ایران سے معاہدہ کے بارے میں ٹرمپ کے ملے جلے اشارے
صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران مطالبات ماننے کے قریب ہے۔ مگر امریکی حکام زمینی کارروائی کا امکان بھی مسترد نہیں کررہے۔ خطے میں اس وقت ہزاروں امریکی میرینز موجود ہیں، جبکہ خصوصی دستے اور پیرا ٹروپرز بھی پہنچ رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ صدر جزیرہ خارگ پر زمینی کارروائی یا یورینیئم ضبط کرنے کے آپریشنز زیرغور ہیں۔
گزشتہ رات ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ مواد (جوہری) حوالے کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے پاس ’ملک ہی نہیں بچے گا۔‘
دوسری طرف ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ٹرمپ مذاکرات کی بات کو زمینی حملے کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ایران سرینڈر قبول نہیں کرے گا اور اس کے جوان امریکی فوجیوں کے انتظار میں ہیں۔‘
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ بالواسطہ اور براہ راست بات چیت کر رہا ہے۔ ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اشارہ کیا کہ بذریعہ پاکستان ایران کو پیغامات بھیجے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایران نے 10 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی اور اس بار اس نے 20 بڑے تیل بردار جہاز ’بطور تحفہ‘ اور ’احتراماً‘ گزرنے کی اجازت دی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم مذاکرات میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ لیکن آپ ایران پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ ہم ان سے بات چیت کرتے ہیں مگر ساتھ انہیں نشانہ بھی بنانا پڑتا ہے، چاہے بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ہو یا جوہری معاہدے کا خاتمہ۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ایرانی حکومت نے پاکستانی پرچم کے تحت چلنے والے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے گزشتہ روز ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کے بعد کہا تھا کہ ایران اور امریکہ، دونوں نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات میں سہولت کاری پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت فراہم کرنے پر فخر محسوس کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ایران یا امریکہ میں سے کسی نے بھی یہ تصدیق کی ہے کہ وہ امن مذاکرات میں شرکت کریں گے۔