ٹرمپ کا دھمکی آمیز لب و لہجہ اور بے چینی

آبنائے ہرمز کی بندش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعصاب کا امتحان ثابت ہورہی ہے۔ وہ کسی بھی قیمت پر اسے کھلوانے کے لیے بے چین ہیں لیکن سفارتی طریقہ کار کے لئے صبر و تحمل دکھانے میں بھی ناکام ہورہے ہیں۔ وہ بار بار ایران کو تباہ کرنے، اس کی توانائی کے مراکز پر  حملے کرنے،  جزیرہ خرگ کو نیست و نابود کرنے اور تیل کے کنوؤں کو ناکارہ بنانے کا اعلان کرتے ہیں۔

تاہم اس کے  ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ بات چیت کامیابی سے جاری ہے اور جلد ہی کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔ امریکی صدر نے آج   سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’ امریکہ، ایران میں ایک نئی اور زیادہ مناسب حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے‘۔ تاہم اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح اور قابل تصدیق اشارے موجود نہیں ہیں۔ دریں اثنا  امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی نامہ نگار کیتلین ڈورنبوس نے دعویٰ کیاہے کہ صدر ٹرمپ نے انہیں بتایا ہے کہ امریکہ، ایران میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد  باقر غالیباف کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک ہفتے تک پتہ چل جائے گا کہ کیا یہ رابطہ کاری کامیاب ہوتی ہے۔

ان دعوؤں کے بارے میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں بات کی ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ یہ رابطہ ناکام بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم ابھی تک ایرانی ذرائع سے  موصول ہونے والی معلومات کے مطابق   ایران کو جنگ بندی کے لیے امریکہ کی تجاویز پاکستان کے ذریعے موصول ہوئی ہیں۔ امریکہ نے ان تجاویز کو عام نہیں کیا لیکن میڈیا میں اس حوالے سے قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔ بیشتر مبصرین کی رائے میں یہ تجاویز  شکست قبول کرنے اور ہتھیار پھینکنے کی دستاویز جیسی ہیں۔ کوئی ایرانی لیڈر انہیں قبول نہیں کرسکتا۔  اگر صدر ٹرمپ کے نمائیندے تہران میں پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف سے رابطے میں ہیں یا انہیں اقتدار میں لانے کے خواہش مند ہیں تو ایران سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق   ایسی کوئی بھی کوشش شدید مزاحمت کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ امریکہ کی تائید سے کسی ایک لیڈر کو ایران کا  ’حکمران ‘ بنانے  کی کوئی بھی کارروائی متعلقہ لیڈر کے سیاسی کردار کے خاتمے یا موت پر  منتج ہوسکتی ہے۔ اس کا اعتراف  صدر ٹرمپ خود بھی کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بار بار سوال پوچھنے پر  یہ اصرار تو کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کررہا ہے لیکن ان لیڈروں کا نام لینے سے گریز کیا  جن سے امریکہ رابطے میں ہے۔  ان کے مطابق  نام بتانے سے  متعلقہ فرد کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

  دوسری طرف ایک امریکی اخبار کی نامہ نگار صدر ٹرمپ کے حوالے سے ہی یہ خبر دے رہی ہے کہ دراصل  باقر قالیباف امریکہ کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ نے یہ نام کسی نامہ نگار کو بتایا ہے تو کیا وہ جان بوجھ کر تہران میں امریکہ کے   ’رابطے‘ کی زندگی یا بھروسہ خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ یا وہ  ’فیک نیوز‘ پھیلا کر باقر قالیباف جیسے لیڈر کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے خواہش مند ہیں کیوں کہ انہیں اندیشہ ہے کہ وہ شاید امریکہ کے ساتھ معاہدے میں رکاوٹ بنیں۔ واضح رہے قالیباف کا پاسداران انقلاب   سے گہرا تعلق رہا ہے اور ایرانی سیاست دانوں میں انہیں انتہاپسند گروہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔  یہ امر بھی قابل غور ہونا چاہئے کہ  جس لیڈر پر بھروسہ کرکے امریکہ کوئی معاہدہ کرنا چاہتا ہے ، کیا وہ اس قدر  ’خوفزدہ‘ ہوسکتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ رابطوں کو چھپا نے کی ضرورت محسوس کرے لیکن اس کے ساتھ ہی اتنا طاقت ور بھی ہو کہ جامع اور تہ دار ایرانی پاور اسٹرکچر  میں اپنا حکم صادر کرسکے۔ ایسا مرتبہ اصولی طور سے صرف رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای ہی کو حاصل ہے لیکن وہ منظر نامہ سے غائب ہیں۔ اور امریکی صدر اور وزیر خارجہ ان  کے مؤثر ہونے کے بارے میں شبہات پیدا کررہے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان   رابطہ کاری کا واحد معلوم ذریعہ حکومت پاکستان ہے۔ پاکستانی  ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق  ڈار نے گزشتہ روز چار مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کی۔ ان میں ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور وہ خود شامل تھے۔  ان ملاقاتوں کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہؤا جس سے یہ شبہ کیا جارہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ان چاروں ممالک میں بھی مکمل اتفاق  رائے نہیں ہے۔ خاص طور سے سعودی حکومت کے بارے میں ایسے شبہات ظاہر کیے جارہے ہیں جس کے بارے میں امریکی میڈیا یہ خبریں پھیلاتا رہاہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان  نے امریکہ کو ایران پر  حملے  کے لیے آمادہ کیا تھا اور اب وہ چاہتے ہیں  کہ  امریکہ ’کام پورا کئے بغیر‘ ایران  پر حملے بند نہ کرے۔ تاہم کوئی بھی ملک یا  لیڈر  اس کام کی  نوعیت کی نشان دہی نہیں کرسکتا جس کے بعد ایران ’نیوٹرل اور قابل قبول ‘ ہوجائے گا۔   حالات کے تناظر میں یہ سمجھنا قرین قیاس ہوگا کہ ایرانی حکومت قائم رہے گی اور جنگ کے خاتمے پر ایران آبنائے ہرمز پر اپنا تسلط منوا  لے گی اور وہاں سے گرزرنے والے جہازوں کو محصول دینے کا پابند کیا جائے گا۔

