امریکہ، ایران جنگ اور جغرافیے کا انتقام
- تحریر خالد محمود رسول
- اتوار 29 / مارچ / 2026
امریکہ اسرائیل کی شروع کی گئی ایران جنگ کو ایک ماہ ہونے کو ہے۔ امریکہ فخریہ بتا رہا ہے کہ نیوی، فضائیہ سمیت ایران کا دفاع زمیں بوس کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل ہزاروں ٹارگٹس پر آٹھ ہزار ٹن سے زائد بارود پھینک چکا۔
جواب میں ایران نے امریکہ کے اڈوں سمیت اسرائیل پر حملے کیے۔ مشرق وسطی ممالک بھی زد میں ہیں۔ حزب اللہ نے ایران کا ساتھ دیا تو اسرائیل نے لبنان میں چڑھائی کر دی۔ کل یمن کے حوثی بھی شامل جنگ ہو چکے۔ اس دوران جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان ، ترکیہ اور مصر متحرک ہیں۔ دیکھیں اب کیا ظہور ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے اٹھنے والا بارود کا یہ دھواں اب صرف علاقائی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی اور عالمی سیاست کے ہر اس دعوے کو جھلسا رہا ہے جو ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں میں "مہذب دنیا" کے نام پر تراشے تھے۔
غزہ کے ملبے سے لے کر بیروت کے مضافات اور تہران کے اعصاب تک، ایک ایسی آگ لگی ہے جس نے جدید جنگی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی قوانین کے تمام تر بھرم توڑ دیے ہیں۔ اس وقت جب ہم ڈیجیٹل دنیا اور مصنوعی ذہانت کے دور میں جی رہے ہیں، جہاں فاصلے سمٹ چکے ہیں اور جنگیں بٹن دبانے سے لڑی جا رہی ہیں۔ ایک قدیم سچائی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ وہ سچائی جسے معروف مصنف رابرٹ کیپلان نے بارہ سال قبل شائع اپنی مشہور زمانہ کتاب "جغرافیے کا انتقام" میں واضح کرنے کی کوشش کی ۔
اس تحریر میں حالیہ جنگ کے ممکنہ نتائج و عواقب کو رابرٹ کیپلان کے خیالات سے جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ایک عجیب سی رعونت نے جنم لیا ہے۔ طاقتور ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس موجود سیٹلائٹ، ڈرونز اور مہلک ترین میزائل سسٹم زمینی حقائق کو من مانی شکل میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسرائیل کی ٹیکنالوجیکل برتری اور امریکہ کی بے پناہ فائر پاور کو دیکھ کر بظاہر یہی لگتا ہے کہ نقشے اب بند کمروں میں بیٹھ کر بدلے جا سکتے ہیں۔ لیکن تاریخ کے جھروکوں سے جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نقشے کاغذ پر نہیں، پہاڑوں، دریاؤں اور سمندروں کی کوکھ میں بنتے ہیں۔ کیپلان کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ انسان چاہے جتنی بھی ترقی کر لے، وہ اس جغرافیائی جبر سے آزاد نہیں ہو سکتا جو قدرت نے اس کے ارد گرد کھڑا کر دیا ہے۔
ایران کی مثال لیں جو حالیہ کشیدگی میں مرکزی محور ہے۔ مبصرین اسے محض ایک سیاسی یا نظریاتی جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اس کے پسِ پردہ وہ "فطری قلعہ" ہے جسے سطح مرتفع ایران کہا جاتا ہے۔ زاگرس اور البرز کے بلند و بالا پہاڑوں نے ایران کو ایک ایسی اسٹریجک ڈیپتھ عطا کی ہے جو اسے ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بنا دیتی ہے۔ جدید ترین فضائی قوت بھی ان پہاڑوں کے سینے میں چھپی سرنگوں اور قدرتی رکاوٹوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب تہران سے کوئی بیان آتا ہے، تو اس میں وہ اعتماد جھلکتا ہے جو صدیوں پرانے جغرافیے نے اسے بخشا ہے۔ ایران جانتا ہے کہ وہ ایک ایسی زمین پر بیٹھا ہے جو حملہ آوروں کے لیے ہمیشہ ایک ڈراؤنا خواب رہی ہے۔ اسی جغرافیائی طاقت کا شاہکار "آبنائے ہرمز" کی صورت میں موجود ہے۔ یہ محض ایک آبی گزرگاہ نہیں، بلکہ وہ تزویراتی شہ رگ ہے جہاں ایران کا جغرافیائی غلبہ پوری دنیا کی سانسیں روکے ہوئے ہے۔ عالمی توانائی کا بڑا حصہ اسی تنگ راستے سے گزرتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں ٹیکنالوجی کی رعونت اور فائر پاور کی برتری زمین کی ایک قدرتی لکیر کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ یہ شہ رگ دبی ہے تو اس کی گھٹن واشنگٹن سے بیجنگ تک محسوس کی گئی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ تزویراتی وزن صرف ایٹمی ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ زمین کی حساس رگوں پر گرفت میں ہوتا ہے۔
