امریکہ افزودہ ایرانی یورینیم پر قبضہ کے لیے فوجی کارروائی کرسکتا ہے: وال اسٹریٹ جرنل

  • سوموار 30 / مارچ / 2026

وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ایران سے ایک ہزار پاؤنڈ وزنی یورینیئم نکالنے کے لیے فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں نام ظاہر کیے بغیر سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس آپریشن میں امریکی فوج کئی دنوں یا طویل عرصے تک ایران میں رہ سکتی ہے۔

ٹرمپ نے تاحال اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا مگر وہ اس پر غور کر رہے ہیں کیونکہ اس سے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کا مرکزی ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خطے میں تعینات فوجی دستوں کو اصفہان میں جوہری تنصیبات پر موجود افزودہ یورینیئم حاصل کرنے کے مشن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن انہیں جزیرہ خارگ یا آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اس ماہ کے اوائل میں رپورٹ کیا تھا کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اصفہان کے پہاڑ کے اندر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے مواد رکھا گیا ہے جسے ضبط کرکے تباہ کرنے کے امریکی آپریشن پر ٹرمپ غور کر رہے ہیں۔ دونوں اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ ایسا کوئی بھی آپریشن انتہائی پیچیدہ اور خطرات سے بھرپور ہوگا۔

دوسری طرف ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اہم فوجی شاخ خاتم الانبیا فورس کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت یا زمینی حملے کا نتیجہ امریکی فوجیوں کی ذلت آمیز قید کی صورت میں نکلے گا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کئی بار ایران کے خلاف زمینی کارروائی اور خلیج فارس کے جزائر پر قبضے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو امریکی فوجیوں اور کمانڈروں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور ان کی پالیسیوں نے امریکا، یورپ اور ایشیا سمیت دنیا کے کئی خطوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے ٹرمپ کو غیر مستحکم اور ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

ابراہیم ذوالفقاری نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر اسرائیلی دباؤ میں کام کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