جنگ بندی میں کیا رکاوٹ ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 28 / مارچ / 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بلند بانگ اور لایعنی بیانات کے باوجود امریکہ سے آنے والے اشاروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ واشنگٹن کسی بھی طرح ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ کر فتح کا اعلان کرتے ہوئے ایران جنگ بند کرنے کا اعلان کرنا چاہتا ہے۔ تاہم دو وجوہات کی وجہ سے یہ مقصد حاصل ہونے میں تاخیر ہورہی ہے۔
ایک تو ایران کو جنگ بند کرنے کی ویسی جلدی نہیں ہے جیسی ہنگامی ضرورت امریکہ میں محسوس کی جارہی ہے۔ آج ہی نائب صدر جے ڈی وینس اور اس سے پہلے موزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیاتھا کہ یہ جنگ جلد ہی بند ہوجائے گی۔ تاہم یہ مقصد ایران کے تعاون کے بغیر حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ایران کو امریکہ و اسرائیل کی شدید بمباری نے تقریباً تباہ کردیا ہے۔ اس شدید جنگ کا سامنا کرنے کے بعد اب ایرانی لیڈر کسی ایسے معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں جس میں وہ شکست خوردہ کی بجائے امریکہ کے مساوی فریق کے طور پر دکھائی دیں۔ جبکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ ایسے کسی اعلامیہ کی زبان میں یہ تاثر موجود رہے کہ امریکہ کی بالادستی مان کر ایران بیشتر مطالبے ماننے پر مجبور ہوگیا تھا۔
ایران سے بھی اگرچہ امن کی خواہش کے اشارے دیے گیے ہیں لیکن یہ محتاط اور نپے تلے ہیں۔ دو روز پہلے پاکستانی جھنڈے کے ساتھ دس جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی تھی جسے صدر ٹرمپ نے خود ایک بہت ’بڑا تحفہ‘ قرار دیا تھا۔ اب پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر ایک پیغام میں بتایا ہے کہ ایران نے مزید بیس جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ہر روز دو جہاز پاکستانی پرچم کے ساتھ اس بحری راستے سے گزر سکیں گے۔ یہ خیر سگالی کا ایک مثبت اشارہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران تمام پل جلا کر محض تصادم پر اصرار نہیں کررہا بلکہ مناسب معاہدے کے تحت جنگ بند کرنے اور تاریخ کا ورق پلٹنے پر آمادہ ہے۔
اس کے علاوہ صدر مسعود پزشکیان کی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بات چیت ہورہی ہے۔آج بھی دونوں رہنماؤں نے ایک گھنٹہ سے زیادہ دیر تک بات کی۔ اس رویہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایران امن کا راستہ کھوجنا تو چاہتا ہے لیکن امریکہ پر بداعتمادی کی وجہ سے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھا جارہا ہے۔ پاکستان ا س مرحلے پر ایران کا قابل اعتبار دوست ملک بن کر سامنے آیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ خیر سگالی مستقبل میں پاکستان کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
تاہم جنگ بندی معاہدے کے راستے کی دوسری بڑی رکاوٹ اس جنگ کے بارے میں عرب ممالک کا طرز عمل ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز نے یکے بعد دیگرے خبر دی تھی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان صدر ٹرمپ پر زور دیتے رہے ہیں کہ اس جنگ کو ادھورا نہ چھوڑا جائے اور ایران کی عسکری قوت کو مکمل طور سے ختم کیا جائے تاکہ وہ اپنے ہمسایہ ملکوں کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ ریاض نے ایسی خبروں کی بالواسطہ تردید ضرور کی ہے۔ تاہم یہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ سعودی عرب امریکی حملے کے خلاف تھا لیکن ایک بار جنگ شروع کی گئی ہے تو اس کا کہنا ہے کہ امریکہ کو تمام اہداف حاصل کرنے چاہئیں تاکہ ایران مستقبل میں کسی علاقائی تصادم کا سبب نہ بنے۔
