بھینس کی کامیاب ثالثی

بعض بھولے بھالے افراد سوچ رہے ہیں کہ دو بڑے چودھریوں کی لڑائی ہو رہی ہو تو ایک معاشی اور سیاسی طور پر کمزور فرد کیسے ان کی ثالثی کر سکتا ہے۔ ثالث کے لیے تو اتنا طاقتور ہونا ضروری ہوتا ہے کہ سب فریق اس کی بات ماننے پر خود کو مجبور پائیں۔

دیکھیں بات کچھ یوں ہے کہ بسا اوقات دونوں چودھریوں کو علم ہوتا ہے کہ اب وہ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں، جتنا لڑیں گے اتنا ہی نقصان ہو گا۔ لیکن ایسے ہی صلح کرنے سے مونچھ نیچی ہوتی ہے، اس سے زیادہ نقصان ہو گا، علاقے میں عزت جاتی رہے گی اور مستقل طعنہ بن جائے گا۔ تو ایسے میں کیا حل ہوتا ہے؟ حل ہوتا ہے کہ کوئی بھی ثالث، چاہے جیسا بھی ہو، طاقتور ہو یا کمزور، ذہین ہو یا بھوندو، زندہ ہو یا مردہ، تلاش کرکے سرپنچ بنا کر بٹھا دیا جائے۔ بس یہ خیال رکھا جائے کہ اس میں اتنی عقل ضرور ہو کہ اس سے چودھریوں کے اپنے خلاف فیصلہ سرزد نہ ہو جائے۔ پھر ماجرا وہی ہوتا ہے جو ایک قدیم روایت میں بیان کیا گیا ہے۔

ایک ایسے ہی معصوم سے شخص کو ایک جھگڑے میں قاضی بنا کر بٹھا دیا گیا۔ پہلے فریق نے اپنی بات بیان کی۔ اس کی بات سن کر قاضی سر ہلا کر کہنے لگا ”کہتے تو تم بالکل ٹھیک ہو“ ۔ یہ سن کر دوسرا فریق تڑپ اٹھا، اس نے فوراً اپنا موقف پیش کیا۔ اسے سن کر قاضی بہت متاثر ہو کر بولا ”تم بالکل ٹھیک کہتے ہو“ ۔ یہ سن کر وہاں موجود ایک شخص تڑپے بغیر بولا ”قاضی صاحب، یہ دونوں ایک ہی وقت میں کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں، ایک شمال کی بات کر رہا ہے اور دوسرا جنوب کی، ان میں سے ایک ہی ٹھیک ہو گا نا؟“ قاضی صاحب نے قائل ہو کر فرمایا  ”کہتے تو تم بھی ٹھیک ہو“ ۔ تو صاحبو، سب ٹھیک ماننے والے بندے ملنا مشکل ہوتا ہے، لیکن گوہر شناس ایسے نگینے تلاش کر ہی لیتے ہیں۔

ایسے مجبوری میں ثالث مقرر کرکے اس کے فیصلے پر سر جھکانے کی ایک لوک روایت بھی ہمارے ہاں موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک بہت ناز نخروں والی لڑکی دوسرے گاؤں بیاہ کر پیا دیس سدھاری، تو اس کی کسی سے نہیں بنی۔ کبھی ساس سے ناراض ہو کر میکے پہنچ جاتی اور کبھی نند سے جھگڑ کر۔ وہ دونوں موقع نہ دیتیں تو اپنے میاں سے روٹھ کر میکے چلی جاتی۔ پہلے پہل وہ سسرال والوں کی ہزار منت خوشامد کے بعد واپس لوٹتی۔ کچھ مدت بعد بہو نے سسرالی عاجز آ گئے اور انہوں نے برادری والوں کو بیچ میں ڈالنا مناسب سمجھا۔ پھر بہو روٹھ کر میکے جاتی تو پنچایتیں بیٹھتیں، دونوں خاندانوں کے بزرگ اکٹھے ہوتے، اور سمجھا بجھا کر بہو کو واپس لانے کی کوشش کی جاتی۔ وہ سب سے منتیں کروانے کے بعد اپنے سسرال پر احسان دھر کر واپس ہوتی۔

پر آخر تابکہ، ہر شے کی ہر حد ہوتی ہے، ہر کمال کو زوال ہوتا ہے، نخرے اٹھاتے اٹھاتے ہر ایک کی بس ہو جاتی ہے، تو ایک دن ایسا ہی ہوا۔ بہو صاحبہ روٹھ کر میکے گئیں اور اگلے دن تیار ہو کر بیٹھ گئیں کہ ساس صاحبہ منانے آتی ہوں گی۔ ہفتہ گزر گیا، وہ نہیں آئیں۔ پھر بہو صاحبہ نے اپنی نند سے امید باندھی کہ ہر وقت وہ میری خدمتیں کرتی تھی، اسے میری یاد تو ستا رہی ہو گی، وہ آئے گی ہی آئے گی۔ ہفتہ اور گزر گیا اور نند نے صورت نہیں دکھائی۔ پھر حسینہ نے اپنے میاں سے امید باندھی کہ جوان جہان بندہ ہے، پہلی پہلی شادی ہے، اس کے تو دن رات مجھ بن تڑپ تڑپ کر گزر رہے ہوں گے، رات بھر کباب سیخ کی مانند کروٹیں ہر سو بدلتا ہو گا، ایک پہلو جل اٹھتا ہو گا تو دوسرا بدلتا ہو گا، وہ تو آتا ہی ہو گا۔ مہینہ گزر گیا، میاں صاحب سیخ پر ہی لگے رہے، حسینہ کو منانے نہ آئے۔

اب خود بہو صاحبہ کی بس ہو گئی۔ ایک دن وہ میاں صاحب کے گاؤں کے باہر خود پہنچ گئیں۔ شام ڈھلے کا وقت تھا، ڈھور ڈنگر خوب سیر ہو کر اب واپس گھر جانے کو تیار تھے۔ بہو صاحبہ نے اپنے میاں کی بھینس کو تاڑا، اس کی دم پکڑی اور اس کے پیچھے پیچھے میاں کے گھر پہنچ گئیں۔ وہاں پہنچتے ہی فرمانے لگیں ”یہ نگوڑی بھینس میرے پیر پڑ کر واپس لے آئی، ورنہ میں تو آنے کی نہیں تھی“ ۔

راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد بہو صاحبہ کبھِی روٹھ کر اپنے میکے نہیں گئیں اور پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ یوں ایک بے زبان بھینس کی ثالثی نے وہ پرانا جھگڑا نمٹا دیا جو نمٹانے میں دونوں گاؤں کے چرب زبان سیانے ناکام رہے تھے۔ تو صاحبو، کبھی کبھی بھینس کی ثالثی، بلوانوں کی ثالثی سے زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)