ٹرمپ جنگ بندی کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کی شرط سے پیچھے ہٹ گئے

  • منگل 31 / مارچ / 2026

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے خبر دی ہے کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود ایران کے خلاف فوجی مہم ختم کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ وہ زیادہ وقت کے لیے س آبی راستے کی بندش قبول کرسکتے ہیں۔

اس دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے الجزیرہ کو دیے جانے والے ایک بیان  میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کسی نہ کسی طرح دوبارہ کھول ہی دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب امریکہ اپنے مقاصد حاصل کر لے گا اور اگر ایران اب بھی آبنائے ہرمز کو بند رکھتا ہے ’تو اسے حقیقی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، نہ صرف امریکہ کی طرف سے بلکہ خطے کے دیگر ممالک اور دنیا کی جانب سے بھی۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے ایک رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی مہم ختم کرنے کے لیے تیار ہیں چاہے آبنائے ہرمز بند ہی کیوں نہ رہے۔

رپورٹ میں انتظامیہ کے اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ صدر اور ان کے معاونین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو زبردستی کھولنے کی کوشش جنگ کو ان کے طے شدہ چار سے چھ ہفتے کے شیڈول سے آگے بڑھا دے گی۔

اس کے بجائے وہ موجودہ لڑائی کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں جس میں ایران کی نیوی اور میزائل ذخائر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اور ایران پر سفارتی دباؤ جاری رکھیں گے تاکہ تجارتی سرگرمیوں کا دوبارہ سے آغاز ہو سکے۔