دوسری طرف اسرائیل کی صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے اسرائیل ایک ایسی تنگ ساحلی پٹی پر واقع ہے، جہاں "تزویراتی گہرائی" نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ اس کا کل رقبہ اتنا کم ہے کہ کسی بھی بڑے میزائل حملے یا دراندازی کی صورت میں اس کے پاس پسپائی کے لیے کوئی جگہ نہیں بچتی۔ یہی وہ جغرافیائی مجبوری ہے جو اسرائیل کے اندر ایک "محصور ذہنیت" پیدا کرتی ہے۔ جب آپ کے پاس پیچھے ہٹنے کی جگہ نہ ہو، تو آپ کا ردِعمل غیر متناسب طور پر وحشیانہ ہو جاتا ہے۔ اسرائیل کی موجودہ جارحیت اور نئی قبضہ گیری کی کوششیں دراصل اس کے اسی جغرافیائی خوف کا اظہار ہے، جہاں وہ اپنے دفاع کی لکیر اپنے گھر کے بجائے اپنے پڑوسیوں کے صحن میں کھینچنا چاہتا ہے۔
آج کا ورلڈ آرڈر ایک کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور نئی قبضہ گیری محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ اس عالمی ڈھانچے کی نفی ہے جو دوسری جنگِ عظیم کی راکھ سے اٹھا تھا۔ دنیا نے اس عظیم جنگ سے جو سبق سیکھے تھے کہ طاقت کے بل بوتے پر سرحدیں نہیں بدلی جائیں گی، وہ آج مٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر عالمی برادری نے اسرائیل کی اس بے لگام ہوسِ ملک گیری پر آواز بلند نہ کی، تو انسانیت وہ تمام حاصلات ضائع کر دے گی جو بڑی قربانیوں کے بعد نصیب ہوئے تھے۔
دنیا تیزی سے ایک خطرناک موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکہ اور یورپ اسرائیل کی جس طرح اندھی حمایت کر رہے ہیں، وہ ان کی اپنی عالمی ساکھ کو بھسم کر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو نئی ابھرتی ہوئی طاقتیں بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی ہیں۔ بیجنگ سے ماسکو تک، نئی قوتیں اس منظرنامے کا مشاہدہ کر رہی ہیں کہ کس طرح پرانی سپر پاورز اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کی دھجیاں اڑا رہی ہیں۔
آنے والے سالوں میں فیصلہ ٹیکنالوجی یا پروپیگنڈا نہیں بلکہ زمین کی ساخت کرے گی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آپ فضا سے بمباری کر کے شہر تو تباہ کر سکتے ہیں، لیکن پہاڑوں کے اس پار موجود اثر و رسوخ کو ختم نہیں کر سکتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہتھیار بدل جاتے ہیں، لیکن پہاڑ، دریا اور سمندر وہیں رہتے ہیں۔ ایران کے پہاڑ، لبنان کی وادیاں اور اسرائیل کی تنگ ساحلی پٹی وہ مستقل حقائق ہیں جنہیں نظر انداز کر کے کوئی بھی تزویراتی منصوبہ بندی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
حتمی فیصلہ جغرافیے کے اسی جبر کے تحت ہوگا جو آج بھی خاموشی سے اپنا کام کر رہا ہے۔ زمین بولتی ہے، اور جب وہ بولتی ہے تو پھر فضائی برتری اور ڈیجیٹل نقشے سب ہیچ ثابت ہوتے ہیں۔ فاتح وہی ہوگا جو زمین کے ساتھ جینا سیکھے گا، نہ کہ وہ جو زمین کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی ضد میں خود کو خاک کر بیٹھے گا۔
مشرقِ وسطیٰ کے وہ ممالک جنہیں ہم آج شام، عراق یا لبنان کے نام سے جانتے ہیں، درحقیقت "مصنوعی سرحدوں" کا شکار ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد استعماری طاقتوں نے قلم سے جو لکیریں کھینچی تھیں، وہ زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتی تھیں (سائیکس-پیکو معاہدہ)۔ ان ریاستوں میں وہ قدرتی مرکزیت موجود نہیں تھی جو ایران یا مصر کے پاس ہے۔ آج لبنان سے لے کر عراق تک جو اثر و رسوخ ہمیں نظر آتا ہے، وہ دراصل اسی جغرافیائی خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش ہے جو استعماری نقشوں نے پیدا کیا تھا۔