سرکش ٹرمپ کا علاج؟

امریکی عوام کافی عرصے سے اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بیزار نظر آ رہے تھے۔ لیکن 28 مارچ کو یہ بیزاری ایک ملک گیر عوامی بغاوت میں تبدیل ہو گئی ۔ ایک ہی دن امریکا کے درجنوں شہروں میں لاکھوں افراد گو ٹرمپ گو کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ۔

وہ ٹرمپ جنہوں نے مارچ 2026 کے آغاز میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا اور ایران کے عوام سے کہا کہ وہ رجیم چینج کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں، صرف چار ہفتوں کے اندر امریکی عوام ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ ٹرمپ کے خلاف اس عوامی بغاوت کی سب سے بڑی وجہ ایران کے خلاف اُن کی جنگ ہے جس نے امریکی عوام کو بھی معاشی جھٹکے دینے شروع کر دئیے ہیں ۔ عام امریکیوں میں ٹرمپ کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے ٹرمپ نے دوسری مرتبہ صدر بننے کیلئے اپنے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکا کو نئی جنگوں میں نہیں دھکیلیں گے ۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں ایسا کوئی کارنامہ نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے عوام انہیں دوسری مرتبہ صدر بناتے لیکن اینٹی وار سلوگن کے ذریعے انہوں نے امریکیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور پھر ’امریکا فرسٹ‘ کے نعرے کی بنیاد پر غیر قانونی طور امریکا میں داخل ہونے والوں کو واپس بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ امریکا دوسرے ممالک میں جا کر جنگوں پر کھربوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔ وہ نہ صرف جنگیں بند کرکے کھربوں ڈالر بچائیں گے بلکہ غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والوں کو نکال کر امریکیوں کیلئے روزگار پیدا کریں گے ۔ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد غیر ملکی باشندوں کے خلاف مہم تو شروع کی لیکن نئی جنگیں نہ شروع کرنے کے وعدے کی دھجیاں اڑا دیں ۔

ٹرمپ نے دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد شام ، نائیجریا ، صومالیہ، عراق اور یمن پر بمباری کرائی ۔ ونیزویلا پر حملہ کیا اور گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش ظاہر کرکے یورپ کو بھی ناراض کر لیا ۔ 2025  میں ایران پر حملہ کیا اور اعلان کر دیا کہ ہم نے ایران کا نیوکلیئر پروگرام ختم کر دیا ہے ۔ 2026  میں ایران پر ایک اور حملہ کیا اور کہا کہ حملے کا مقصد رجیم چینج کے ساتھ ساتھ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا ہے ۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں رجیم چینج ہو جائے گا اور جس طرح ونیزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد امریکی کمپنیوں نے ونیزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا ہے تو ایران میں بھی ایسا ہی ہو گا ۔

ایران کے معاملے پر ٹرمپ کے تمام اندازے غلط نکلے ۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرکے پوری دنیا میں تیل کا بحران پیدا کر دیا ۔ جیسے جیسے یہ جنگ لمبی ہوتی گئی، ٹرمپ کے خلاف عوام میں بیزاری نے نفرت کا رنگ اختیار کرنا شروع کر دیا ۔ یورپی ممالک نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ۔ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکا کے فوجی اڈوں پر حملے شروع کر دیئے جس کے باعث امریکا کی بطور ایک سپر پاور ساکھ بھی ختم ہو گئی ۔ امریکا کے آرتھوڈاکس یہودیوں نے بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ایران کے خلاف جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا اور امریکی میڈیا پر ایسے تبصرے سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو بلیک میل کرکے ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس میں امریکا کا کوئی مفاد نہیں۔ سب سے زیادہ تنقید اس معاملے پر ہوئی کہ 2025  میں ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم کر دی ۔ 2026 میں ایران پر دوسری مرتبہ حملہ کرنے کے بعد دوبارہ یہ کیوں کہا گیا کہ ہم ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم کرنا چاہتے ہیں؟