اس وقت تک   جس ملک کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے  جنگ بندی کی مزاحمت کررہا ہے، وہ متحدہ عرب امارات ہوسکتا ہے۔ یو اے ای نے اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور پاکستان و ترکیہ کی طرف سے امن کی کوششوں میں بھی اس نے کوئی خاص دلچسپی  نہیں دکھائی۔ دوسری  طرف ایرانی ذرائع متنبہ کرتے رہے ہیں کہ ایرانی جزائر  پر حملوں کے لیے (جن میں تیل کی برآمدات میں کلیدی اہمیت کا حامل  جزیرہ خرگ بھی شامل ہے) متحدہ عرب امارات امریکی فوج کی سہولت کاری کررہا ہے ۔ ایران کے مطابق یو اے ای کو ایسے کردار کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔  امریکہ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے 6 اپریل تک مؤخر کیے ہوئے ہیں۔ اب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر اس تاریخ تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو وہ ایران  پر ’قیامت‘ برپا کردیں گے۔ لیکن ان دھمکیوں میں وہ یہ وضاحت کرنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ان کا کم از کم مطالبہ کیا ہے ۔  یہ بھی واضح نہیں ہے کہ  امریکہ  ایسامعاہدہ براہ راست  ایران میں اپنے رابطوں کے ساتھ کرے گا یا پاکستان کے ذریعے  ہونے والی مفاہمت کی کوششوں میں کوئی راستہ نکالا جائے گا۔ البتہ ٹرمپ کی شعلہ بیانی پاکستان سمیت   معاہدے کی کوشش کرنے والے تمام  ممالک  کے لیے مشکلات اور الجھن کا سبب بن رہی ہے۔  تند و تیز بیانات کے جلو میں سفارتی ذرائع سے جنگ بندی اور امن معاہدے کا راستہ نکالنا آسان  کام نہیں۔

ٹرمپ نے کوئی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں جو دعوے کیے ہیں ، ان کے مطابق   ایران میں اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے امریکہ ایک نئی اور زیادہ مناسب حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پیش رفت بہترین ہو رہی ہے۔  تاہم انہوں نے دھمکی دی  کہ ’اگر کسی وجہ سے معاہدے میں تاخیر ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز کھولی نہیں جاتی تو ہم ایران میں اپنی موجودگی کا اختتام ان کے برقی توانائی کے تمام پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور خارگ آئی لینڈ کو مکمل طور پر تباہ کر کے کریں گے۔  ایران سے جاتے جاتے ممکنہ طور پر ایران میں کھارے پانی کو قابل استعمال بنانے والے تمام پلانٹس بھی اڑا دیے جائیں گے، جنہیں دانستہ طور پر ابھی چھوا تک نہیں ہے‘۔

دیکھا جاسکتا ہے کہ جو جنگ ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے،  تہران حکومت گرانے،  ایران کی عسکری طاقت ملیامیٹ کرنے کے  لیے شروع کی  گئی تھی ، وہ اب آبنائے ہرمز کھولنے اور اس بارے میں ایران کے ساتھ کسی ’باعزت ‘ سمجھوتہ کی شدید خواہش   میں تبدیل ہوچکی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ  ٹرمپ  ایران کو تباہ کرنے  کے بارے میں اپنی دھمکیوں پر عمل کرپائیں گے تاہم اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو دنیا طویل عرصہ تک تیل کے بحران اور مشرق وسطیٰ شدید تنازعہ کا شکار  رہےگا۔ امریکی فوج تو تباہی کے بعد وہاں سے نکل جائے گی لیکن اس خطے کے سب ممالک  کو وہیں ایک دوسرے  کے ساتھ رہنا ہوگا۔

ان حالات میں  امن کے لیے کوئی مناسب معاہدہ سب کے مفاد میں ہوگا۔ ایران کو بھی تمام جوش و ولولے کے باوجود بپھری ہوئی عالمی قوت امریکہ کو  اس مشکل سےباہر نکلنے کا کوئی راستہ دینا چاہئے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے سب ممالک کو بھی یہ مان لینا چاہئے کہ ایران اس جغرافیے کا حصہ ہے اور انہیں اس کے ساتھ ہی زندہ رہنا  ہے۔ اس سلسلہ میں پاکستان اور دیگر دوست  ممالک  کی کوششیں قابل قدر ہیں اور سب کو مل کر انہیں ایک موقع دینا چاہئے۔