اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس
اسلام آباد میں خطے کی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے حوالے سے اہم اجلاس شروع ہأا ہے۔ اس میں پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور باہمی مفادات کے معاملات پر مشاورت کریں گے۔ خیال رہے پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بات کی بھی تصدیق ہو چکی ہے کہ امریکہ کا 15 نکاتی مجوزہ امن منصوبہ اسلام آباد کے ذریعے تہران بھیجا گیا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کیلئے اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس اہم سمجھا جارہا ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں چار فریقی مذاکرات جاری ہیں ۔
اس سے قبل سعودی وزیر خارجہ بھی چار فریقی اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان پہنچے تھے۔ سعودی وزیر خارجہ خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے نور خان ائیر بیس پہنچے۔سعودی وزیر خارجہ فرحان بن فیصل کا دورہ مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے پیش نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں جمہوریہ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فدان اور مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر اہم مشاورت کی۔ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان سے ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور مضبوط تعلقات کو اجاگر کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے روابط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں، انہوں نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاک ترک وزرائے خارجہ نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا، دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فریقین نے ایران کی موجودہ صورتحال سمیت دیگر اہم پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور مسلسل سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔
قبل ازیں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے وزارت خارجہ آمد پر مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کا خیرمقدم کیا، دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا۔انہوں نے حالیہ اعلیٰ سطح تبادلوں، بالخصوص نومبر 2025 میں مصر کے وزیرِ خارجہ کے دورہ پاکستان کے بعد مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، انہوں نے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