خیلج تعاون کونسل کے حوالے سے بھی اب یہ معلومات سامنے آرہی ہیں کہ جی سی سی ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کو کام مکمل ہونے سے پہلے ختم کرنے کے خلاف ہے۔ اطلاعات کے مطابق خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کو صرف وقتی سیزفائر نہیں چاہیے بلکہ ایرانی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرات کے خلاف دفاعی تعاون اور تحفظ کی بھی ضرورت ہے۔ کونسل کا کہنا تھا کہ خطے کو علاقائی سکیورٹی کی ضمانت چاہیے۔ امارات پالیسی سینٹر کے صدر ابتسام الکربی کا کہنا تھا کہ اصل چیلنج ایران کو جنگ روکنے پر آمادہ کرنا نہیں بلکہ خطے کو ایران سے پیدا ہونے والے آئیندہ خطرات سے پائیدار تحفظ فراہم کرنا ہے۔
خلیج تعاون کونسل کی طرف سے ایسے کسی مطالبے کو امریکہ کوئی واضح ضمانت دیے بغیر نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اس کونسل میں عمان، بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں۔ ایران نے حالیہ تنازعہ کے دوران ان تمام ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور قابل ذکر نقصان پہنچایا ہے۔ عرب ممالک نے اگرچہ ان حملوں کے جواب میں کارروائی سے گریز کیا ہے لیکن ایرانی طرز عمل نے ان ممالک کو اپنے مستقبل میں سلامتی اور خود مختاری کے حوالے سے تشویش میں ضرور مبتلا کیا ہے۔ اس دوران میڈیا پر میامی کی ایک تقریب میں صدر ٹرمپ کی ایک تقریر پر بہت واویلا ہورہا ہے جس میں انہوں نے خود کو امریکہ کا عظیم ترین صدر ثابت کرنے کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں استہزائیہ اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ وہ اگرچہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ ایم بی ایس نے ان سے کہا کہ ’میں نے ایک سال ہی میں امریکہ کی شکل تبدیل کردی۔ ایک تن مردہ میں جان ڈال دی‘۔ اس پر انہوں نے گرہ لگائی کہ اگر (سعودی عرب کو ایرانی میزائلوں کا سامنا نہ ہوتا ) تو وہ کبھی میری ایسی چاپلوسی نہ کرتے۔ یہ فقرہ البتہ انگریزی کے ایسے فقرے میں ادا کیا گیا جس سے اہانت اور بے توقیری کا پہلو نکلتا ہے۔ اسی لیے پوری دنیا میں اس پر توجہ مبذول ہوئی اور اسے ٹرمپ کی بے باکانہ اور حیرت انگیز گفتگو کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو تمام سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ تاہم ایسی فقرے بازی ایران کے خلاف جنگ کے وسییع تر تناظر کو تبدیل نہیں کرسکے گی۔ سعودی عرب اور امریکہ وہی مؤقف اختیار کریں گے جو انہیں اپنے قومی مفادات کے قریب دکھائی دے گا۔
سعودی عرب ، پاکستان کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے پورے عمل سے آگاہ ہے ۔ پاکستانی کے لیڈروں نے ہر لمحے سعودی لیڈروں کو اعتماد میں لیا ہے۔ سعودی عرب شاید جنگ بندی کا شدید مخالف بھی نہیں ہے ورنہ ریاض کی طرف سے کبھی ثالثی کے حوالے سے پاکستانی کردار کی حوصلہ افزائی نہ کی جاتی۔ تاہم لگتا ہے کہ سعودی لیڈر جنگ بندی سے پہلے امریکہ کے علاوہ ایران سے بھی کچھ ضمانتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ اگرچہ موجوہ رجیم کے تحت امن حاصل کرلینے والا ایران زخم خورہ ہوگا اور وہ مستقبل قریب میں عرب ممالک کی سکیورٹی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی بیشتر عرب ممالک یہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے جنگ بند کرانے سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہے۔ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو امریکہ کے حملوں کا جواب دینے کے لیے ایران عرب ممالک کو ہی نشانہ بنائے گا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز بند ہونے سے بھی زیادہ نقصان عرب ممالک ہی اٹھا رہے ہیں۔ جن کا بیشتر تیل اسی آبی گزرگاہ سے گزر کر عالمی منڈیوں میں پہنچتا ہے۔
اب سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اپنے ترک اور مصری ہم منصبوں کے ساتھ پاکستانی لیڈروں سے ایران ڈیل پر بات چیت کے لیے دو روز کے لیے اسلام آباد آرہے ہیں۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں سعودی عرب کی شرکت سے بھی یہی اندازہ ہونا چاہئے کہ سعودی عرب ایران کے خلاف جلد جنگ بندی کا حامی ہے تاہم اس حوالے سے اپنے مفادات کی حفاظت کا خواہاں ہے۔ آئیندہ دو روز کے دوران اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں واضح کریں گی کہ جنگ بندی کی بیل کیسے منڈھے چڑھتی ہے۔