسلحہ کی مسلسل ضرورت پڑتی رہے گی اور امریکی اسی طرح ان کے ’نگہبان‘ بنے رہیں گے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)