کیا ٹرمپ نے 2025 میں جو دعویٰ کیا تھا وہ جھوٹ تھا ؟ ٹرمپ کی اپنی ہی پارٹی کے کئی سینیٹرز نے اعتراض کیا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکا نے ایک اور جنگ کیسے شروع کردی ؟ ہفتہ کو امریکا کے تمام بڑے شہروں میں ٹرمپ کے خلاف مظاہروں میں یہ نعرہ بھی لگایا گیا کہ ہمیں امریکا میں بادشاہت نہیں چاہئے ۔ ٹرمپ کے خلاف ان مظاہروں میں ٹرمپ کو جھوٹا قرار دیا گیا ۔ بہت سے بینرز پر ٹرمپ کو ایک پاگل شخص لکھا گیا۔ یہ بینرز دیکھ کر مجھے امریکا کی ایک معروف ماہر نفسیات بینڈی لی کی کتاب یاد آگئی ۔ بینڈی نے 2017 میں امریکا کے 27 ماہرین نفسیات کی مدد سے THE DANGEROUS CASE OF TRUMP کے نام سے ایک کتاب شائع کی تھی جس میں ٹرمپ کی کئی نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں کا تجزیہ کیا گیا ۔ اس کتاب میں بتایا گیا کہ ٹرمپ سے قبل بھی امریکا کے کئی صدور کو ذہنی بیماریاں لاحق تھیں۔ ابراہم لنکن ڈپریشن کے مریض تھے- لنڈن جانسن کو بائی پولر ڈس آرڈر کا عارضہ لاحق تھا ۔ رونالڈ ریگن کو بھول جانے کی بیماری تھی۔ رچرڈ نکسن جھوٹ بہت بولتے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی نفسیاتی اور اعصابی بیماریاں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ امریکا کے صدر بننے کے اہل نہیں۔ اس کتاب میں نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر جمیز گیلی گان نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ٹرمپ صرف اپنے لئے نہیں دوسروں کیلئے زیادہ خطرناک ہیں ، وہ صدر بن گئے تو چند سیکنڈز میں اتنے بندے مار دیں گے جتنے کسی ڈکٹیٹر نے اپنے کئی سالہ دورِ اقتدار میں بھی نہ مارے ہوں گے ۔

اس کتاب پر امریکی میڈیا میں بڑی بحث ہوئی اور ٹرمپ کی ذہنی حالت کو امریکا کیلئے خطرہ قرار دیا گیا ۔ اسے جمہوریت کی خصوصیت کہیں یا خامی کہیں کہ ووٹرز کی اکثریت نے ماہرین نفسیات کی وارننگ کو نظر انداز کرکے ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب کروا دیا ۔ اب ان ماہرین نفسیات کی وارننگ امریکیوں کو دوبارہ یاد آنے لگی ہے ۔ جذباتی ہیجان اور خود پسندی کے شکار ٹرمپ گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ کہنے لگے ہیں۔ وہ ایک ہی تقریر میں کبھی سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا الفاظ بولتے ہیں اگلے ہی لمحے ان کی تعریف شروع کر دیتے ہیں۔ ٹرمپ صرف دشمنوں کیلئےہی نہیں دوستوں کیلئے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔ وہ امریکی عوام سے کئے گئے سب وعدے بھی بھول چکے ہیں ۔ اس وعدہ خلافی پر عوام اُن کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔ جمہوریت میں سڑکوں پر نکل کر نعرے لگانا تو جائز ہے لیکن نعروں سے حکومت تو نہیں بدلتی ۔

ٹرمپ کو اقتدار سے نکالنے کیلئے اُن کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے اور یہ فیصلہ کا نگریس نے کرنا ہے ۔ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ معروف امریکی اسکالر نوم چومسکی نے بہت سال پہلے ایک کتاب لکھی تھی جس کا اُردو ترجمہ ’’سرکش ریاستیں‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا ۔ اس کتاب میں چومسکی نے لکھا تھا کہ امریکی حکومت ایران ، عراق اور شمالی کوریا کو سرکش ریاستیں قرار دیتی ہے لیکن حقیقت میں دنیا کی سب بڑی سرکش ریاست خود امریکا ہے جو کسی بین الاقوامی قانون کو نہیں مانتی۔ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات نے چومسکی کو سچا ثابت کر دیا ہے ۔ اب اس سرکش ریاست کے ذہنی مریض صدر کا علاج کون کرے گا ؟

یہ کام کوئی دوسرا نہیں خود امریکی کانگریس ہی کر سکتی ہے کیونکہ امریکی قانون میں سرکش صدر کا علاج موجود ہے۔  کانگریس کو ایک سرکش صدر سے جمہوریت بھی بچانی ہے اور امریکا بھی بچانا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)